ملیں منزلیں تو سمجھ گیا کہ خدا بہت ہی عظیم ہے

ملیں منزلیں تو سمجھ گیا کہ خدا بہت ہی عظیم ہے

شارقؔ عدیلؔ (مارہرہ)


ملیں منزلیں تو سمجھ گیا کہ خدا بہت ہی عظیم ہے
دل غم زدہ یہ پکار اٹھا کہ خدا بہت ہی عظیم ہے
تھیں جدا تمام شریعتیں جو پیمبروں کو عطا ہوئیں
مگر ایک سب کا پیام تھا کہ خدا بہت ہی عظیم ہے
کبھی کائنات و حیات کے پڑھو تم صحیفے کو غور سے
ہے ورق ورق پہ لکھا ہوا کہ خدا بہت ہی عظیم ہے
ابھی مست اپنی انا میں ہے یہ تمام شہر فراعنہ
یہاں کون کس کو بتائے گا کہ خدا بہت ہی عظیم ہے
ترے راستے چمک اٹھیں گے نئی منزلوں کی نوید سے
کوئی تو بھی بار الم اٹھا کہ خدا بہت ہی عظیم ہے
جو جہان شعر و سخن میں تھا، کبھی ایک ذرہ حقیر سا
اسے رشک مہر بنا دیا کہ خدا بہت ہی عظیم ہے

Post a comment

0 Comments