عطا تو برف کو بھی سوز اور جلن کردے تجھے ہے سہل جو احساس کو بدن کردے

عطا تو برف کو بھی سوز اور جلن کردے تجھے ہے سہل جو احساس کو بدن کردے

ڈاکٹرامین انعامدار



عطا تو برف کو بھی سوز اور جلن کردے
تجھے ہے سہل جو احساس کو بدن کردے


اگرچہ حرص غلط ہے مگر مجھے یارب
حریص علم بنادے حریص فن کردے


تم اپنی خوبی تقدیر پر نہ اترائو
نہ جانے کون سا لمحہ چمن کو بن کردے


سنا ہے آج وہ تشریف لانے والے ہیں
خدائے پاک معطر مرا سخن کردے


شہید عشق ہوں اے خاک یہ خیال رہے
ترا رویہ نہ میلا مرا کفن کردے


بہ طرز ابن رواحہؓ و حضرت حسانؓ
مرے قلم کو مدیح شہؐ زمن کردے

Post a comment

0 Comments