وہ جلوہ نمائے کون و مکاں، سبحان اللہ سبحان اللہ وہ حسن طراز بزم جہاں، سبحان اللہ سبحان اللہ

وہ جلوہ نمائے کون و مکاں، سبحان اللہ سبحان اللہ وہ حسن طراز بزم جہاں، سبحان اللہ سبحان اللہ

محمدنعیم الرحمن نعیم جلالپوری



وہ جلوہ نمائے کون و مکاں، سبحان اللہ سبحان اللہ
وہ حسن طراز بزم جہاں، سبحان اللہ سبحان اللہ
فردوس بریں، گلزار جہاں،، سبحان اللہ سبحان اللہ
سامان طرب، حور و غلماں، سبحان اللہ سبحان اللہ
مہتاب منور، کاہکشاں، سبحان اللہ سبحان اللہ
ضوبار جہاں، مہرتاباں، سبحان اللہ سبحان اللہ
کہسار، دمن، بستی، صحرا، گلزار، بیاباں وحشت زا
ذخار سمندر، آب رواں، سبحان اللہ سبحان اللہ
اشجار پہ برگ و غنچہ و گل، طائوس، زغن، قمری،بلبل
یہ حسن نما وہ زمزمہ خواں، سبحان اللہ سبحان اللہ
تاریکی شب کی تنہائی، انوار سحر کی رعنائی
ایام بہاراں، فصل خزاں، سبحان اللہ سبحان اللہ
کیا فرش و فلک، کیابزم ملک، قدرت کی ہے اس کی سب میں جھلک
ہر شے میں نہاں ہرشے سے عیاں، سبحان اللہ سبحان اللہ
الفاظ احاطہ کرنہ سکیں ادراک کی ٹوٹیں ساری حدیں
عاجز ہے زباں، قاصر ہے بیاں، سبحان اللہ سبحان اللہ
توفیق نعیم زار کو بھی، رحمت سے الٰہی دے اپنی
تاعمر ہو اس کے ورد زباں، سبحان اللہ سبحان اللہ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے