جو آتی ہے خزاں گلستاں میں خزاں تیرے اشارے پر مہکتا بھی ہے یا رب! گلستاں تیرے اشارے پر

جو آتی ہے خزاں گلستاں میں خزاں تیرے اشارے پر مہکتا بھی ہے یا رب! گلستاں تیرے اشارے پر

مولانا ساحلؔ قاسمی


جو آتی ہے خزاں گلستاں میں خزاں تیرے اشارے پر
مہکتا بھی ہے یا رب! گلستاں تیرے اشارے پر
غمِ احمد جو ہے دل میں نہاں، تیرے اشارے پر
یہ مجھ پر ہے کرم کا سائباں، تیرے اشارے پر
بغاوت تجھ سے اے اللہ کی جس نے بھی دنیا میں
مٹا اس کا زمانے سے نشاں تیرے اشارے پر
ملے موسیٰ کو تو دریا میں رحمت سے تری رستے
ہوا غرقاب فرعونِ زماں، تیرے اشارے پر
ہوئی ہے آتشِ نمرود ابراہیم پر ٹھنڈی
مٹا نمرود کا نام و نشاں، تیرے اشارے پر
ملا قارون کا سارا خزانہ خاک میں یا رب!
بنا شداد عبرت کا نشاں، تیرے اشارے پر
خدا ساحلؔ کو دے توفیق ان کی طرح جینے کی
جنہوں نے راہِ حق میں دی ہے جاں،تیرے اشارے پر

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے