پھول کو خوشبو قمر کی روشنی تونے ہی دی کائنات حسن کو یوں دلکشی تونے ہی دی

پھول کو خوشبو قمر کی روشنی تونے ہی دی کائنات حسن کو یوں دلکشی تونے ہی دی

محمدنصراللہ نصرؔ


پھول کو خوشبو قمر کی روشنی تونے ہی دی
کائنات حسن کو یوں دلکشی تونے ہی دی


اک فلک کو ماہ و انجم اک زمیں کوپھول پھل
دونوں عالم کو ہراک شیٔ دیدنی تونے ہی دی


وسعت صحرا کو نخلستان کی ٹھنڈی ہوا
موج بحر بے کراں کو بے کلی تو نے ہی دی


طائر دلکش ادا کو حسن بھی دلکش دیا
عندلیب خوش نوا کو راگنی تونے ہی دی


دن کو روشن کردیا خورشید نورخاص سے
شب گز یدہ دہر کو یہ چاندنی تونے ہی دی


علم کی دولت عطا کی، عقل بھی تیری عطا
ہاں بشر کو نیک و بد کی آگہی تو نے ہی دی


تیری حکمت کا بیاں ممکن نہیں الفاظ میں
ایک لفظ کن سے ہم کو زندگی تو نے ہی دی

بندۂ کمتر تری توصیف کرتا کس طرح
نصرؔ کو توفیق یارب! مدح کی تونے ہی دی

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے