یارب! دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے جو قلب کو گرما دے جو روح کو تڑپا دے

یارب! دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے جو قلب کو گرما دے جو روح کو تڑپا دے

علامہ ڈاکٹرمحمداقبال


یارب! دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرما دے جو روح کو تڑپا دے


پھر وادیٔ فاراں کے ہر ذرّے کو چمکادے
پھر شوق تماشا دے، پھر ذوق تقاضا دے


محروم تماشا کو پھر دیدۂ بینا دے
دیکھا ہے جو کچھ میں نے اوروں کو بھی دکھلادے


بھٹکے ہوئے آہو کو پھر سوئے حرم لے چل
اس شہر کے خوگر کو پھر وسعتِ صحرا دے


پیدا دل ویراں میں پھر شورش محشر کر
اس محمل خالی کو پھر شاہد لیلا دے


اس دور کی ظلمت میں ہر قلب پریشاں کو
وہ داغ محبت دے جو چاند کو شرمادے


بے لوث محبت ہو، بے باک صداقت ہو
سینوں میں اجالا کر، دل صورت بینادے

Post a comment

0 Comments