کریم ہے تو مجھے ندرتِ بیاں دیدے دہن میں حافظِ شیرازؔؒ کی زباں دیدے

کریم ہے تو مجھے ندرتِ بیاں دیدے دہن میں حافظِ شیرازؔؒ کی زباں دیدے

ادیب ؔرائے پوری


کریم ہے تو مجھے ندرتِ بیاں دیدے
دہن میں حافظِ شیرازؔؒ کی زباں دیدے


وہ نطق دے کہ ہر اک رنگ سے جدا کردے
کرم سے مثنویٔ رومؔؒ کی ادا دیدے


بنادے خواب کی اقبالؔؒ کے مجھے تعبیر
ہو پائے فکر میں مضبوط‘ عشق کی زنجیر


ترے کرم سے نظر آئے حسن ہر خامی
ہو میری طرزِ نگارش، عبارتِ جامیؔؒ


ترے کرم کے تصدّق، کر اور اک احسان
کہ میری فکر پہ سایہ فگن رہیں حسانؔؓ


تمام عمر وہ نعتوں کا اہتمام رہے
کہ میرے گرد فرشتوں کا اژدھام رہے


طفیلِ شاہِؐ امم، جن پہ ہو سلام و درود
ادیبؔ کا بھی ثنا میں مقام ہو محمود

Post a comment

0 Comments