گلشن میں ایسے پھول سجادے مرے مولیٰ مرجھائے ہوئے دل کو کھلادے مرے مولیٰ

گلشن میں ایسے پھول سجادے مرے مولیٰ مرجھائے ہوئے دل کو کھلادے مرے مولیٰ

امین جامیؔ


گلشن میں ایسے پھول سجادے مرے مولیٰ
مرجھائے ہوئے دل کو کھلادے مرے مولیٰ
ہنگامۂ بارود تو دیکھا نہیں جاتا
جلتے ہوئے صحرا کو بجھادے مرے مولیٰ
یہ رہزنی‘ یہ آگ‘ یہ سیلاب‘ زلزلے
بندوں کو ترے یوں نہ سزادے مرے مولیٰ
ذہنوں کو بدلنا تو ترا کام ہے لیکن
بھٹکے ہوئوں کو راہ دکھادے مرے مولیٰ
مظلوم و ناتواں بھی لڑیں ظلم و ستم سے
ان کے یہ حوصلے بھی بڑھادے مرے مولی
آوارگی‘ غربت‘ یہ تساہل‘ یہ جہالت
سوئی ہوئی نسلوں کو جگادے مرے مولیٰ
معمور ہو ایمان کی دولت سے مرادل
ہاں ایسا ہنر مجھ کو سکھادے مرے مولیٰ
ہر سو ہو زمانے میں فقط تیری حکومت
دریا تری رحمت کا بہادے مرے مولیٰ
اک التجا حقیر امینؔ حزیں کی ہے
صدقہ تری عظمت کا لٹادے مرے مولیٰ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے