دل میں احساس کی قندیل جلا دیتا ہے بند ہونٹوں کے مرے حرفِ نوا دیتا ہے

دل میں احساس کی قندیل جلا دیتا ہے بند ہونٹوں کے مرے حرفِ نوا دیتا ہے

سعیدؔ رحمانی


دل میں احساس کی قندیل جلا دیتا ہے
بند ہونٹوں کے مرے حرفِ نوا دیتا ہے


دن کے ماتھے کو عطا کرتا ہے اجلا جھومر
شب کے آنچل کو ستاروں سے سجا دیتاہے


سامنے آتی ہے کانٹوں کی مسافت جب بھی
پھول راحت کے سرِ راہ کھلا دیتا ہے


بحرِ ہستی میں اٹھاتا ہے تلاطم خود ہی
کشتیوں کو بھی کنارے سے لگا دیتا ہے


ڈھونڈ سکتی نہیں جب اپنی نگاہیں اس کو
وہ رگِ جاں سے قریب آ کے صدا دیتا ہے


اس کی تعریف میں برتا ہوا ہر لفظ سعیدؔ
دل کے جذبوں کا ہر اک رنگ بتا دیتا ہے

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے