یاالٰہی دل میں روشن شمع وحدت چاہئے آئینے میں جلوہ گر انوارِ رحمت چاہئے

یاالٰہی دل میں روشن شمع وحدت چاہئے آئینے میں جلوہ گر انوارِ رحمت چاہئے

جمیلؔ عظیم آبادی


یاالٰہی دل میں روشن شمع وحدت چاہئے
آئینے میں جلوہ گر انوارِ رحمت چاہئے


مالکِ ارض و سما حدِ قناعت چاہئے
بندۂ مومن کو تیرے استقامت چاہئے


اکتسابِ نور کرلوں میں بھی کوہِ طور سے
دیکھ لوں تیری تجلی وہ بصارت چاہئے


بہرِ رزمِ زندگی رہنا ہے سرگرمِ عمل
نعرۂ تکبیر سے خوں میں حرارت چاہئے


عمر بھر جلتا رہوں میں زندگی کی دھوپ میں
آخرت میں یاالٰہی مجھ کو جنت چاہئے


چوم کر قرآن کو رکھنے سے کچھ حاصل نہیں
اس کے دستورالعمل پر دل سے طاعت چاہئے


لشکرِ کفار جب بھی برسرِ پیکار ہو
اس جمیلؔ ناتواں کو تیری نصرت چاہئے

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے