یہ دھرتی جو ایک ہجوم سے بھردی تونے میرے مولا اس دھرتی پر

یہ دھرتی جو ایک ہجوم سے بھردی تونے میرے مولا اس دھرتی پر

سیدتحسین گیلانی(بورے والا)


یہ دھرتی جو ایک ہجوم سے بھردی تونے
میرے مولا اس دھرتی پر
خوشبوئیں اور رنگ سجائے
چلمن، ہونٹ یہ پاگل بادل
اور پرندوں کے یہ ڈاریں
کتنا کچھ ہے اس دھرتی پر
ایک سے بڑھ کرایک نظارے میٹھے کھارے
مست پون یہ روتی راتیں
پاگل آنسو سوکھے گجرے
ڈال ڈال پہ بیٹھی موت یہ
اور پہاڑوں کایہ رعب
اور ہوا میںاس کی سسکی
لرزیدہ کمزور دعائیں
چیخنے کوستے بے کل لمحے
اور احساس کا ڈوبتا ساگر
کتنا کچھ ہے میرے مولا
سب کچھ تونے بخش دیا پر
آج یقین کیوں چھین لیا ہے
خود سے کیوں کر دور کیا ہے
ایک دعا تو سن لے مولا
ہم کو اپنا چن لے مولا!!

Post a comment

0 Comments