مقدور کس کو حمدِ خدائے جلیل کا اس جائے بے زباں ہے دہن قال وقیل کا

مقدور کس کو حمدِ خدائے جلیل کا اس جائے بے زباں ہے دہن قال وقیل کا

بہادرشاہ ظفرؔ


مقدور کس کو حمدِ خدائے جلیل کا
اس جائے بے زباں ہے دہن قال وقیل کا


پانی میں اس نے راہبری کی کلیم کی
آتش میں وہ ہوا چمن آرا خلیل کا


اس کی مدد سے فوج ابابیل نے کیا
لشکر تباہ کعبہ پہ اصحاب فیل کا


پیدا کیا وہ اس نے بشر‘ عوج بن عنق
پل جس کی ساق پاسے بنا رود نیل کا


پھرتا ہے اس کے حکم سے گردوں پہ رات دن
چلتا ہے یاں عمل کوئی جر ثقیل کا


بلوایا اپنے دوست کواس نے وہاں جہاں
مقدور پر زدن نہ ہوا جبرئیل کا


کیا پائے کہنہ ذات کو اس کے کوئی ظفرؔ
واں عقل کا نہ دخل نہ ہرگز دلیل کا

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے