دعائیں سن کے لوگوں کی عطائیں بانٹ دیتا ہے خدا ایسا سخی ہے جو سخائیں بانٹ دیتا ہے

دعائیں سن کے لوگوں کی عطائیں بانٹ دیتا ہے خدا ایسا سخی ہے جو سخائیں بانٹ دیتا ہے

شاعرعلی شاعرؔ (کراچی)


دعائیں سن کے لوگوں کی عطائیں بانٹ دیتا ہے
خدا ایسا سخی ہے جو سخائیں بانٹ دیتا ہے


وہ پیاسوں کی بجھائے پیاس شبنم اور بارش سے
وہ جل تھل کھیت کرنے کو گھٹائیں بانٹ دیتا ہے


شب تاریک سے ہم کو بچانے کے لئے سن لو
سحر کے گوشے کو ضیائیں بانٹ دیتا ہے


کوئی بیمار دل رو رو کے جب فریاد کرتاہے
وہ کن کہہ کر مریضوں کو شفائیں بانٹ دیتا ہے


کلی کو کھلتے کھلتے ہی عطا خوشبو وہ کرتا ہے
گلوں کی خوبصورت سی قبائیں بانٹ دیتا ہے


نمونے اس کی قدرت کے جہاں میں ہر جگہ موجود
پہاڑوں کو وہ برفیلی ردائیں بانٹ دیتا ہے


گھٹن سے جب چٹخنے لب لگے شاعرؔ توایسے میں
وہ ٹھنڈی ٹھنڈی بادل کو ہوائیں بانٹ دیتا ہے

Post a comment

0 Comments