مہکے ہوئے الفاظ کے پھولوں کی لڑی دے اللہ مجھے حوصلۂ نعتِ نبی دے

مہکے ہوئے الفاظ کے پھولوں کی لڑی دے اللہ مجھے حوصلۂ نعتِ نبی دے

ڈاکٹرخالد انجم


مہکے ہوئے الفاظ کے پھولوں کی لڑی دے
اللہ مجھے حوصلۂ نعتِ نبی دے
دنیا کی محبت کو کبھی دل سے ہٹا کر
دینا ہے تو سینے کو ذرا قلب غنی دے
ہر ذہن میں قرآن کو سنت کو بٹھا دے
پگھلا کے ہر اک دل کو تو آنکھوں میں نمی دے
چھائی ہوں سدا گلشن ہستی پہ بہاریں
ہر پھول معطر ہو تو ہر شاخ ہری دے
لگتا ہے کہ اسلام کی پیاسی ہے یہ دنیا
اس عہد کو پیغام رسول عربی دے
بندے ترے حیران وپریشان ہیں سارے
سوکھے ہوئے ہونٹوں کو مسرت کی نمی دے
آخر میں تری راہ میں کچھ کام تو آئوں
انجم کی دعا ہے کہ ذرا عمر بڑی دے

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے