فارسی ادب میں نعتیہ شاعری

فارسی ادب میں نعتیہ شاعری

پروفیسر سیّد شاہ محمد طلحہ رضوی برق۔ بھارت


فارسی ادب میں نعتیہ شاعری


وصف رخسارۂ خورشید ز خفاش مپرس
کہ دریں آئینہ صاحب نظر اں حیرانند
اقوامِ عالم کی تاریخ بنی نوع انسان کے عروج و زوال کی بصیرت افروز اور عبرت ناک تصویریں پیش کرتی ہے۔ ملتیں آتی اور گم ہوتی رہیں، حکومتیں بنتی اور بگڑتی رہیں، نہ خاقان چین رہے، نہ فراعنہ مصر، نہ قیصرِ روم نہ کسرای ایران۔ ان کی تہذیبیں، ان کی ثقافتیں، ان کے تمدن اور ان کی زبانیں اوراق پارینہ کی طرح مرور ایام کی نذر ہوتی گئیں۔ انسانوں کی طرح زبانوں کے بھی خاندان ہوتے ہیں، جیسے سامی، ہنداروپائی، ہند آریائی وغیرہ۔ مگر سبھی کل من علیھا فان کی زد پر ہیں۔
ہاں! بقولِ اقبال:
محمد بھی ترا، جبریل بھی، قرآن بھی تیرا
مگر یہ حرف شیریں ترجماں تیرا ہے یا میرا




قرآن مخلوق نہیں، اس پر خدائے قدوس کی ضمانت وانا لہ لحافظون، سبحان اللہ! ویبقیٰ وجہ ربک ذوالجلال والاکرام کتاب اللہ عربی زبان میں نازل ہوئی اور حبیب اللہ کی مدح و ستائش سے بھری آئی۔ اب اس قندیل عرش کی ضیاباریوں سے قلوب انسانی و لوایح لسانی کے جتنے بھی آئینہ خانے روشن و مستنیر ہوں، کرۂ ارضی کا چپہ چپہ ان سے جگمگاتا رہے گا۔
اس تمہید سے میری مراد صاحب لولاک صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح و ثنا اور ان کی نعتوں سے ہے جو دنیا کی بیشتر زبانوں میں رقم ہوتی رہیں بخصوص فارسی ادب میں۔ ہر زبان کا اپنا ایک ادب ہوتا ہے اور ادب دو حصوں میں منقسم ہے، نثر اور نظم۔ نعت رسولِ مقبول ادب منظوم ہے جس کی باضابطہ ابتدا عربی زبان میں ہوئی، وہ عربی زبان جسے اپنے سبعۂ معلقہ پر فخر و ناز تھا اور جس سے آنکھیں ملانے کی جرات دنیا کی کوئی زبان نہیں کرسکی۔ امیرالمومنین و خلیفۃ المسلمین ثانی حضرت عمر ابن الخطاب کے عہد میں جنگِ قادسیہ کی فتح نے ایران کو اسلام کے زیرنگیں کردیا۔ ایران پر اسلام کا غلبہ ہوا۔ ارجمند ترین تہذیب و ثقافت ایرانیہ نے عربی تمدن و معاشرت کے اثرات قبول کیے اور الناس علیٰ دین ملوکھم کے پیش نظر عجمی تہذیب و ثقافت ایک طرح کے احساسِ کم تری کا شکار ہوتی گئی۔ اتنا ہی نہیں مؤرخوں کا اہلِ عرب و اسلام پر ایک الزام یہ بھی ہے کہ فتحِ ایران کے بعد وہاں عجمی ادبیات کے ذخائر تباہ کردیے گئے۔ لہٰذا تقریباً دو سو سال تک ادبیات ایران کی نشوونما میں ایک خلا نظر آتا ہے، چوںکہ خلفائے بنواُمیہ کا سلوک ایرانیوں کے ساتھ اچھا نہیں رہا تھا۔ فارسی کا بڑا سرمایہ ایرانیوں کی خانہ جنگی اور پھر منگول و تیمور کے حملوں سے زیادہ تباہ و برباد ہوا۔
ادبیات فارسی کا احیاء اور باضابطہ آغازِ نو سامانیوں کے زیرسایہ ہوتا ہے۔ گویا تین سو سال کے وقفے سے تاریخِ ایران میں ایک سنہرے باب کا اضافہ ہوا۔ بقولِ جامی:
گزشت شوکت محمود و در قضیہ نماند
جز ایں قدر کہ ندانست قدر فردوسی




محمود کے جانشینوں نے سلجوقیوں سے شکست کھانے کے بعد غزنی کو خیرباد کہا اور لاہور کو اپنا دارالخلافہ بنایا۔ اس طرح فارسی شعر و ادب نے ایران سے ہندوستان کا رخ کیا۔
ادب میں یہ بات طے ہے کہ عمدہ اور صحت مند شاعری کے لیے اچھے جذبات و پاکیزہ خیالات کی فراوانی ضروری ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ فکر و خیال کا منبع دماغ ہے اور واردات و جذبات کا مرکز دل، قلب و ذہن کے اس اہم ترین تطعل میں اگر اعتدال و تعاون کارفرما ہو تو ادبی قدروں کا فروغ مسلم ہے۔
شاعری خواہ عربی زبان میں ہو خواہ عجمی زبانوں میں، تمام تر اصنافِ سخن میں صنفِ نعت کی ارزش و ارجمندی نیز ترفع و تقدس کا ایک زمانہ مقر ہے۔ ربّ العالمین اپنی کتاب میں رحمۃ للعالمین سے مخاطب ہے: ورفعنا لک ذکرک، لہٰذا جہاں جہاں جس جس پیراے میں آپ کا ذکر ہوگا، اعلیٰ ہوگا ارفع ہوگا۔
لسان و زبان کی بے حد ترقی یافتہ و منزہ ترین صورت کو ادب العالیہ کہتے ہیں۔ فارسی زبان کا ادب العالیہ، مخصوص شعری ادب معاصر ادبیات میں ہمیشہ مابہ الامتیاز رہا ہے۔ فارسی کا شعری ادب کئی ادوار میں منقسم ہے اور اس تقسیم کے اسباب و علل ہیں۔ سیاسی، علاقائی، نسلی اور مذہبی۔ ایران میں ہم ان ادوار کو طاہری، سامانی، غزنوی، سلجوقی، ایلخانی، تیموری، صفوی، قاچاری، مشروطی، رضاشاہی اور دورِ جدید انقلابی کے نام سے جانتے ہیں۔سماجی و معاشرتی تبدیلیاں، وہ مثبت ہوں یا منفی، قلوب و اذہان کو متاثر کرتی رہی ہیں۔ اسی سے فکر و خیال میں تنوع اور جذبات میں تغیر و تاثر پیدا ہوتا ہے۔ اظہارِ خیال کا اسلوب اور حسن بیان کا اندازہ بدلتا ہے اور ان ساری باتوں سے انتاج شعری پر براہِ راست اثر پڑتا ہے۔
اگرچہ عہدِ فاروقی میں ہی ایران اسلام کے زیرِاثر آگیا، محمد رسول اللہ کا کلمہ پڑھا گیا اور حق تسلیم کرلیا گیا تھا مگر منگول تاجدار غازان خاں نے اسلام قبول کرکے مذہب شیعی کی سرپرستی شروع کردی۔ ایلخانی دور (۷۸۲ھ تا ۸۵۱ھ) میں امراے تیموری سے سلطان حسین بایقرا نے خراسان میں خودمختار حکومت قائم کرلی (۸۵۱ھ)، علی شیرنوائی اسی کا باکمال وزیر تھا، اسی عہد میں مولانا جامی، حسین واعظ کاشفی وغیرہ ہوئے یہاں تک کہ ۹۰۷ھ میں اسماعیل صفوی نے دورِ صفویہ کا آغاز کیا۔ اس طرح عہد بعہد شعرا نے اظہار و ادائیگی فکر و خیال میں اپنی تمام تر جمالی مخصوصات، خیالی فتوحات، فکری اکتسابات حسی مہیجات اور جذباتی تنوعات کو بروئے کار لایا۔



تاریخی حقائق کے اس پس منظر یا تناظر میں جب فارسی ادب کی نعتیہ شاعری کا جائزہ لیا جائے گا تو ان مسلمات کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ پھر یہ کہ فارسی ادب صرف سرزمین ایران ہی کا دھرو ہر نہیں، فارسی کا شعری ادب ایران سے کہیں زیادہ ہندوستان جنت نشان میں پھولا پھلا اور سرسبز و شاداب ہوا۔ یہ ایک بدیہی حقیقت ہے جس سے اغماض مشکل ہوگا یہ اور بات ہے کہ عصرِ حاضر میں یہ شاخ ثمر دار یہاں خشک ہورہی ہے اور من حیث زبان قومی ایران و افغانستان میں باقی و حاوی ہے مگر وہاں سے بھی آہوان عقید تمندان تاتار حجازی نافہ ہاے مشک افزای جذب دروں لیے رم کردۂ ہادیہ نامعلوم ہیں۔
تو آئیے ہم ہند ایرانی فارسی ادب میں نعتیہ شاعری پر نظر ڈالتے ہوئے شبدیز سعادت کو مہمیز کریں۔
نصر بن احمد بن اسماعیل سامانی کے دربار کا ملک الشعرا رودکی سمرقندی پہلا صاحب دیوان شاعر ہونے کی وجہ سے فارسی شاعری کا باواآدم کہا جاتا ہے۔ حیرت اور افسوس کا مقام ہے کہ اس عہد کے شعرا رودکی، فرخی، منوچہری اور انوری جیسے قادرالکلام اور طباع قصیدہ نگاروں نے نعت سرور کونین میں دو شعر بھی موزوں نہ کیے۔ ایران کے اسلامی دور میں فارسی شاعری اگرچہ باقاعدہ تیسری صدی ہجری میں شروع ہوتی ہے مگر نعتیہ اشعار چھٹی صدی ہجری سے نظر آتے ہیں۔ فارسی ادب کے ہر دور سے متعلق نعت گو شعراء کا فرداً فرداً تفصیلی جائزہ لیا جائے تو ایک مقالہ کیا ایک ضخیم دفتر بھی اس کا متحمل نہ ہوسکے گا۔
میں اس مختصر مقالے کے ذریعے فارسی میں نعتیہ تحریک، نعتیہ رجحان اور نعتیہ امعان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نعت گوئی کی تحریک اور نہج کے اس فرق کو دکھانا چاہوںگا جو ایک طرف تو شعری روایت کے طور پر قصائد اور مثنویوں میں در آیا اور شعرا نے اس میں محض اپنی فن کاری و صنعت و ہنرمندی کے جوہر دکھائے اور دوسری طرف جو عشق کا جذبہ درون وارفتگی بن کے شاعر کے قلب و روح پر طاری رہا اور شعرا نے الہامی طور پر نعت کے والہانہ اشعار قلم بند کیے۔


فارسی کے شعری ادب میں شاہ نامۂ فردوسی دل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی ابتدا میں ہی ’’درستائش پیغمبرد یارانش‘‘ کے عنوان سے چند اشعار ملتے ہیں، مثلاً:
بگفتار پیغمبرت را جوی
دل از تیر گیہا بدیں آب شوی
ترادین و دانش رہاند درست
رہ رستگاری بباید بجست
فردوسی نے اس شعر میں حدیثِ نبوی کی طرف اشارہ کیا ہے:
کہ من شہر علمم علیم در است
درست ایں سخن گفتِ پیغمبر است
بس فارسی شاعری میں تخم نعت یہیں سے انکورتا ہے۔ فردوسی کی وفات ۴۱۱ھ میں ہوئی معابعد سیّد حسن غزنوی متوفی ۵۰۹ھ کے یہاں ایک نعتیہ ترجیع بند نظر آتا ہے۔ اغلب کہ حاضری مدینہ میں یہ نعت لکھی گئی۔
یا رب ایں مائیم و ایں صدر رفیع مصطفا ست
یا رب ایں مائیم و ایں فرق عزیز مجتباست
ایک شعر حسن تلمیح لیے یوں ہے:
صاحب لو انھم جاء وک مارا بارداد
تانہ پنداری کہ بے دستور اینجا آمدیم


اس شعر میں قرآنِ حکیم کی اس آیتِ کریمہ کا ذکر ہے:
ولو انھم اذ ظلموا انفسھم جاؤک فاستغفروا اللّٰہ واستغفرلھم الرسول لوجدوا اللّٰہ توابا رحیما۔ (سورہ نساء آیت ۶۴، پارہ ۵)
اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائیں تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔
سیّد حسن کے اس عمدہ نعتیہ ترجیع بند میں ٹیپ کا شعر جو مکرر آیا ہے وہ یہ ہے:
سلموا یا قول بل صلوا علی الصدر الامین
مصطفی ماجاء الا رحمۃ للعالمین
اب بغیر کسی تاریخی ترتیب کے میں چند شعرا فارسی کی نعتوں پر طایرانہ نظر ڈالتا ہوں سب سے پہلے ذہن میں عرفی شیرازی کا نام آتا ہے۔ صفوی دور کا یہ مشہور شاعر اپنی ذہانت وجودت طبع کا جوہر دکھاتا ہوا محض چھتیس سال کے عالم شباب میں بمقام لاہور واصل بحق ہوا۔ عصرِ حاضر نعت گوئی اور نعت شناسی کا عہد ہے۔ کون صاحبِ قلم ہے جس نے نعت پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے عرفی کے اس تابندہ شعر کو نہ یاد کیا ہو:
عرفی مشتاب ایں رہ نعت است نہ صحراست
آہستہ کہ رو بردم تیغ است قدم را
ھشدار کہ نتواں بیک آہنگ سروون
مدح شہ کونین و مدیح کے و جم را
عرفی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں سات بہترین قصیدے لکھے ہیں جن میں سب سے مشہور یہی ہے جس کا مطلع ہے:
اقبال کرم می گزد ارباب ہمم را
ہمت نخور د نیشتر لاو نعم را



عرفی ایرانی الاصل ہے مگر اس کی شاعری سبک ہندی میں ہے۔ وہ صوفی شعرا سے متاثر تھا۔ ہندوستان آگیا اور یہیں مرا۔ ایران کے وہ عظیم شعرا جنھیں ہندوستان کے بادشاہوں کی جاہ و حشم اور داد و دہش نے ہندوستان آنے پر مجبور کیا انھی میں عرفی بھی ہے۔
فارسی کا ایک اور بڑا قصیدہ گو شاعر افضل الدین خاقانی (۵۲۰ھ تا ۵۹۲ھ) ہے چھٹی صدی ہجری کا یہ آذربائیجانی شاعر حسان العجم کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ اپنے مشہور نعتیہ قصیدہ میں جس کا مطلع ہے:
شب رواں چوں رخ صبح آئینہ سیما بینند
کعبہ را چہرہ و دراں آئینہ پیدا بینند
فخر یہ کہتا ہے:
گرچہ حسان عجم را ہمہ جا جاہ دہند
جاھش آں بہ کہ بخاک عربش جا بینند
شکوہ الفاظ، علوے مضامین اس کے وسیع مطالعہ اور علوم دینی سے آشنائی پردال ہیں۔ خاقانی نے ایک درجن سے زیادہ بڑے کامیاب نعتیہ قصائد لکھے ہیں۔
ایرانی زمین کا ایک اور نامی گرامی شاعر نظامی گنجوی (۵۳۵ھ تا ۵۶۹ھ) ہے جس کی پانچ مایہ ناز مثنویاں خمسہ نظامی کے نام سے عالم گیر شہرت رکھتی ہیں۔ ہر مثنوی میں نظامی نے نعتیہ اشعار پورے فنی محاسن اور عقیدت کی تپش کے ساتھ کہے ہیں۔ نظامی کے وہاں کمال علمی، زورِ بیان اور علوئے فکر و خیال ہے۔ کہتے ہیں:
اے خاتم پیغمبران رسل
حلوای پسین و ملح اول
سرخیل توی و جملہ خیل اند
مقصود توی ہمہ طفیل اند
براق کی تعریف یوں کی ہے:
بریشم تنی بلکہ لولوسمی
روندہ چو چولولو برابر یشمی


فارسی کے قصیدہ گو شعرا نے نعت رسولﷺ میں جو اشعار کہے ہیں ان میں سارا زور تبحر علمی کے ظہور اور نمود فن کاری پر ہے۔ عہد سلجوقیہ میں تصوف پسند شعرا سامنے آنے لگے تھے اور تصوف کا معاملہ چوںکہ سراسر دل سے ہے لہٰذا صوفی شعرا کی نعتیں ارتعاش قلبی و صفات درونی کی غماز ہیں۔ ایسے شعرا میں سنائی، عطار اور رومی کے نام اہم ہیں۔ خود مولانا روم یوں کہتے ہیں:
عطار روح بود و سنائی دو چشم او
ما از پئے سنائی و عطار آمدیم
حکیم سنائی (۴۳۷ھ تا ۵۴۵ھ) کی تصنیف حدیقۃ الحدقہ کا باب ثانی صرف نعت رسول کے لیے مختص ہے اور یہ نعتیں ۱۴؍عنوانات کی حامل ہیں۔ آٹھویں صدی ہجری میں ایران کے ہر صوبے میں صوفیا و مشائخ کی تعداد بڑھتی گئی، سبب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ منگولوں اور تیموریوں کی گیرودار اور قتل و غارت گری سے عوام کے خیالات میں بے ثباتی دنیا کے پیش نظر زبردست انقلاب پیدا ہوگیا اور وہ ترک لذات و گوشہ نشینی کی طرف راغب ہونے لگے۔ حالانکہ تاریخ کا مطالعہ اسے غلط بتاتا ہے کیونکہ منگولوں کے حملے سے بہت پہلے عرفان و طریقت کے دو بڑے مکتب مشرق میں سلسلہ کبرویہ اور مغرب میں سلسلہ سہروردیہ شہرہ آفاق ہوچکے تھے۔ منگولوں نے بہت سے صوفیا کو شہید کر ڈالا جن میں حضرت نجم الدین کبریٰ ولی تراش اور شیخ فرید الدین عطار بھی ہیں۔
بہرحال فارس کے اکثر اہل دل شعرا مجازیب و مالکان راہ طریقت کی نگاہ توجہ کا مرکز بنے حافظ شیرازی (۷۲۶ھ تا ۷۹۱ھ) نے ایک بزرگ کی قبر پر رات گزاری اور انھیں بشارت ہوئی جس کی طرف یوں اشارہ کیا ہے:
دوش وقت سحر از غصہ نجاتم دادند
وندراں ظلمت شب آب حیا تم دادند


سنائی کو بھی کسی مجذوب نے ہی تعلق شاہی پر ملامت کی تھی اور اس کا دل ادھر سے پھر گیا۔ شیخ عطار کے متعلق بھی مذکور ہے کہ ایک فقیر کی تنبیہ پر ترک دنیا کرکے صوفی صافی ہوگئے۔ عطار نے اپنی طویل عمر روحانی و عرفانی تعلیم کے لیے وقف کردی تھی۔ ان کی مثنویوں میں عشقِ نبوی میں کہے ہوئے بہترین اشعار ملتے ہیں۔
چند اشعار سنیے اور اس کی ملاحت پر سر دھنیے۔ سوز عشق کی کیسی آنچ ہے۔
یا رسول اللہ بسی درماندہ ام
باد برکف خاک برسر ماندہ ام
یک نظر سوی من غمخوارہ کن
چارۂ کار من بیچارہ کن
اے شفاعت خواہ مشتی تیرہ روز
لطف کن شمع شفاعت برفروز
مولانا جلال الدین رومی (۶۰۴ھ تا ۶۷۲ھ) سے کون واقف نہیں۔
مثنوی مولوی معنوی
ہست قرآں در زبان پہلوی


یہ تو روحانیت کا آئینہ مجلا تھے۔ شمس تبریزی نے انھیں ایک نظر میں کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ کہتے ہیں:
مولوی ہرگز نہ شد مولاے روم
تاغلام شمس تبریزی نہ شد
نعت رسول میں مقر ہیں:
گوبگویم تا قیامت نعت او
ہیچ اور را مقطع غایت مجو
شیخ بہأو الدین ذکریا ملتانی کے مرید و فیض یافتہ شیخ فخر الدین عراقی (۶۰۶ھ تا ۶۸۸ھ) بھی ایران کے بہترین غزل گو، قصیدہ نگار اور نعت نویس تھے۔
چو خود کردند راز خویشتن فاش
عراقی را چرا بدنام کردند
اس ایک مشہور شعر سے ہی عراقی کے شاعرانہ و صوفیانہ مزاج کا اندازہ ہوتا ہے۔ عراقی سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق و شیدا تھے۔ اپنے قصیدوں اور نعتوں میں انھوںنے عجیب سرمستی کے ساتھ عقیدت و محبت کا اظہار کیا ہے۔ زبان میں تازگی و ندرت، صفائی و سلاست اور انجذاب ہے۔
چوں باب زندگی لب رابشویند خضردار
بوسہ برخاک سرای خواجہ بطحا زنند
آں شہنشاہی کہ بہر اعتصام انبا
عقدۂ فتراک او از عروۃ الوثقیٰ زنند
در ازل چوں خطبہ او والضحیٰ املا کنند
نوبتش زیبد کہ سبحان الذی اسریٰ زنند
طرۃ مشکین عنبر پاش از یٰسین جنند
حلقہ روی بہشت آساس از طٰہٰ زنند



میں ہزار سال سے زیادہ مدت پر پھیلی ہوئی فارسی شاعری کا تاریخی جائزہ لینے نہیں جارہا۔ سیکڑوں نام ور اور عظیم المرتبت وحید العصر شعرا کے صرف اسماء رقم کروں تو کئی صفحات بھر جائیں۔ چہ جائے کہ ان کی نعتوں کا تبصراتی اور فنی جائزہ مثالوں کے ساتھ پیش کیا جائے، کارے دارد۔ اس حقیر ہیچ میرز کی گزارش فقط اتنی ہے کہ فارسی میں نعتیں دو انداز کی ملتی ہیں ایک وہ جن میں دادِ علم و فن دی گئی ہے، تمام تر شاعرانہ صناعی و فن کاری سے کام لیا گیا ہے، دوسرے وہ جن میں نہ تو آبشار کا شور ہے، نہ ہوائوں کا زور بلکہ محض اور محض واردۂ قلب و روح کا اظہار فی الفور ہے اور یہی نکتہ قابلِ غور ہے کہ اس بارگاہِ رسالت مآب سے کس کا رشتہ پائیدار و معتبر ہے، دماغ کا یا دل کا۔ فکر و خیال کا فخریہ آہنگ یا عشق و محبت کی تپش میں قلب شکستہ کی چنک۔
دیکھیے کتنی حیرت کی بات ہے کہ ظہیر فاریابی (متوفی ۵۹۵ھ) جیسا شاعر چیرہ دست جس کے متعلق مشہور یہ ہے کہ:
دیوان ظہیر فاریابی
در کعبہ بدزد اگر بیابی
سعادت نعت گوئی سے محروم ہے۔ یہ رُتبہ بلند ملا جس کو مل گیا۔ ہر بوالہوس کے واسطے دارورسن کہاں۔ ظہیر کی پرزور فکر دیکھیے۔ قزل ارسلاں کی مدح میں قصیدہ لکھتا ہے:
نہ کرسی فلک نہد اندیشہ زیر پای
تابوسہ بررکاب قزل ارسلاں دھد
شیخ سعدی سامرد عارف ظہیر کے اس شعر سے آزردہ تھا، سعدی نے اظہارِ خیال کیا ہے:
چہ حاجت کہ نہ کرسی آسماں
نہی زیر پای قزل ارسلاں
مگر پای عزت بر افلاک نہہ
بگوروی اخلاص بر خاک نہہ


صرف یہی نہیں سامانی و غزنوی دور کے بڑے قصیدہ گویوں، مثلاً دقیقی، فرخی، عنصری، عسجدی اور منو چہری کے یہاں بھی نعتیہ اشعار نہیں ملتے۔ ان پر دنیا سوار تھی، یہ بندنان جاہ و زر تھے۔
ہاں! فرخی سیستانی کی ایک غزل میں نبی کریمﷺ سے عقیدت کا ایک شعر ملتاہیـ:
شگفت نیست کہ از مدح او بزرگ شوم
کہ از مدیح محمد بزرگ شد حسان
ایک طرف فارسی شعرا کے نعتیہ قصائد میں تاریخی، فقہی، طبی، ہیتی، منطقی اور مروّجہ علوم کی دقیق اصطلاحات کثرت سے ملتی ہیں، شکوہ الفاظ، طمطراق بیان، علوئے فکر، ندرت مضامین، پروازِ خیال، تازہ کارتشبیہ، نادر استعارات کے ساتھ صنائع و بدائع شعری کا بڑا ہی خوب صورت استعمال ملتا ہے، جوش و جذبہ کی فراوانی، لب و لہجہ کی سنجیدگی، مرقع کشی، منظرنگاری کے لوازمات و اجبی سے نعتیہ قصائد ایک شاداب چمن اور سدابہار گلزار کی تصویر پیش کرتا ہے۔ خاقانی و قاآنی کے یہاں اس کی بہتات ہے حتیٰ کہ سعدی جیسے عرفاں مآب شاعر کے یہاں بھی تراکیب و بندش الفاظ کا عجیب سحر انگیز حسن نظر آتا ہے۔ مثلاً:
کریم السجایا، جمیل الشیم
نبی البرایا، شفیع الامم
امام الوریٰ پیشوای سبیل
امین خدا، مہبط جبرئیل
شفیع الوریٰ خواجہ بعث و نشر
امام الہدیٰ صدر ایوان حشر
بلند آسماں پیش قدرت خجل
تو مخلوق و آدم ہنوز آب و گل
تراعز لولاک تمکین بس است
ثنائے توطٰہٰ و یٰسیں بس است
چہ وصفت کند سعدی ناتمام
علیک الصلوٰۃ اے نبی والسلام



دوسری طرف صوفیا و مشائخ، اہلِ طریقت و صاحبان دل کی وہ نعتیں ہیں جو خلوص و محبت ایمان و عقیدت کی سرشاری، وارفتگی عشق و فنائیت کا سوزوگداز اور احساسات و جذبات کی وہ طرفگی رکھتی ہیں جن پر وجد و کیف و حال بھی بے حال ہو۔ ان نعتوں میں روح کی گھلاوٹ اور اثر آفرینی کی انتہا ہے۔ اس لحاظ سے شیخ عبدالرحمن جامی کے نعتیہ اشعار ان ظاہری و باطنی محاسن کا حسین سنگم ہیں۔
اے مظہر حسن لایزالی
مرأت جمال ذوالجلالی
انوار تجلی قدم را
رخسار تو احسن المعالی
رویت طرف من النہار است
زلفست زلف من اللیالی
جامی بہ وظائف تضرع
مشغول بود علی التوالی
وہیں جامی کی یہ نعتیں جذب و جاذبیت اور اثر آفرینی میں اپنا جواب نہیں رکھتیں۔
زمہجوری بر آمد جان عالم
ترحم یا نبی اللہ ترحم
بشوقت جاں بہ لب آمد تمامی
فقم قم یا حبیبی کم تنامی
سلام علیک اے نبی مکرم
مکرم ترا ز آدم و نسل آدم
سلام علیک اے ز اسماء حسنیٰ
کہ اسم تو آئینہ اسم اعظم
سلام علیک ای ز آبای علوی
بصورت مؤخر بمعنی مقدم


ایرانی شعرا کا سابقہ جب صوفیائے کرام سے ہوا تو ان کے لب و لہجہ کی تبدیلی نے یک لخت شعری قالب کو تقدیس مآب عرفانیت کا منبع کردیا۔ سیاسی و مذہبی گیرودار نے اہلِ دل اہلِ قلم کو یا تو اِنزوانشیں ہونے پر مجبور کیا یا پھر مہاجر بنا کے وطن عزیز سے دُور کردیا۔ ہندوستان کی طرف کوئی چشت سے آرہا ہے، کوئی گیلان سے، کوئی بلخ سے آرہا ہے، کوئی سمنان سے، کوئی مشہد سے آرہا ہے، کوئی ہمدان سے، کوئی کاشغر سے آرہا ہے، کوئی آذربائیجان سے، کوئی تہران سے، کوئی کاشان سے جو آرہا ہے ایک نظامِ شمسی کے ساتھ آرہا ہے۔ عرفانی شعور اور روحانی تجربات نے علم و دانش اور تصوف و طریقت کا نورانی دربار جابجا سجا دیا ہے۔ خواجۂ خواجگاں معین الدین چشتی، قطب الاقطاب کاکی، فریدالدین مسعود گنج شکر، محبوب الٰہی نظام الدین اولیا، حضرت امیر خسرو، شیخ جمالی، فخر الدین دہلوی، نصیرالدین چراغ دہلی، سیّد محمد گیسودراز، سراج الدین پروانہ، برہان الدین جانم کس کس کا نام لیاجائے۔
اور پھر ادب میں زلف نعت کی مشاطگی صرف انھیں کا حصہ تو نہیں، فیضی فیاضی، محمد جان قدسی، عبدالقادر بیدل، آزاد بلگرامی، عرشی، ہلالی، سرسیّد، غالب اور اقبال سبھی تو ہیں جن کی فارسی نعتوں پر جان چھڑکنا ہی بڑی سعادت ہوگی۔ اب اپنی اس طول بیانی کو مستند کرنے کے لیے چند منتخب فارسی نعتوں کے اشعار پیش کرتا ہوں:
خسرو:
نمی دانم چہ منزل بود شب جائیکہ من بودم
بہر سو رقص بسمل بود شب جائیکہ من بودم
خدا خود میر سامان بود اندر لامکاں خسرو
محمد شمع محفل بود شب جائیکہ من و بودم
قدسی:
مرحبا سیّد مکی مدنی العربی
دل و جاں باد فدایت چہ عجب خوش لقبی
سیّدی انت حبیبی و طبیب قلبی
آمدہ سوی تو قدسی پے درماں طلبی
معین الدین چشتی:
درجاں چوکرد منزل جانان مامحمد
صد در کشاد در دل از جان ما محمد
نظام الدین اولیا:
صبا بسوی مدینہ روکن ازیں دعا گو سلام برخواں
بگرد شاہ مدینہ گر دو بصد تضرع پیام برخواں




جامی سے قبل سلام کی ایسی روایت فارسی شاعری میں نہیں ملتی۔ یہ جامی ہی کے اشعار ہیں جس سے آج بھی خانقاہوں میں محافل سماع گرم ہوجاتی ہیں۔
صبا تحیت شوقم بہ آں جناب رساں
حدیث ذرّہ بیدل بہ آفتاب رساں
بہ آں دیار کہ آرام گاہ حضرت اوست
زمیں ببوس و سلام من خراب رساں
نسیما جانب بطحیٰ گزر کن
زا حوالم محمد را خبر کن
ہزار بار بشویم دھن ز شکر و گلاب
ھنوز نام تو گفتن کمال بے ادبی است
عرشی:
ادب گاہیست زیر آسماں از عرش نازک تر
نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید اینجا
غالب:
حق جلوہ گرز طرز بیان محمد است
آرے کلام حق بہ زبان محمد است
ہر کس قسم بدآنچہ عزیز است می خورد
سو گند کرد گار بجان محمد است
اقبال:
خاک یثرب از دو عالم خوشتر است
اے خنک شہرے کہ آنجا دلبر است



اگر صرف ہندوستان کے مختلف صوبوں سے مشائخ عظام و پیران طریقت کی فارسی نعتوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ کام ایک فرد سے ایک زندگی میں نہ ہو۔ نعت پڑھنے، نعت سمجھنے اور نعت لکھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے دل گداختہ پیدا کرے کوئی اور یہ سوز و گداز یہ رقت بغیر عشق رسول اور ان پر والہانہ شیفتگی و جذبہ جاں نثاری کے ممکن ہی نہیں۔ سیّد بدرالدین ہلالی نے کیا عمدہ کہا ہے:
محمد عربی آبروی ہر دوسرا ست
کسی کہ خاک درش نیست خاک بر سراو
{٭}

Post a comment

0 Comments