وہ مرا رب مرا خدا سب کچھ میں تو اس کا ہوں وہ مرا سب کچھ

وہ مرا رب مرا خدا سب کچھ میں تو اس کا ہوں وہ مرا سب کچھ

ظفرؔکلیم


وہ مرا رب مرا خدا سب کچھ
میں تو اس کا ہوں وہ مرا سب کچھ


ہے سبھی کچھ اسی کے قبضے میں
آگ‘ مٹی‘ ہوا‘ گھٹا سب کچھ


لفظِ کُن سے یہ کائنات بنی
کُن کہا اس نے ہوگیا سب کچھ


کام سارے ہماری مرضی کے
ہے اسی کی مگر رضا سب کچھ


میں کسی اور سے نہ کچھ مانگوں
مجھ کو اس نے کیا عطا سب کچھ


چھین لیں جب بلندیاں اس نے
یاد آیا کہ ہے خدا سب کچھ


جان لیجئے نہیں کوئی کچھ بھی
مان لیجئے ظفرؔ خدا سب کچھ

Post a comment

0 Comments