آگہی کی کرن بھی دیتا ہے پھول‘ خوشبو‘ چمن بھی دیتا ہے

آگہی کی کرن بھی دیتا ہے پھول‘ خوشبو‘ چمن بھی دیتا ہے

ظفراقبال ظفرؔ(فتح پور)


آگہی کی کرن بھی دیتا ہے
پھول‘ خوشبو‘ چمن بھی دیتا ہے


پھول صحرائوں میں کھلا کر وہ
ہم کو سروسمن بھی دیتا ہے


کلمہ اس کا طیور پڑھتے ہیں
اس کی خوشبو ہرن بھی دیتا ہے


اس کا قبضہ ہے سب کی سانسوں پر
روح بھی وہ بدن بھی دیتا ہے


وہ بناکر ادیب و نکتہ رس
دولتِ فکرو فن بھی دیتا ہے


میری گویائی اس کے قبضے میں
لفظ و معنی‘ سخن بھی دیتا ہے


عشق کے راز منکشف کرکے
حسن کو بانکپن بھی دیتا ہے


دے کے تہذیب وہ ظفرؔ ہم کو
زندگی کا چلن بھی دیتا ہے

Post a comment

0 Comments