میں اندھیرے میں ہوں روشنی دے اے خدا آگہی دے خدا، آگہی دے خدا

میں اندھیرے میں ہوں روشنی دے اے خدا آگہی دے خدا، آگہی دے خدا

محفوظ قیصرؔ


میں اندھیرے میں ہوں روشنی دے اے خدا
آگہی دے خدا، آگہی دے خدا


تیرے بندے کا دل بجھ نہ جائے کہیں
غم دئے ہیں بہت، کچھ خوشی دے خدا


یا خدا، یاخدا کی صدا لب پہ ہو
وجد کرتی ہوئی زندگی دے خدا


میں طلب گار دریا کا تجھ سے نہیں
کب سے پیاسا ہوں، اک بوند ہی دے خدا


در پہ تیرے رہوں آخری سانس تک
اس طرح کی مجھے بندگی دے خدا


ایک دنیا خودی میں گرفتار ہے
بے خودی دے خدا، بے خودی دے خدا


ساز قیصرؔ کو تونے دیا ہے تو پھر
اس کی آواز کو سوز بھی دے خدا

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے