حضرت علی کی نعت گوئی

حضرت علی کی نعت گوئی

ڈاکٹر ابو سفیان اصلاحی۔ بھارت


حضرت علی  کی نعت گوئی


حضرت علی  کے فضائل ومناقب سے کتابیں مملؤہیں، مختلف خصوصیات کے ساتھ آپ زبان وبیان اور فصاحت وبلاغت کے اعتبار سے نمایاں حیثیت کے حامل تھے، جس کی پرورش سایۂ نبوت میں ہوئی ہو اس کے انداز تکلم اور قرینۂ بیان کا کیا پوچھنا؟ ’’نہج البلاغہ‘‘ کا حرف حرف، لفظ لفظ آپ کے علمی علو مرتبت اور شگفتگیٔ تحریر پر دال ہے، امتیاز علی عرشی نے نہج البلاغہ کے استنادپر مدلل گفتگو کی ہے لیکن اس کے باوجود الحاق سے کلی انکار ممکن نہیں، کچھ محققین اسے حضرت علیص کی تحریر مانتے ہی نہیں جودیانت کے منافی ہے، یہ کتاب خزینۂ حکمت ہے، اس کا سب سے امتیازی پہلو یہ ہے کہ اس میں قرآنیات کا ایک قابلِ قدرحصہ ہے اور بہت سی آیات کریمہ کی تفسیر بیان کی گئی ہے، اگر اسے علاحدہ شائع کردیا جائے تو ایک بڑا علمی کام ہوگا، حضرت علیص کی ذات گرامی کا ایک دوسرا بین پہلو ’’دیوان علی‘‘ہے، یہی دونوں چیزیں دیگر صحابہ کرام سے وجہ اِمتیاز بنی ہوئی ہیں، یہاں صرف اشارہ کرنا کافی ہوگا کہ اس کا بہت ساحصہ الحاقی ہے، بعض صحابۂ کرام کے متعلق جوزبان استعمال کی گئی ہے وہ حضرت علیص سے ہر گز ممکن نہ تھی، آپ جس وقار اور سکینت وزینت کے حامل تھے اس سے اس کا صدور مستبعد تھا، ویسے دیوانِ علیص کی متعدد محاسن ہیں، ایک تو مختلف مراثی اور مدائح سے آںحضورﷺ کی اعلیٰ شخصیت کی تصویرکشی کی گئی ہے،آپ نے اپنی عقیدت ومحبت کا اظہار کیا ہے، مقام نبوت کی تشریح کی گئی ہے، دشمنانِ نبوت کے اخروی نتائج پر روشنی ڈالی گئی ہے، حضرت ابوطالب،حضرت خدیجہ، حضرت فاطمہ،حضرت ابوبکر، حضرت عمراور حضرت عثمان کی خوبیاں بھی بیان کی گئی ہیں، اہلِ بیت کے اعزاز واکرام کو منظرِ عام پرلا نے کی سعی کی گئی ہے، کئی قصائد میں حضرت حسن اور حسین کو تلقین بھی کی گئی ہے، متعدد قصائد میں اللہ سے داد رسی بھی کی گئی ہے، تقویٰ اور للّٰہیت پر زور دیاگیاہے، علم وفن کی برتری بیان کی گئی ہے، حضرت علیص نے متعددمقامات پر اپنی اعلیٰ نسبی پر افتخار جتایاہے، آپ کی اعلیٰ حسبی پر کسے کلام ہوسکتاہے؟ لیکن انداز سے مترشح ہے کہ افتخارواظہار کایہ طرز حضرت علیص کا نہیں ہوسکتا، بہت سی جنگوں پر اظہار خیال کیا گیا ہے، دیوانِ حضرت علیص کے اور بھی بہت سے نکات بیان کیے جاسکتے ہیں، لیکن اس مضمون میں صرف آپ کی نعت گوئی موضوع بحث ہے۔


بے شمار ایسی احادیث ہیں جن سے ظاہر ہے کہ حضرت علیص کو آپ سے حددرجہ عقیدت تھی اس والہانہ عقیدت میں نسبی اور دینی دونوں جذبات کا رفرما تھے، اسی طرح آپ بھی آپ کو بے پناہ چاہتے تھے، دونوں طرف تھی آگ برابر لگی ہوئی، انھیں پورا یقین تھا کہ دین مصطفیﷺ کے بغیر تہذیب وتمدن کا تصور نہیں۔
مـن لم یـؤدبہ دیـن الـمصطفـٰی أدبـاً
محضاً تحیّر فی الأ حوال واضطربا
(اگر دین مصطفی کسی کو مؤدب نہ بنا سکے تو وہ (پریشان کن) احوال میں سر گرداںاور مضطرب رہے گا)
حضرت علیص کی محبت و عقیدت کا مظہر اس مرثیہ میں دیکھا جاسکتا ہے جو آپ نے روضہ انور کی زیارت کے بعد کہا ہے ، اس میں کمالِ محبت کا دریاموج زن ہے۔
ماغاض دمعی عند نا ئبۃ
الاجعلتک للبکاء سبباً
(مصیبت کے وقت میرے آنسور کنے کو نہ تھے، کیوںکہ میں نے آپ (کی وفات) کو وجہِ گریہ بنا لیاتھا)
وإذا ذکرتُـک سـامحتک بہ
منی الجفونُ ففاضا وانسکبا
(اور جب بھی میں نے تم کو یاد کیا تو میری پلکوں نے تجھ پر آنسو نچھاور کیے، حتیٰ کہ آنسو کے پرنالے بہہ پڑے)
إنی أجـلّ ثـریً حـللت بہ
عن أن أُریٰ لسواہ مکتئبا
(آپ جس مٹی میں قیام پزیرہیں وہ میرے نزدیک جلیل القدر ہے، آج میں خلقِ خدا میں افسردہ ہوں)
مذکورہ اشعار سے حضرت علیص کے اندرونی جذبات اور آپ سے قلبی تعلق کو سمجھاجاسکتا ہے، بالکل ابتدا میں یہ خیال ظاہر کیا گیا کہ دینِ مصطفی کی اتباع و اقتدا کے بغیر تہذیب کا تصور ممکن نہیں اور اب یہ بتایا جارہاہے کہ آپ کی تکذیب کرنے والوں کی جھولی میں ناکامی و نامرادی کے سواکچھ نہ ہوگا۔
خسرتم بتکذ یبکم للرسول
تعیبون مـا لـیـس بالـعـائـب
(اللہ کے رسولﷺ کی تکذیب کی وجہ سے تم خسارہ میں رہے، تم لوگ اس ذات (اقدس) کو عیب لگاتے ہوجوبے عیب ہے)
وکذبتموہ بوحی السماء
الالعنۃ اللّٰہ عـلی الکاذب
(وحی آسمانی کے تعلق سے تم لوگوں نے اس کی تکذیب کی، ایسے کا ذبین پر اللہ کی لعنت ہو)


اسی استہزا اور تکذیب کی ایک تصویر سورہ ’’تبّت‘‘ میں اتاری گئی ہے، جس میں ابولہب اور اس کی بیوی کی ذہنیت اور ان کے اخروی نتائج بیان کیے گئے ہیں، مولانا حمیدالدین فراہی نے اپنی تفسیر ’’نظام القرآن‘‘ میں اس کی بہترین تفسیر بیان کی ہے، دیگر مفسرین سے الگ راہ نکالی ہے، اسی سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے ایک مقالہ میں مولانا عبدالسلام ندوی نے مولانا فراہیؒ کے اسی نقطئہ نظر کو بیان کیا ہے، یہاں ’’تبّ ید‘‘ سے ہاتھ ٹوٹنا نہیں بلکہ بے دست وپا ہونا مراد ہے، یہی مفہوم حضرت علیص کے اس احساس میں موجودہے۔
أبـالــہـب تـبـت یـد اک ابـا لــہــب
وصخرۃ بنت الحرب حمالۃ الحطب
(اے ابولہب! تمھارے دونوں ہاتھ ناکارہ ہوگئے اور حرب کی بیٹی صخرہ لکڑیاں اُٹھانے والی ہوگی)
خـذ لـت نـبـی الـلّٰـہ قـاطعۃ رحمہ
فکنت کمن باع السلامۃ بالعطب
(تونے نبی خدا کے رشتہ سے خود کو منقطع کرکے رسوائی مول لی، تمھاری مثال اس خریدار کی سی ہے جس نے سلامتی کے عوض ہلاکت مول لی ہے)
قرآن کریم نے ان لوگوں کونادان اور ناسمجھ قراردیا ہے جنھوں نے دعوتِ رسول پر لبیک نہیں کہا، اسی حضرت علیص نے آپ کے ان اعزاء کو بھی ناکام و نامراد قرار دیا ہے جنھوںنے آپ کی ناقدری کی، حضرت علیص نے ہمیشہ آپ کے وقار اور آپ سے اپنے رشتے کو ملحوظ رکھا، اسی تعلق کا اظہار آپ نے اس انداز میں کیا ہے۔
نفسی علی زفراتھا محبوسۃ
یالیتھا خرجت مع الزفـرات
(میری جان اپنی ہچکیوں میں مقید ہے، اے کاش! یہ انھی ہچکیوں کے ساتھ دم توڑدیتی)
لاخیر بعدک فی الحیاۃ وإنما
أبکی فـخافۃ أن یـطول حـیاتی


(آپ کے بعد زندگی بے کیف ہے اور مجھے محض اندیشہ اس بات کا ہے کہ کہیں یہ زندگی طول نہ پکڑجائے)
اس مرثیہ سے واضح ہے کہ آپ کے انتقال کے بعد آپ کس قدر غموں سے چورتھے، زندگی اتنی گراں باراور اس قدر پھیکی تھی کہ اس سے عاجزآ چکے تھے اور زندگی کا ہرلمحہ گلے کی پھانس بنا ہواتھا، زندگی ایسا تاریک ہوئی کہ طول حیات کا اندیشہ ساتھ ساتھ رواں رہا، ایک دوسرے مرثیہ میں اپنے درد و کرب کے اظہار کے ساتھ ساتھ رسول اللہﷺ سے اپنے اخلاص اور غیرمعمولی عقیدت کو پیش کیا ہے:
ألا طرق الناعی بلیل فراعنی
وأرقـنی لـما اسـتہـل منادیاً
(کیا منظر تھا جب (آپ کی موت) کی خبر دینے والے نے خبر دی تو مجھ پر خوف طاری ہو گیا اور منادی کی پہلی آواز نے میری نیند اُڑا دی)
فقلت لہ لما رأیتُ الـذی أتـی
أغیررسول اللّٰہ أصبحت ناعیا
(میں نے خبر دینے والے کو دیکھتے ہی کہا کہ کیا تم رسول اللہﷺ کے علاوہ کسی کی موت کی خبر دینے والے ہو)
فحقق ما أشفقتُ منہ ولم یبل
وکان خلیلی عدتـی وجـمالیا
(جس بات کا مجھے اندیشہ تھا وہ سچ ثابت ہوئی اور اس خبر نے میری پروا نہ کی، یقینا وہ میرے گاڑھے دنوں کا مونس اور آرائش (حیات) تھا)
فواللّٰہ ما أنساک احمد ما مشت
بی العیسُ یوماً وجـاوزتُ وادیـا
(واللہ اے احمد !جب تک اونٹ مجھے لیے لیے پھرتے رہیں گے اور میں وادیوں کو طے کرتا رہوںگا تب تک یہ تمام چیزیں مجھے تم سے دُور نہیں کرسکتیں)
لبیک رسول اللّٰہ خیل مغیرۃ
تثیر غباراً کـالـضبـابـۃ کابـیا
(تیز گام گھوڑوں پر سواری کرنے والوں کو اللہ کے رسولﷺ (کے جانے ) پر اشک بار ہونا چاہیے، یہ وہ گھوڑے ہیں جو ابرہائے تیرہ کی مانند غبار اُڑاتے ہیں)
لبیک رسول اللّٰہ صف مـقدم
إذا کان ضربُ الہام نفقاً تفالیا
(صف مقدم کو چاہیے کہ اللہ کے رسول پر گریہ وزاری کریں، جس وقت کھوپڑیوں کے توڑنے اورپھوڑنے کا مسئلہ درپیش ہو)


مذکورہ مرثیہ میں کئی اشعار ہیں جس میں اس بات کی عکاسی کی گئی ہے کہ رحلت رسول ایک سنگین مسئلہ ہے جس نے حضرت علیص کو توڑ پھوڑ کر رکھدیا ہے، آپ کا کہنا ہے کہ میدانِ کا رزار کے سپاہیوں کو بھی اپنے فرائض سے قطعِ نظر کرتے ہوئے اس حادثہ عظیم پر رونے کی ضرورت ہے، یہ بھی صراحت کی گئی کہ یہ ذاتِ انورتاحیات ہمارے تصورات سے اوجھل نہیں ہوسکتی۔
اس دیوان میں ایک مرثیہ حضرت ابوطالب کی شان میں کہاگیاہے، آخری اشعار میں آپ کی عظمت ورفعت پر روشنی ڈالی گئی ہے، ان اشعار میں آپ کی منزلت اور قدرے حلیۂ مبارک کی ثناخوانی کی گئی ہے اور تصدیق نبوت کا اعلان کیا گیا ہے۔
وإلا فـإن الحـی دون محمد
بنوہا شم خیرالبر یۃ محتدا
(اور یہ حقیقت ہے کہ قبیلۂ بنوہاشم اللہ کے رسولﷺ کے نزدیک تمام مخلوق سے بہتر اور اصیل النسب ہے)
وإن لـہ فـیکـم مـن اللّٰہ نـاصـرا
ولستُ بلاق صاحب اللّٰہ أوحدا
(اور بیشک تمہارے اندر اللہ کی جانب سے اس کے مددگار ہیں اور میں حبیب خداکو زمانے میں تنہا دیکھنے والا نہیں ہوں)
نـبـی أتی مـن کل وحـی بخطۃ
فسماہُ ربی فی الکتاب محمدا
(یہ وہ نبی ہے جو ہر دحی کے ذریعہ ایک واضح پیغام لے کرآیا، پس رب ذوالجلال نے قرآن کریم میں اسے محمد سے یاد کیا)
أغرّ کضوء البدر صورۃُ وجھہ
جلی الغیم عـنہ ضـوئہ فـتوقـد
(آپ کا چہرۂ انور بدرِ کامل کی طرح روشن ہوا، اور بدرکامل کی ضیا پاشیوں نے اسی چہرۂ تاباں کی وجہ سے بادلوں کو روشن کیا تو وہ روشن ہوگئے)
ایک قصیدہ میں ایک طرف حضرت علیص اپنی اعلی نسبی پر فرحاں و شاداں ہیں تودوسری طرف یہ وضاحت کرنے کی سعی کی گئی ہے کہ ہمارے تمام عزووقار کا دارومدار ذاتِ رسولﷺ پر ہے، ہمارے گھروں کی عظمت کا یہ حال ہے کہ آپ کی وجہ سے حضرت جبرئیل علیہ السلام ہمارے گھروں کا چکر کاٹتے ہیں ، آپ کی ذات گرامی نے ہمیں تمام اقوام وملل سے اعلیٰ وافضل بنادیا۔
اللّٰہ اکر مـنا بنصر نبـیہ
وبنا أقام دعائم الإسلام


(اللہ نے ہمیں اپنے نبی کے معین ومدد گار ہونے کی وجہ سے اکرام و اعزاز دیا اور ہمارے تعلق سے اللہ نے اراکین اسلام کو بلندکیا)
وبـنـا أعـزّ نبـیہ وکـتابہ
وأعزّنا بالنصروالإقدام
(اور ہمارے ہی تعلق سے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریمﷺ اور کتاب حکیم کو استحکام بخشا اور دین اسلام کی مدد اور اس کے لیے برسرپیکار ہونے کی وجہ سے اللہ نے ہمیں تقویت عطاکی)
ویزورنا جـبریل وفی أبیاتنا
بفرائض الإ سلام والأحکام
(اورحضرت جبرئیل علیہ السلام فرائض اسلام اور (دینی) احکام کے ساتھ ہمارے گھروں کی زیارت کرتے رہتے ہیں)
نحن الخیار من البریۃ کلہا
ونظامہا و زمـام کل زمـام
(ہم لوگ تمام مخلوق سے برترہیں اور ہم خلق خداکے لیے رشتۂ پیوند ہیں اور ہر مہار کے لیے مہار ہیں)
دیوانِ علیص میں بے شمار ایسے اشعار ہیں جن کے تعلق سے اپنے حسب ونسب پر فخر کیا گیا ہے اور مختلف انداز میں اپنی خصوصیات کا ذکر کیا گیا ہے، اس طرح کے اشعار سے یہی پہلو سامنے آتا ہے کہ اظہارومباہات کا یہ طریقۂ کا رحضرت علیص کا نہیں ہو سکتا، آپ کے اتقا، زہد و ورع،منکسرالمزاجی اور دسیع القلبی سے یہ چیزیں میل نہیں کھاتیں، اسی طرح کے دو شعر ملاحظہ ہوں:
اَناعلی المرتجی دون العلم
مرتہن للحین موفٍ بالذمم
(میں علی ہوں جو بلندیٔ علم کے وقت مرکزِ امید ہوتاہے، یہی علی موت کے لیے سینہ سپر اور عہد و پیمان کو وفاکرنے والاہے)
انصرخیرالناس مجداً کَرَماً
نبی صدق راحماً وقدعـلم
(میں اس شخص کا مساعد ہوں جو تمام لوگوں میں مجدد شرافت کے اعتبار سے برتر ہے، نبی صادق اور کرم فرما ہے اور خوب جاننے والاہے)
إنـی سأ شفی صـدرہ وأنـتقم
فہو بدین اللّٰہ والحق معتصم
(یقینا میں عنقریب اس کے سینہ کے لیے باعث شفا ہوںگا اور (دشمنان رسولِ) سے انتقام لینے والاہوں اور آپ دینِ خدا اور حق کی پناہ لینے والے ہیں)
جنگِ خندق کے حوالہ سے بھی آںحضورﷺ کی ستائش کی گئی ہے اور رسولِ خدا کے توسط سے اپنی افضلیت ثابت کی گئی ہے۔



ومـحـمـد فـیـنا کأ ن جـبـینـہ
شمس تجلت من خلال غمام
(اور محمدﷺ ہم میں قیام فرماہیں، آپ کی پیشانی اس سورج کی مانند ہے جو بادلوں کے درمیاں شعاع ریز ہے)
واللّٰہ ناصـرُ دیـنہ ونبیہ
ومعین کل مؤحد مقدام
(اور اللہ تعالیٰ اپنے دین اور اپنے حبیبﷺ کا حامی وناصر ہے اور ہرعلم بردارِ تو حید کا معاون ہے)
شہدتُ قریش والقبائل کلّہا
أن لیس فـیہا مـن یقوم مـقـام
(قریش اور تمام قبائل کا متفقہ فیصلہ ہے کہ ان میں کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو اس کا قائم مقام بن سکے)
اُمتِ مسلمہ نے اللہ کے رسولﷺ کے تعلق سے چند ایسے خیالات وضع کیے ہیں جن کا دینِ اسلام اور شخصیتِ رسولﷺ سے کوئی یارانھیں ہے، اسی میں سے ایک آپ کی موت بھی ہے، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ آپ صرف پردہ فرماگئے ہیں، قبر میں زندہ ہیں، بعض حضرات نے تو قبر سے ہاتھ نکالنے تک کا ذکر کیا ہے، آپ کے انتقال کے وقت حضرت عمرص نے اپنے اضطراب کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ جس کسی نے یہ کہا کہ آپ کا انتقال ہوگیا ہے اس کی گردن اڑادوںگا، آپ کے اس انتہانی رنج و قلق کا علاج حضرت ابو بکرص کی دانشمندی ثابت ہوئی، حضرت عمرص کے جذبات کو قابوکرنے کے لیے اللہ کے رسولﷺ اور خلیفۂ اوّل نہایت مؤثر ثابت ہوئے، بہرکیف اللہ کے رسولﷺ کی موت کے تعلق سے قرآن کریم نے واضح طور سے اعلان کر دیا:
وما محمد الارسول قدخلت من قبلہ الرسل أفإن ماتأوقتل انقلبتم علی اعقابکم ومن نیقلب علی عقبیہ فلن یضراللہ شیئا وسیجزی اللہ الشا کرین۔(آل عمران: ۳/۱۴۴)


حضرت محمدﷺ صرف رسول ہی ہیں، ان سے پہلے بہت سے رسول ہوچکے ہیں، کیا اگر ان کا انتقال ہوجائے یا یہ شہید ہوجائیں تو تم اسلام سے اپنی ایڑیوں کے بل پھرجاؤ گے، اور جوکوئی پھرجائے اپنی ایڑیوں پر توہر گز اللہ کا کچھ نہ بگاڑے گا، عنقریب اللہ تعالیٰ شکر گزاروں کو نیک بدلہ دے گا۔
مذکورہ آیت کریمہ کی تفسیر میں مندرجہ اقتباس مناسب ہوگا۔


محمدﷺ صرف رسول ہی ہیں یعنی ان کا امتیاز صرف وصف رسالت ہی ہے، یہ نہیں کہ وہ بشری خصائص سے بالاتراور خدائی صفات سے متصف ہوں کہ انھیں موت سے دوچار نہ ہونا پڑے۔
جنگِ اُحد میں شکست کے اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی تھا کہ رسول اللہﷺ کے بارے میں کا فروں نے یہ افواہ اُڑا دی کہ محمدﷺ قتل کردیے گئے، مسلمانوں میں جب یہ خبر پھیلی تواس سے بعض مسلمانوں کے حوصلے پست ہوگئے اور لڑائی سے پیچھے ہٹ گئے، جس پر یہ آیت ناز ل ہوئی کہ نبی کا کافروں کے ہاتھوں قتل ہوجانا یا اس پر موت کا وارد ہونا کوئی نئی بات تو نہیں ہے، پچھلے انبیا بھی قتل اور موت سے ہم کنار ہوچکے ہیں، اگر آپ بھی (بالفرض) اس سے دوچار ہوجائیں، تو کیا تم اس دین ہی سے پھر جاؤگے، یاد رکھو جو پھرجائے گا وہ اپناہی نقصان کرے گا، اللہ کا کچھ نہیں بگاڑسکے گا، نبی کریمﷺ کے سانحۂ وفات کے وقت جب حضرت عمرص شدتِ جذبات میں وفاتِ نبوی کا انکار کررہے تھے تو حضرت ابو بکر صدیقص نے نہایت حکمت سے کام لیتے ہوئے قبرِرسول کے پہلو میں کھڑے ہوکر انھی آیات کی تلاوت کی جس سے حضرت عمرص بھی متأ ثر ہوئے اور انھیں محسوس ہواکہ یہ آیات ابھی ابھی اُتری ہیں۔‘‘ (تفسیر احسن البیان: دارالسلام،ریاض، ص:۲۰۲)
حضرت علیص نے اسی مفہوم کی ترجمانی اپنے دیوان میں کی ہے کہ اللہ نے اپنے رسول کو دائمی زندگی نہیں عطاکی ہے بلکہ عام انسانوں کی طرح آپ بھی اس دنیا سے تشریف لے گئے، آیت کریمہ ’’کل نفس ذائقۃ الموت‘‘کی ترجمانی آپ نے اس اسلوب میں کی ہے۔
کان الـنـبی ولـم یخلدلأمتہ
لوخلّد اللّٰہ خلقاً قبلہ خلدا
(نبیﷺ (پچھلے دنوں ہمارے درمیان) تھے، وہ اپنی امت کے درمیان ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں آئے تھے، اگر آپ سے قبل کسی خلق کو دوام عطا کیا گیا ہوتا توآپ کو ضرور دائمی زندگی عنایت کی جاتی)
لـلمو ت فینا سہام غیر خاطئۃ
من فاتہ الیوم سہم لم یفتہ غداً
(ہمارے لیے موت نے خطانہ کرنے والے تیر رکھ چھوڑے ہیں، اگر آج کوئی اس تیر سے بچ گیا تو کل وہ اس سے نہ بچ سکے گا)


حضرت علیص کے مذکورہ بالا دونوں شعر کی روشنی میں یہ بات یقینی طور پر کہی جاسکتی ہے کہ وہ اس خیال کے قائل تھے کہ عام انسانوں کی طرح اللہ کے رسولﷺ کی موت واقع ہوئی ہے، یہی نقطئہ نظر قرآن کریم اور اسلام کا بھی ہے۔
آگے دوشعرپر مشتمل ایک مرثیہ ہے جس کا پہلا شعر نہایت اہم ہے، اس میں حضرت علیص نے آپ کو اپنی آنکھ کی’’سیاہ پتلی‘‘(السوادلناظری)قرار دیا ہے، اس سے عشقِ رسولﷺ کی انتہا اور عقیدت کی حددرجہ غایت کو سمجھا جاسکتاہے، دونوں شعر میں عشق رسول متلاطم ہے۔
کـنت الـسوادَ لناظری
فـبکـی علیک الـناظر
(آپ میری آنکھ کی سیاہ پتلی تھے پس یہ آنکھیں آپ پر جوئے بار ہیں)
مـن شاء بعـدک فلیمت
فعـلیـک کـنت اُحـاذر
(اگر کوئی شخص آپ کے بعد زندگی کا طالب ہے تواس پر تف ہے، پس میں تو اسی چیز (موت) کا آپ کے باب میں خوف کھاتاتھا)
دیوانِ حضرت علیص میں ہجرتِ مدینہ کی بھی تصویر کشی کی گئی ہے سیرت کی کتابوں میں یہ واقعہ جلی حروف سے لکھا گیا ہے، یہ بات بھی معروف ہے کہ جب ہرطریقے سے نعوذباللہ آپ کے سر کو قلم کرنے کی تدبیر کی گئی تو اس رات اپنے بستر پر حضرت علیص کو سلا کرآپ غارِ حرا میں چلے گئے، یہ حضرت علیص کی اتنی بڑی قربانی ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیاجاسکتااسی قربانی کا ذکر اس قصیدے میں موجودہے۔
وقیت بنفسی خیر من وطیٔ الحصیٰ
ومن طاف بالبیت العتیق وبـالحجر
(میں نے اپنی جان کو (جو کھم میں) ڈال کر اس شخص کو بچایا جو سنگریزوں کو روندنے والوں، خانہ کعبہ کا طواف کرنے والوں اور حجراسود(کا بوسہ دینے والوں سے) بہترہے)۔
رسـول الـٰہ الـخـلـق إذامـکروابـہ
فنجاہ ذوالطول الکریم من المکر
(رسولﷺ کو جب اللہ کی مخلوق نے گھیر لیا تو اس گھر اؤسے اسے رب قدیر وکریم نے بچایا)


وبـتّ أراعــیہـم مـتـیٰ یـنشـرونـنـی
وقد وطّنت نفسی علی القتل والأسر
(اور میں پوری رات انھیں کی طرف دھیان لگائے ہوئے تھا، جب کہ انھوںنے میرے ہوش اڑاراکھے تھے اور میرے نفس کو (اپنے) قتل یا قید کا یقین ہو چلا تھا)
وبات رسول اللّٰہ فـی الـغـار آمنا
مؤقّیً وفی فظ الإ الٰہ وفی ستر
(اوراللہ کے رسولﷺ نے غار میں پُرسکون شب باشی کی، محفوظ رہے اور اللہ کی امان اور پردہ میں رہے)
اقـــام ثــلا ثــاً زمــت قــلائــص
قلائص یفرین الحصیٰ أینما یفری
(تین دن آپ کا قیام رہا، اس کے بعد اونٹ سواری کے لیے تیار کیے گئے، سوار یوں نے آنے والے ریگستانوں کو طے کیا)
اردتُ بــہ نـصـرالالـٰہ تـبـتـلا
واضمرتُہ حتی أُو سّدُ فی قبری
(دنیا کو تج کر آپ سے نصرت خدا وندی کا میں خواست گار ہوا، اور میںنے اسے دل نشیں کیا، یہاں تک کہ اس سے لیٹ کراپنی قبر میں سوگیا)
دیوانِ علیص میںایسے بے شمار اشعار ہیں جن میں حضرت علیؓ نے اپنے حسب و نسب کی افضلیت کا ذکر کیا ہے، حضرت ابوبکرص اور دیگر صحابۂ کرام کو مخاطب کرتے ہوئے اپنی اعلیٰ نسبی کی طرف اشارہ کیا ہے، اہلِ بیت کی بلند یوں کا بھی بار بار تذکرہ ہے اپنی دینی خدمات پر اظہار خیال کیا ہے، تمام قبائل اور دنیا کے دیگر لوگوںسے خود کو اعلیٰ وارفع قراردیا ہے، اس خیال اور اندازِبیان کی روشنی میں کہا جاسکتاہے کہ اس ادعا، تعلّی اور افتخار کی توقع حضرت علیؓ سے نہیں کی جاسکتی ، آںحضورﷺ سے آپ کی قربت اور رشتے کو کون نہیں جانتا،لیکن کیا حضرت علیص جیسے حلیم، بردبار، متقی اور متدین صحابی سے اس امتیاز کا گرداننا ممکن ہے؟ اس طرح کے چنداشعار ملاحظہ ہوں:
قد عـلمت خیبر أنی مرحب
شاکی السلاح، بطل، مجرب
(خیبر کو بخوبی معلوم ہے کہ میں مرحب ہوں، ہتھیار بند، بہادر اور تجربہ کار ہوں)


أنـا عـلی وابن عبد الـمطـلب
مہذب، ذوسطوۃ وذوغضب
(میں علی ہوں اور عبدالمطلب کا بیٹا ہوں، تہذیب یافتہ، صاحبِ قدرت اور حاملِ غیظ وغضب ہوں)
أنـاعـلی وابـن عـبد المطلـب
اخوالنبی المصطفی المنتخب
(میں علی ہوں اور عبدالمطلب کا بیٹاہوں، نبی مصطفی اور مرتضیٰﷺکابھائی ہوں)
أنـا عـلـی واعـلی الـنـاس فـی النـسب
بعد النبی الہا شمی المصطفی العرب
(میں علی ہوں اور بنی ہاشمی عربی مصطفیﷺ کے بعد حسب ونسب کے اعتبار سے تمام لوگوں سے برتر ہوں)
لقد علم الأ ناس بأن سہـمـی
من الإ سلام یفضل کل سہم
(تمام لوگوں کو بخوبی معلوم ہے کہ اسلامی روسے میرا حصہّ ہر حصّہ سے اعلیٰ وافضل ہے)
واحمد النبی أخی وصہری
علیہ اللّٰہ صـلـی وابـن عـمی
(اور نبی احمد میرے بھائی اور میری زوجہ کے والد محترم ہیں، اس پر اللہ کی جانب سے درودوسلام ہو، وہ میرا پسرِعم بھی ہیں)
حضرت امیر معاویہص کو ایک قصیدہ میں حضرت علیص نے نہایت عتاب انداز میں خطاب کیا ہے یہاں قبولِ اسلام میں اپنی اولیت اور انتساب وانتماء میں اپنی اعلیٰ منزلیت کابھی اظہار کیا ہے، مختلف حوالوں سے آپؓ نے اپنی رفعت نسب پر مہر تصدیق ثبت کی ہے۔
مـحمد النبی اخـی وصہری
وحمزۃ سید الشہداء عمی
(محمد نبیﷺ میرے بھائی اور میری زوجہ کے پدر ہیں اور سیّدالشہدا حضرت حمزہص میرے چچا ہیں)
وجعفرالذی یضحی ویمسی
یطـیرمع الملأ ئکۃ إبن عـمی
(اور جعفر کی ذات ایسی ہے جو ملائکہ کے ساتھ صبح و شام پر واز کرتی ہے، یہ میرا حقیقی بھائی ہے)
وبنتُ محمد سکنی وعـرسـی
مشوب لحمہا بدمی ولحمی
(اور دخترِ نبی میری تسکینِ خاطر ہے میری زوجہ ہے اور اس کا گوشت میرے خون اور میرے گوشت سے پیوست ہے)
وسبطـا احـمد ولد ای منہا
فمن منکم لہ سہم کسہمی
(اور احمد مصطفیﷺ کے دونوں نواسے اسی سے ہیں جو میرے بیٹے ہیں، پس تم میں کوئی ہے جس کا نصیبہ میرے نصیبہ جیسے ہو)


اس طرح کے ڈھیروں اشعار دیوانِ حضرت علیص میں موجود ہیں جو زبان وبیان اور فکر کے اعتبار سے حضرت علیص کے ہونے کی شہادت نہیں پیش کرتے، جس حضرت علیص نے ’’نہج البلا غہ‘‘ میں یہ کہا ہو کہ لوگوں میں اس طرح رہو کہ لوگ تم سے ملنے کی خواہش کریں اور مرو تو تمھارے جانے پر اظہار افسوس کریں، کیاوہ اس طرح اپنے حسب ونسب کو لے کر خلقِ خدا سے خود کو اعلیٰ و افضل قراردے سکتے ہیں، اس میں بہت سے ایسے اشعار ہیں جن کا مزاج حضرت علیص کے مزاج سے میل نہیں کھاتا، فکری اعتبار سے دیوانِ علی اور نہج البلاغہ میں اکثر مقامات پر تعا رض و تضادہے۔
دیوانِ حضرت علیص کے ایک طویل قصیدہ میں آپ کے حلیۂ مبارک کی تصویر کشی کی گئی ہے، اس میں محبت، صداقت، دیانت اور رصانت تیرتی ہوئی نظر آرہی ہے، زبان و بیان کا ایسا رچاؤ اور انداز واظہار میں ایسا بہاؤ ہے کہ نہ پوچھیے، پڑھتے ہوئے عجیب لذت وفرحت، حلیۂ مبارک سے انبساط و انشراح ایسا کہ دل میں صرف حلیۂ مبارک سے شیفتگی، باربار اسے پڑھنے اور اس کے آبشار میں نہانے کو جی چاہے، بات بھی سچ ہے کہ حضرت علیص سے بہتر کون ہے جو حلیۂ مقدس کی تصویر اُتارے:
قـرن الملاحۃُ طینُـہ
و الحسن صار قرینہ
(ملاحت آپ کی سرشت میں سمائی ہوئی ہے اور حسن آپ کا ساتھی ہے)
صلی علیہ الٰہنا
(ہمارے رب کی آپ پر رحمت نازل ہو)
صار القلوبُ جمالہ
شاع الأ فاق جلالـہ
(تمام قلوب آپ کے حسن کے شکار ہوئے، چار دانگ عالم میں آپ کا جلال نمایاںہے)
صلی علیہ الٰہنا
(ہمارے رب کی آپ پرعنایت ہو)
و الـبدرُ یـقـصر نورہ
إذا ما استبان ظہورہ
(جس وقت آپ کا ظہور نمایاں ہوا تو بدر کامل کا نور آپ کے سامنے پھیکا پڑگیا)
صلی علیہ الٰہنا
(آپ پراللہ کا درودوسلام ہو)
مربوعُ قـد کأ نہ
و اللّٰہ أعظم شانہ
(آپ کا قددرمیانہ تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کے مرتبہ کو بلند کردیا)
صلی علیہ الٰہنا
(ہمارے رب کی آپ پر کرم ہو)
کا الـلیل سودشـعـرہ
فاض العجائب بحرہ
(آپ کے بالوں کی سیاہی شب دیجور جیسی، آپ کے دریا میں فیضان عجائب ہے)
صلی علیہ الٰہنا
(آپ پر ہمارے پروردگار کی برکتیں ہوں)
قـدکان أزہـر لـونـہ
و ہو المبارک کونہ
(آپ کا رنگ، رنگ چمن اور آپ کا وجود باعث برکت تھا)
صلی علیہ الٰہنا
(آپ پر ہمارے رب کی مہربانیاں ہوں)
عظمت رؤوس عظامہ
کـبـرت وجوہ مـرامـہ
(آپ کے سرکی ہڈیاں عظیم تھیں، آپ کے مقاصد کی جہتیں بلند تھیں)
صلی علیہ الٰہنا
(آپ پر ہمارے رب کی دعائیں ہوں)
بالشعر زین صدرہ
لا کلـہ بـل صـدرہ
(آپ کا سینہ بالوں سے مزین تھا، پورا نہیں بلکہ درمیانی حصہ)
صلی علیہ الٰہنا
(ہمارے رب کی آپ پر نواز شیں ہوں)
عـیناہ صـار قـلوبنا
اللحظ صار طلوبنا
(آپ کی دونوں آنکھوں نے ہمارے دلوں کا شکار کیا، (آپ پر) ٹکٹکی باندھنا ہماری خواہش ہے)
صلی علیہ الٰہنا
(آپ پر ہمارے رب کی عقیدتوں کی پرسات ہو)
ایضاً بیاضہ قـدکمل
والحسن فیہ مشتمل
(آپ کی آنکھوں کی سپیدی درجۂ کمال پر تھی، اور اس میں حسن کی آرائش تھی)
صلی علیہ الٰہنا
(آپ پر ہمارے رب کی بہاروں کی آمدہو)
قدمـاہ ایضـاً وسـعـا
فی العرش لیلأ رفعا
(آپ کے دونوں قدموں کو فراخی عطا کی گئی، حتی کہ شبِ معراج میں عرش تک بلند کیے گئے)
صلی علیہ الٰہنا
(آپ پر ہمارے رب کی بارانِ رحمت ہو)
کالقوس کان حواجبہ
قدکان یـفرح خـاطبہ
(آپ کے ابروہائے مبارک کمان کی مانند تھے، آپ کا مخاطب آپ سے خوش ہوجاتاتھا)
والا نفُ حسنت ذاقہا
اقنـیٰ أشـم صـفـاتـھـا
(اور آپ کی ناک کس قدر پُرکشش تھی، بلند وباریک اور درازاس کی صفات تھیں)
صلی علیہ الٰہنا
(آپ پر ہمارے رب کی شفقتیں ہوں)
کمل المحاسنُ فی فمہ
مـلأ الـوریٰ بـمـکارمہ
(آپ کا دہانِ مبارک محاسن کے درجۂ عروج پر فائز تھا، خلق خداآپ کے اخلاقِ حسنہ سے فرحاں ہے)
صلی علیہ الٰہنا
(آپ پر ہمارے رب کی کرپاہو)
أسنانـہ قـد انـفـرج
والنور فیہا إ متزج
(آپ کے دندانہائے مبارک کشادہ تھے، اور ان میں نور کا آمیزہ تھا)
صلی علیہ الٰہنا
(آپ پر ہمارے رب کی محبتوں کا نزول ہو)
فاق الـخـلائـق جـیـدُہ
فی الحسن کان مزیدہ
(آپ کی خوب صورت صراحی جیسی گردن تمام خلائق (کی گردنوں ) پر فائق تھی، حسن وآرائش میں یہ بڑھی ہوئی تھی)
صلی علیہ الٰہنا
(آپ پر ہمارے رب کی رأفت ورحمت ہو)
کانت صفاء کفضۃ
فـیـہـا قـلائـد عـزۃ
(یہ حسین گردن جلائیت میں چاندی کی طرح تھی، اس میں ناموس وعزت کے قلادہ پڑے ہوئے تھے)
صلی علیہ الٰہنا
(آپ پر ہمارے اللہ کا فضل ہو)
قدکان خـلقہ یـعتـدل
والحسن فیہ مشتمل
(آپ کی جسامت میں اعتدال اور حسن کا اشتراک تھا)
لیس الہزالُ بو ضعہ
لاشحم فـیہ بـوصفـہ
(اپنی وضع وخلقت میں نہ ہی لا غراور اپنی صفت میں نہ ہی بھونڈی)
صلی علیہ الٰہنا
(آپ پر ہمارے رب کی دعائیں ہوں)
عن درک وصفہ جاہل
و یقصرفہمہ قـائـل
(اور مجھ جیسا جاہل آپ کے اوصاف سے نابلد اور اپنی قصورفہم کا قائل ہے)
صلی علیہ الٰہنا
(ہمارے رب کی جانب سے آپ پر پھول برسیں)
اللّٰہ یعلم شـانـہ
و ہو العلیم بیانہ
(اللہ آپ کے رتبے سے باخبر ہے اور وہی اس کے ذکر وفکر کو جانتاہے)
صلی علیہ الٰہنا
(آپ پر ہمارے رب کی نظر کرم ہو)
یاربِّ صحّح سقمہ
بالفضل دمّرجـرمـہ
(باراٰلٰہا ! اس(جاہل یعنی شاعر) کی خطاؤں کو معاف فرمادے اور اس کے جرم کو اپنے فضل وکرم سے بے نام ونشاں کردے)


صلی علیہ الٰہنا
(آپ پر ہمارے رب کی جانب سے ابر کرم نازل ہو)
حلیۂ مبارک سے متعلق یہ قصیدہ ستاون اشعار پر مشتمل ہے، جس میں آپ کے جسمِ اطہر کے مختلف اعضائے مقدسہ کی تصویرکشی کی گئی ہے، یہ تصاویر اتنی سچی اس قدر صادق اور منھ بولتی ہیں کہ نہ پوچھئے، نعتیہ لٹریچرمیں حلیہ مبارک کے تعلق سے تین تصاویر ہیں ایک تو احادیث کے تراجم پر مبنی ہے، دوسری تصویر متقدمین شعراء کرام کی نقالی پر مشتمل اور تیسری تصویر وہ ہے جو براہ راست پینٹ کی گئی ہے، اسی پینٹنگ کے زمرے میں یہ قصیدہ یعنی یہ پینٹنگ بھی شامل ہے، حضرت علیص سے بہتر کس کی پینٹنگ ہوسکتی ہے؟ آپ کے شب و روز، صبح وشام، حرکات و سکنات، نشست و برخاست، تدین تقویٰ اور جلوت وخلوت کو آپ تاحیات دیکھتے رہے، یہی وجہ ہے کہ اس تصویر کشی میں صداقت و دیانت کی بن کا ری ،اس کی لفظیات میں بڑی معنیٰ خیزی ہے، نیز تشبیہات وتعبیرات میں سلیقہ مندی ہے، آپ کے تنا سب اعضاء کے بیان میں حددرجہ رعایت کی گئی ہے، فصاحت وبلاغت کی نزاکتوں کو برتنے کی قابل ستائش کو شش ہے اور اس میں سلاست توایسی ہے کہ بہنے کوجی چاہے اور اس میں غوطہ زنی سے حیاتِ تازہ کی دولت ہاتھ آئے، بہر کیف اس نعت کو عربی کی اہم ترین نعتوں میں شامل کیاجاسکتاہے، اس منظوم حلیہ مبارک کو پڑھ کر۔۔۔ کا منثورحلیہ مبارک یادآئے یہ بھی براہ راست پینٹنگ کی ایک عمدہ مثال ہے۔
مذکورہ سطور میںدیوانِ حضرت علیص سے مختلف اشعار نقل کرتے ہوئے یہ بتانے کی ایک حقیر سعی کی گئی ہے کہ اس میں اللہ کے رسولﷺ کی کس طرزپرتقدیس وتطہیر کی گئی ہے، اس دیوان میں بہت سے الحاقات کے باوجود حضرت علیص کی آپ سے کیا عقیدت تھی اس کی ایک دستا ویز ضرور فراہم ہوتی ہے، اس کی دوچیزیں ایسی ہیں جس کو ذہن ودل کسی طرح قبول کرنے پر آمادہ نہیں، ایک تو تشیع کی آمیز ش جس کی وجہ سے صحابۂ کرام پر طنز و تعریض کیا گیا ہے، دوسرے باربار ’’أناعلی‘‘ کہہ کر حضرت علیص نے اپنے حسب و نسب، اہلِ بیت کی عظمت اور اپنی دینی خدمات کا ذکر کیاہے، یہ دونوں چیزیں حضرت علیص کے مزاج اور سوچ سے میل نہیں کھاتیں، اس دیوان کی الحاقی چیزیں حضرت علیص کی خوب صورت تصویر کو بگاڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گی، مناسب ہوتا کہ محققین اس کی چھان پھٹک کرتے اور حضرت علیص سے منسوب اشعار کی نشان دہی کرتے، اس دیوان میں مختلف جنگوں کا ذکر کرتے ہوئے بھی صحیح نقطئہ نظر نہیں اختیار کیا گیا ہے، اس میں ایک جگہ یہ بتایا گیا کہ اللہ کے رسولﷺ نے میرے سرپر عمامہ رکھتے ہوئے فرمایا کہ میرے بعد تم امامت کے حق دار ہو:
أخونبی اللّٰہ ذی العلامہ
قد قال إذعمّنی العمامہ
(میرے بھائی اللہ کے نبی اور صاحب علامتِ نبوت نے میرے سر پر عمامہ رکھتے ہوئے فرمایا)


