وہ حوصلہ مسلم کو اب میرے خدایا دے قرباں ہو تری خاطر بس ایسی تمنا دے

وہ حوصلہ مسلم کو اب میرے خدایا دے قرباں ہو تری خاطر بس ایسی تمنا دے

امینؔ بنارسی


وہ حوصلہ مسلم کو اب میرے خدایا دے
قرباں ہو تری خاطر بس ایسی تمنا دے


اب اس کے سوا کچھ بھی درکار نہیں مجھ کو
قطرہ ہوں مجھے مولا تو وسعتِ دریا دے


جو میرا قدم اٹھے اٹھے تیری راہوں میں
بر آتی ہوئی حسرت یہ مجھ کو خدایا دے


ہر شکل میں دیکھوں میں جلوئوں کو تیرے مولا
اللہ مجھے اب تو وہ ذوقِ نظارا دے


اغیار پہ کیوں تیری اس وقت عنایت ہے
مومن کہ پریشاں ہے اس راز کو سمجھادے


پوری یہ دعا کردے صدقے میں محمدؐ کے
مسلم پہ کرم کردے کفار کو جھلسا دے


نائب ہے نبی کا تو اس واسطے اے مسلم
بہتر ہے یہی سب کو پیغامِ خدا دے


امت ہے امینؔ ان کی بندہ ہے خدا کا تو
فرمان خداوندی اشعار سے چمکادے

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے