سیاہ شب کو مری، چاند کاکٹورا دے وہی تو دھوپ کے صحرا میں مجھ کو سایہ دے

سیاہ شب کو مری، چاند کاکٹورا دے وہی تو دھوپ کے صحرا میں مجھ کو سایہ دے

مقصود بستوی


سیاہ شب کو مری، چاند کاکٹورا دے
وہی تو دھوپ کے صحرا میں مجھ کو سایہ دے
کسی کسیگ پہ کرے تنگ حلقۂ گرداب
کسی کسی کو وہی پانیوں میں رستہ دے
ڈبو نہ دے کہیں یہ موجِ حادثات مجھے
مری حیات کی کشتی کو اب کنارا دے
ہر ایک لفظ میں شامل ہو تیری حمد و ثنا
ہر ایک حرف ترے نام کا اجالا دے
خزاں سمیٹ کے موسم کو پُربہار کرے
شجر پہ پھول کھلائے ،زمیں کو سبزہ دے
شعور ِ فکر و نظر سے اجال دے مجھ کو
مجھے مزاج برنگِ قلندرانہ دے

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے