پھر ملّتِ بیضا کو تو عظمتِ رفتہ دے یارب تو مسلماں کو پھر رتبۂ اعلیٰ دے

پھر ملّتِ بیضا کو تو عظمتِ رفتہ دے یارب تو مسلماں کو پھر رتبۂ اعلیٰ دے

اعجاز ؔ جونپوری


پھر ملّتِ بیضا کو تو عظمتِ رفتہ دے
یارب تو مسلماں کو پھر رتبۂ اعلیٰ دے


اس طالبِ دریا کو معراجِ تمناّ دے
بچھڑے ہوئے قطرے کو پھر عشرتِ قطرہ دے


عرفانِ محبت کی منزل ہو عطا یارب
ہوجائوں فنا جس میں وہ عشق کا دریا دے


ہے زور نہنگوں کا طوفان میں ہے کشتی
یارب ہو کرم ایسا دریا بھی سہارا دے


ہر خواہشِ دنیا کو اب دل سے مٹا یارب
صرف اپنی محبت تو ہم کو گلِ یکتا دے


قسمت میں لکھا دیکھوں القا ہوں عواقب بھی
اعجازؔ کو بھی یارب ایسا دل بینا دے

Post a comment

0 Comments