بہ فیضِ عام برے بھی بھلے بھی تیرے ہیں تمام چہرے ترے، آئینے بھی تیرے ہیں

بہ فیضِ عام برے بھی بھلے بھی تیرے ہیں تمام چہرے ترے، آئینے بھی تیرے ہیں

رئیس الدین رئیس



بہ فیضِ عام برے بھی بھلے بھی تیرے ہیں
تمام چہرے ترے، آئینے بھی تیرے ہیں
تری ہی ذات تو محورِ ازل ابد کا ہے
تمام نقطے ترے دائرے بھی تیرے ہیں
تو راہ بھی، تو ہی منزل بھی، ہر مسافر کی
ترا ہی رختِ سفر، قافلے بھی تیرے ہیں
ترے اشارے پہ ملنا بھی اور بچھڑنا بھی
یہ قربتیں بھی تری، فاصلے بھی تیرے ہیں
ہر ایک عقدہ امانت تری مشیت کا
کہ حل بھی تیرے ہیں، اور مسئلے بھی تیرے ہیں
الگ ہیں مجھ سے جو وہ رابطے بھی تیرے تلاش
جڑے ہیں مجھ سے جو وہ سلسلے بھی تیرے ہیں
جہاں بھی چاہے رقم کر رئیسؔ کی قسمت
ورق ورق ہے ترا، حاشیئے بھی تیرے ہیں

Post a comment

0 Comments