اسی کے نام کا ارض و سما میں چرچا ہے

اسی کے نام کا ارض و سما میں چرچا ہے

ظفراقبال ظفرؔ (فتح پور)


اسی کے نام کا ارض و سما میں چرچا ہے
تمام دہر میں اسی کا ہی نور پھیلا ہے
وہ چاند ہوکہ ستارے ہوں یا کہ مہر منیر
اسی کے نور سے ہر اک کو نور ملتا ہے
تمام برگ و شجر، پھول میں ثمر میں وہی
کرم سے اپنے وہ صحرا کو سبز کرتا ہے
وہ رنگ بھرتا ہے کون و مکاں کے منظر میں
زمیں کو سبزہ و شاداب بھی وہ کرتا ہے
کرم کے موتی لٹاتا ہے بے سہاروںپر
شکستہ قلب میں امیدیں وہ جگاتا ہے
اسی کے حکم سے سجدے میں سر ہے انساں کا
اذاں کے بول بھی ہم کو وہی سکھاتا ہے
یہ آبشار، سمندر، یہ مہر و ماہ و نجوم
طرح طرح کے مناظر ہمیں دکھاتا ہے
نشاط، عیش و سکوں اور ملال و رنج و الم
لکھا ہے جس کے مقدر میں جتنا پاتا ہے
اسی کے رزق کا دانہ شکم شکم ہے ظفر
وہ پتھروں کے بھی کیڑوں کو رزق دیتا ہے

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے