ہر ردیف تیری ہے قافیہ بھی تیرا ہے میرے شعر میں پنہاں فلسفہ بھی تیرا ہے

ہر ردیف تیری ہے قافیہ بھی تیرا ہے میرے شعر میں پنہاں فلسفہ بھی تیرا ہے

نیرؔ قریشی گنگوہی


ہر ردیف تیری ہے قافیہ بھی تیرا ہے
میرے شعر میں پنہاں فلسفہ بھی تیرا ہے


دلنواز چہروں کی گمرہی سے رکھ محفوظ
سب بصارتیں تیری آئینہ بھی تیرا ہے


میرے بال و پر کو دے حوصلہ اڑانوں کا
ہفت آسماں تیرے اور خلا بھی تیرا ہے


جو دلیل روشن ہو وہ مجھے عنایت کر
منطقیں بھی تیری ہیں فلسفہ بھی تیرا ہے


صفحۂ مقدّر تو جگمگا مرے مولا
سب سطور تیری ہیں حاشیہ بھی تیرا ہے


مجھ پہ قفلِ ابجد کا راز ہو عیاں یارب
ہر نگاہ تیری ہے زاویہ بھی تیرا ہے


اپنے در سے نیرؔ کو نورِ آگہی دیدے
اس فقیر کو مولیٰ آسرا بھی تیرا ہے

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے