شکر ہے تیرا زمینوں کے بنانے والے آسماں دے کے ستاروں سے سجانے والے

شکر ہے تیرا زمینوں کے بنانے والے آسماں دے کے ستاروں سے سجانے والے

ناشاد اورنگ آبادی



شکر ہے تیرا زمینوں کے بنانے والے
آسماں دے کے ستاروں سے سجانے والے


لیکے آئے ہیں ہر اک دور میں پیغام ترا
تیرے احکام زمانے کو بتانے والے


تیری مرضی ہی سے موسیٰ پلے فرعون کے گھر
یدِ بیضا کے کمالات دکھانے والے


تونے عیسیٰ کو جِلا دینے کی قوت بخشی
اور بھیجے بھی صلیبوں چڑھانے والے


دیکھ گرداب میں ہے آج سفینہ میرا
کشتیٔ نوحؑ کو طوفاںسے بچانے والے


جوہیں مقروض انہیں قرض کی لعنت سے بچا
نوعِ انساں کو غلامی سے چھڑانے والے


آرزو ہے مری پڑھتا رہوں ناشاد یہی
مرحبا صلِّ علیٰ عرش پہ جانے والے

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے