JAHAN-E-NAAT Naat World
اکتوبر, 2019 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیںسبھی دکھائیں
کرناٹک میں نعتیہ شاعری
غم نہ کر تشنہ کام الا ہو ذرہ ذرہ ہے جام الا ہو
بہت اونچی ہے سرکار اپنے رب کی بلا تفریق وہ سنتا ہے سب کی
ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے
ماہیتوں کو روشن کرتا ہے نور تیرا ایمان ہیں مظاہر، ظاہر ظہور تیرا
حمدِ جنابِ باری رکھ زباں پر جاری کافی ہے وہ اکیلا باقی ہے سب جھمیلا
کر رحم اے جاہ دینے والے بندے کو چاہ دینے والے
یکتائے روزگار ہے تو رب ذوالجال تو اپنی خود مثال ہے کیا ہو تری مثال
اے خالقِ دو عالم ہر سمت تو ہی تو ہے
اس کی زباں پر کیوں نہ صدا اللہ ہو رہے جس کی نظر کے سامنے جب تو ہی تو رہے
تجھے تسکینِ دل پایا، تجھے آرامِ جاں پایا
میں اکثرسوچاکرتاہوں شجریہ ڈاب کے کس نے اگائے ہیں
اے دنیاکے سرجن ہارے اعلیٰ تو ہے برترتوہے
اک ایک حرف اشک ندامت سے نم ہوا مصروف حمد جب کبھی میرا قلم ہوا
خدا تجھ کو شاہی سزاوار ہے صفت کو تری کچھ نہ آکار ہے
ہے گماں پردے کے باہر اوریقیں پردے میں ہے آپ پر تو چومئے وہ مہہ جبیں
پردے میں ہے
خدا خدا خدا خدا چمن میں صبح دم سدا گلوں کے درمیاں صبا
میں کیا ہوں، میں کچھ بھی نہیں ہوں روح بھی تیری، جسم بھی تیرا
آہ دلِ سوز میں تو سینۂ افگار میں تو روح میں قلب میں اور دیدۂ خونبار میں
تو
ہر طرف ہیں تری وحدت کے اجالے یارب تیری قدرت کے ہیں قرآں میں حوالے یارب
علم نہیں مجھ کو تیری کیا تعریف لکھوں لفظ بہت کم ہیں
تو مرا خدائے برحق تو مکمل اور مطلق تو قدیم اور محقق
برف و باراں نشانیاں اس کی بجلیاں لن ترانیاں اس کی
تو ہے خلاق دو جہاں یارب تیری رحمت ہے بے کراں یارب ذرہ ذرہ فنا بداماں ہے
تو میرا خدا میرا خدا میرا خدا ہے تو سب سے بڑا‘ سب سے بڑا سب سے بڑا ہے
خالق ہیں آپ مالک کون و مکاں ہیں آپ رازق ہیں آپ خلق کے روزی رساں ہیں آپ
نام بڑا جس کا اس کی ہیں سب تعریفیں کام کھرا جس کا
ہر ذرے میں مضمر قدرت ہے تیری ہر شے سے ہویدا عظمت ہے تیری
اے مالک کل دیکھ یہ بندہ تیرا سو جان سے ہے عاشق و شیدا تیرا
مالک بھی تو مختار بھی تو ہے مرا
اک یقیں ہے وہ ذات سے آگے جو ہے ہر طرح مات سے آگے
دشت، صحرا، چمن عطا تیری یہ زمیں اور گگن عطا تیری
سارے عالم میں جو پھیلی ہوئی زیبائی ہے کتنی حیران ہر اک چشم تماشائی ہے
شریک اس کا کوئی نہیں، وہ خدا ہے کہیں اس کے جیسا کوئی دوسرا ہے؟
ثنائے خدا میں رواں جو قلم ہے
اپنے مالک کی جب بھی ثنا کیجئے
جہانِ رنگ و بو میں پھیلی ہیں رعنائیاں مولا
تیرے در پہ میری جھکی جبیں، تری شان جل جلالہ
اللہ نے ہنسی دی، اللہ نے خوشی دی اور غم دیا تو دل کو توفیق صبر بھی دی
قلم لاکھوں ہوں کاغذ پر خمیدہ مگر کب لکھ سکیں تیرا قصیدہ
اے خدا،اے خدا،اے خدا،اے خدا،اے خدا تیرا گھر خوش نما کس قدر خوش نما اے
خدا
مرے خدا، مرے مالک، بڑا کریم ہے تو کہوں حکایتِ دل کیا کہ جب علیم ہے تو
میری آنکھوں میں جو ٹھہرا ہے وہ دریا تو ہے میرے دل سے جو ابلتا ہے وہ
چشمہ تو ہے
ہر چیز پر گمان تری ذات کا ہوا تجھ تک پہنچ گیا میں تجھے ڈھونڈتا ہوا
کرتا ہوں ترے نام سے آغاز الٰہی تو ہی ہے نگہباں تو ہی دمساز الٰہی
عالم عالم ظہور تیرا ہے ذرے ذرے میں نور تیرا ہے
حسنِ ازل، خدائے جہاں، رب کائنات عاجز زباں ہے، کیسے بیاں ہوں تری صفات
الٰہی غیب کے پردے ستی توں میرے مطلب کے شاہد کا دکھاموں
اک تو باقی فانی سب، میرے اللہ میرے رب
یہ پیاری زمیں، وہ چرخ بریں، سبحان اللہ سبحان اللہ
کیا وصف ہو تیرا بیاں، اللہ رب العالمیں بے حد رحیم و مہرباں، اللہ رب
العالمیں
میں کون ہوں ستم کش نیرنگ روزگار میں کون ہوں خفائے زمانہ کا اک شکار
تو زمین آسمان کا رب ہے تو ہی سارے جہان کا رب ہے
کہکشاں چاند سورج ستاروں میں تو سبزپتوں میں پھولوں میں خاروں میں تو
اے خالق رب العلا اے مالک ارض و سما
ظہورِ صبح ازل لا الہ الا اللہ حیات ہوکہ اجل لا الہ الا اللہ
تیری آرزو مری زندگی، مری بندگی تری جستجو
زباں تیری فلک تیرا ہراک کو جستجو تیری مکیں و لامکاں تیرا گلوں میں رنگ و
بو تیری
محبتوں کا صلہ بے مثال رکھتا ہے وہ میرا مجھ سے زیادہ خیال رکھتا ہے
عکس میں ہوں مرا نشاں تو ہے یعنی آئینہ جہاں تو ہے
اے کہ ہیں ترے اشارے دونوں نابود اور بود اے کہ تیری ذات مطلق لا حدوث و
بے حدود
لازم ہے کہ ہر لفظ کا عنوان خدا ہے جب شان کی بات آئے تو ذیشان خدا ہے
تب سمجھ میں آئے گا قرآن کا فرمان بھی ہو اگر کچھ معنی و مفہوم کا عرفان
بھی
دن طلوعِ مہر کا منظر بنا دیتا ہے کون رات ماہِ نور کی چادر بچھا دیتا ہے کون
حمدِ خالق سے ہے آغازِ سخن سرمدی ہے نغمہ ٔ سازِ سخن
مالکِ ہر دو جہاں تو بڑا ہے مہرباں سب کریں تیرا بیاں اکرمِ ذی جاہ ہے
تری ذات ذاتِ صفات ہے ترے دم سے نظم حیات ہے تری حمد سب کی نجات ہے
دل کا احوال کہا ہے اس سے سارے سکھ دکھ کی دوا ہے اس سے
خالق، مالک، اعلیٰ تو ہی سب سے عظمت والا تو ہی
ہے ضامنِ تاثیر دعا بسم اللہ لب پہ ہے مرے صبح و مسا بسم اللہ
ہے تو ہی اول، ہے تو ہی آخر، قوی و قادر
یہ شوق سارے یقین و گماں سے پہلے تھا میں سجدہ ریز نوائے اذاں سے پہلے تھا
پیشانی پر نشاں اسی کا سرمایۂ جسم و جاں اسی کا
تجھ کو سوچوں تو ہی سنائی دے اللہ تیرے علاوہ کچھ نہ دکھائی دے اللہ
ہر ایک شے میں نظر آئے تو ہی تو یارب! مگر میں کیسے کروں تجھ سے گفتگو
یارب!
کام جو کوئی نہ کرپائے خدا کرتا ہے رزق پتھر میں بھی کیڑے کو عطا کرتا ہے
نام بھی تیرا عقیدت سے لئے جاتا ہوں
تو نے مٹی کو دلکشی بخشی تو نے پتھر کو زندگی بخشی
طلب ہے دل میں کہ خالق کی حمد ہم لکھیں وہ عقل و فہم سے باہر ہے بالقسم
لکھیں
مالکِ کون و مکاں تیرے سوا کوئی نہیں دوسرا میں صرف تو ہے دوسرا کوئی نہیں
بلند سب سے ہے سب سے سوا ہے یا اللہ کہ تو ورائے حد ارتقاء ہے یا اللہ
بندہ عاجز کرے کیونکر ادا حق ثنا یا الٰہی حمد کی توفیق کر مجھ کو عطا
ہے اس کی حمد سے عاجز مری زباں کیا کیا ثنا سے اس کی ہے قاصر یہ خوش بیاں
کیا کیا
ترے جمال کی شوکت میں کھو گیا ہوں میں
تجھے ڈھونڈتا تھا میں چار سو، تری شان جل جلالہٗ
حسنِ پری اک جلوۂ مستانہ ہے اس کا ہشیار وہی ہے کہ جو دیوانہ ہے اس کا
تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا کیسی زمیں بنائی، کیا آسماں بنایا
نہیں خلق ہی میں یہ غلغلہ، تری شان جلَّ جلالہٗ
الٰہی ترا نام کیا خوب ہے کہ ہر جان کو وہ ہی مطلوب ہے
الٰہی میں ہوں بس خطاوار تیرا مجھے بخش ہے نام غفار تیرا
شعورِ ایمان و آگہی جس شیٔ پر ضیا ہے وہی خدا ہے
اے آنکہ بارگاہِ تو مسجودِ قدسیاں
حاجیاں آمدند با تعظیم شکر از رحمت خدائے رحیم