خدائے عزو جل! ملی ہے جو شعور وفکر کی ہمیں رمق زمیں کے اہل علم کو آگہی کا ہے قمق

خدائے عزو جل! ملی ہے جو شعور وفکر کی ہمیں رمق زمیں کے اہل علم کو آگہی کا ہے قمق

ضمیرکاظمی


خدائے عزو جل!
ملی ہے جو شعور وفکر کی ہمیں رمق
زمیں کے اہل علم کو آگہی کا ہے قمق
یہ دشت و کوہ اور ریگزاروگلستاں
شجر،حجر،ہوا،رتیں،یہ بحروبر
زمیں کے نیچے معجزوںکاقافلہ
یہ آب و خاک و باد کا عجیب و منفردسفر
عجوبۂ حیات میں
تعارف وجود شے کی پہلی منزلوں میں ہے
ابھی تک آدمی پہ منکشف نہیں ہواتری زمیں کااولیں طبق
ابھی خلا کی گودمیں
ہمک رہا ہے آدمی کا فہم نارسا
جو پڑھ رہا ہے حرف کائنات کاسبق
خدائے عزوجل!
ملی ہے جو شعوروفکرکی ہمیں رمق
تواس رمق کو دے کتاب دانش وخرد،ورق ورق
کہ تیری رحمتوںکابارقرض ہم اتاردیں
کہ تیری نعمتوں کا شکرہم
بفیض ظرف آگہی اداکریں
پھرایک،
اقراء باسم ربک الذی خلق

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے