زندگی تیری مہربانی ہے تیری بس تیری ہی کہانی ہے

زندگی تیری مہربانی ہے تیری بس تیری ہی کہانی ہے

رخشاں ؔہاشمی


زندگی تیری مہربانی ہے
تیری بس تیری ہی کہانی ہے


تیرا جلوہ ہے چار سو روشن
ہے کرم تیرا زندگانی ہے


سارے منظر میں تجھ کو دیکھا ہے
سارا عالم تری نشانی ہے


تو ہی دیتا ہے عزت و ذلت
آگ بھی تو ہے تو ہی پانی ہے


تو جو چاہے تو سب فنا کردے
ہر جگہ تیری راجدھانی ہے


یاد میں تیری گر رہا ہے جو
رخشاںؔ کی آنکھ کا وہ پانی ہے

Post a comment

0 Comments