مجھے تقدیر کچھ ایسی عطا کر

مجھے تقدیر کچھ ایسی عطا کر


مجھے تقدیر کچھ ایسی عطا کر

ترا ہو جاؤں میں سر جھکا کر

گناہوں  کو میں  دھونے پر بھی آؤں

مرے مولا کبھی آنسو بہا کر

کھڑا ہوں موت کی دہلیز پر میں

تھکا ہارا مگر خود کو لٹا کر

میں چھپ چھپ کر خطا کرتا  رہا ہوں

مجھے رسوا نہ اے میرے خدا کر

تیری بخشش سے کیا ہوتا نہیں ہے

تری رحمت میں رکھ مجھ کو چھپا کر

بہت بے خوف ہو کر دن گزارے

تمناؤں کو سینے سے لگا کر

مرا باطن، مرا ظاہر الگ ہے

مٹا مجھ کو کسی کی خاکِ پا کر

ترے آگے ہے سب کچھ آشکارا

گراتا ہے مجھے  کیوں آزما کر

یہی  ایک  آرزو حیدرؔ ہی ہے

کہ میں روؤں گڑگڑا کر

حیدرمظہری بلاری


Post a comment

0 Comments