کبھی بھی راستے ہوئے نہیں مرے مسدود کہ ’’لا‘‘ کے بعد جو ہے بس وہی مرامقصود

کبھی بھی راستے ہوئے نہیں مرے مسدود کہ ’’لا‘‘ کے بعد جو ہے بس وہی مرامقصود

ربابؔ رشیدی


کبھی بھی راستے ہوئے نہیں مرے مسدود
کہ ’’لا‘‘ کے بعد جو ہے بس وہی مرامقصود


سمندروں کی سیاہی قلم درختوں کے
حدود ان کی مقرر مگر وہ لامحدود


بڑا رحیم‘ بڑا کارساز ہے مولا
جہاں جہاں بھی پکارا وہاں وہاں موجود


ہمارے ہونٹوں پہ ہے لاالہ الا اللہ
حضور جس کے ہیں سب ایک جیسے غیب وشہود


ازل سے پہلے بھی وہ اور ابد کے بعدبھی وہ
وہی ہے صرف وہی کائنات کا مسجود


سوائے اس کے یہاں کل من علیہا فان
یہ نقش ورنگ چراغ حیات دود ہی دود


ترا سہارا ترا آسرا تری رحمت
یہی ہے زاد سفر میرا اے مرے معبود

Post a comment

0 Comments