أنت أخی ومعدن الکرامۃ
ومن لہ من بـعدی الإمامۃ
(تم میرے بھائی اور خزینۂ کر امت ہو، اور تم وہی شخص ہو جو میرے بعد امامت کا مستحق ہوگا)
اسی طرح یہ بات بھی ناقابل یقین ہے کہ حضرت علیص نے ان الفاظ میں حضرت ابوبکرص کو مخاطب کیا ہوگا۔
تعلم أبابکر ولا تک جاہلاً
بأن علیاً خـیرحـاف ونـاعـل
(اے ابوبکر تم جان لو اور جاہل نہ رہو کہ علی ہر برہنہ پا اور پاپوش شخص سے افضل ہے)
اس طرح کے بے شمار اشعار کی وجہ سے اعتماد کے ساتھ کہا جاسکتاہے کہ دیوانِ علیص کا ایک بڑا حصہ خود ساختہ ہے، بہر کیف اس دیوان میں بیشمار نعتیہ اشعار سے حبّ رسول فروزاں ہے، مندرجہ دونوں شعر وہی کہہ سکتاہے جس نے ذات اقدس واکمل کو مشعل حیات بنا رکھا ہو:
وہٰـذا رسول اللّٰہ کا لبدر بـیننا
بہ کشف اللّٰہ العدیٰ بالتناکس
(اور یہ اللہ کے رسولﷺ ہمارے مابین بدرِتاباں کے مثل ہیں، اور انھی کی بددلت اللہ نے (ہمارے) دشمنوںکو رسوا کرکے دورکیا)
حسبی اللّٰہ عصمۃ لأ موری
وحبیبی محمـداً لی خـلیلا
(میرے معاملات کی نگہداشت کے لیے اللہ کا فی ہے اور میرے محبوب محمدﷺ ہی مرے مخلص رازداں ہیں)


ان اشعار سے حضرت علیص کے دریائے نعت کی سچائیاں اور گہرائیاں ہویداہیں ، اسی طرح حلیہ مبارک پر مشتمل قصیدہ سے حضرت علیص کے آبدار نعتیہ اسلوب کا تجزیہ کیا جاسکتاہے، اگر دیوانِ علیص آمیزشوں سے پاک ہوتا تو زیادہ بہتر طریقے سے آپ کے نعتیہ مقام کا تعین ہوتا ، بہرنوع اس میں کلام نہیں کہ حضرت علیص ایک مستندادیب تھے جس کی شہادت شریف رضی نے ’’نہج البلاغہ‘‘ کو ترتیب دے کر اور شیخ محمد عبدہ نے اس کی تحقیق وتوضیح کرکے پیش کردی، اور امتیاز علی عرشی نے’’استنادنہج البلاغہ‘‘ جیسا وقیع مقالہ لکھ کر ثابت کردیا کہ ’’نہج البلاغہ‘‘ Fabricatedنہیں ہے، لیکن خاکسار کو یہ کہنے کی اجازت دی جائے کہ محترم امتیاز علی عرشی نے یہ گراں قدرمقالہ غالباًنواب رام پورکو خوش کرنے کے لیے تحریر کیا تھا، اس لیے خاکسار کے نزدیک ’’نہج البلاغہ‘‘ میں بہت سی تحریریں ایسی ہیں جن کا حضرت علیصسے کوئی تعلق نہیں ہے،’’استنادنہج البلاغہ‘‘ اتنا مؤقراور علمی مقالہ ہے کہ جسے مرحوم پروفیسر عبدالحلیم نے عربی میں منتقل کرکے معروف عربی مجلہ ’’ثقافۃ الہند‘‘ دہلی میں شائع کرایا، جس طرح حضرت علی ایک عظیم نثر نگار تھے اسی طرح ایک خوبصورت قادرا لکلام شاعر اور نعت گوبھی تھے، انھیں عربی کے اولین نعت گوشعراء میں بلندمقام دمرتبہ حاصل ہے، لیکن افسوس کہ مشہور عربی ادیب اور محقق زکی مبارک نے اپنی کتاب ’’المدائح النبو یۃ فی الادب العربی‘‘میں حضرت علیص کی نعت گوئی کو وہ اہمیت نہیں دی جس کے وہ مستحق تھے، آپ کے نام نامی کا ذکر تواس کتاب میں ہے لیکن کوئی شعر نقل نہیں کیا گیا۔
{٭}

Post a comment

0 Comments