میرادل میری جاں تو مدینے میں ہے

میرادل میری جاں تو مدینے میں ہے


میرادل میری جاں تو مدینے میں ہے

لطف کیا دور آقا اسے جینے میں


عطروعنبر کی سانسیں مہکنے لگیں

ایسی مہکار ان کے پسینے میں  ہے


لب پہ نام نبی ہے میں دریامیں ہوں

اور طوفان میرے سفینے میں ہے


دست یزداں کی انگشتری میں ہے جو

روحِ پیغمبری اس نگینے میں ہے


غیرممکن ہے حافظ بھلانا انہیں

یاد آقا کی دل بن کے سینے میں ہے

 

 

حافظ کرناٹکی

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے