اگرتویہ زمین نہیں بناتا ہم خلائوں میں تیرتے رہتے

اگرتویہ زمین نہیں بناتا ہم خلائوں میں تیرتے رہتے

ضمیرکاظمی


اگرتویہ زمین نہیں بناتا
ہم خلائوں میں تیرتے رہتے
تو نے زمیں کی کوکھ میں
آبی ذخیرے نہ سموئے ہوتے
ہم فضائوں میں نمی چوستے رہتے
تونے خورشید کو تپش دے کر
چمکایانہ ہوتا
فصلیں اگتی اورپکتی کیسے؟
ہماری دنیا اندھی
اندھیاری ہوجاتی
رب العالمین!
تونے زمین وآسمان کی
بے پناہ دولت اورخلافت
ہمیں عطا کردی(کتنا سخت امتحان ہے)
قیامت قریب اور ہم
بے چین و پریشان
بے حس و حرکت
یاغفورالرحیم!
ہمیں ایمان کی حرارت سے پگھلادے
کل کائنات پرپھیلادے
ہم پرامید ہیں
تجھے بھی یہی مقصود ہے نا؟

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے