Imam Ahmed Raza Aur Moulana Hasan Raza Ki Naatiya Shayeri Ka Ek Mawazinaat Mutalia > Dr Siraj Ahmed Qadari

Imam Ahmed Raza Aur Moulana Hasan Raza Ki Naatiya Shayeri Ka Ek Mawazinaat Mutalia > Dr Siraj Ahmed Qadari

                    مولانا احمد رضا ؔبریلوی اور مولانا حسن ؔرضا بریلوی                                      کی نعتیہ شاعری کا ایک موازناتی مطالعہ

 ڈاکٹر سراج احمد قادری
  ایم۔اے۔پی۔ایچ ۔ڈی

             موازنہ لغت میں ہم وزن ہونا ۔دو چیزوں کا با ہم وزن ہونا کہتے ہیں۔ اردو ادب میں موازنہ کی روش بہت قد یم ہے۔ جب ہم طالب علم تھے تو اکثر ہم سے امتحانات میں ایک ہی موضوع پر دو ہم عصر شاعروں یا نثر نگاروں کی تخلیقات کے حوالے سےانکی شاعرانہ خوبیوںیا نژ نگاری کی عظمت کے بارے میں ماواز ناتی سوالات کیۓ جاتے تھے۔اور ہم انکے اشعار یا نثری تخلیقات کا با ہم موازنہ کرکے انکے مقام و مرتبے کا تعین کرتے تھے کہ اس شاعر یا نثر نگار کی فکری پرواز اس مقام پرگامزن ہے۔ 
             موازنے کا مقصد و مطلب صرف اور صرف اس صنف میں شاعر یا نثر نگار کے مقام و مرتبے کا تعین یا اسکی فکری سر بلندی کی زیبایش کو نمایاں کرنا ہے نہ کہ کسی کی تضحیک یا کسی کو کم تر ثابت کرنا۔ موازنے میں ایک دوسرے کی شخصیت لازم و ملزوم کا درجہ رکھتی ہے۔ جسکو ایک مثال کے ذرے بایں طور سمجھا جا سکتا ہے۔ جیسے علم العداد میں ایک اور دو کا ہندسہ ۔ علم ا لعداد میں ایک اور دو الگ الگ ہندسے ہیں ۔اور دونوں کا الگ الگ مقام و مرتبہ اور معنیٰ و مفہوم ہے۔ مگر بغیر ایک دوسرے کے ۔ایک دوسرے کو سمجھنا ممکن نہیں۔ ماہرین علم الہندسہ نے ایک کے ( عدد) کی تعریف ۔احدا لا ثنین سےکی ہے۔ یعنی دو کا ادھا ایک ۔ جسکا  واضح مفہوم یہی ہوگا کہ بغیر دو کے ایک کا تصور ممکن ہی نہیں ۔ اور دو کا وجود بغیر ایک کے ممکن نہیں ۔گویاکہ ایک اور دو کی عدد ایک دوسرے کے لیۓ لازم و ملزوم ہیں۔


                                                ۲ 
                          ٹھیک اسی طرح اگر کسی شاعر یا نثر نگار کو کسی مقام پر اپنے ہم فکر شاعر یا نژ نگار پر اوّلیت کا شرف حاصل ہے تو اسکے ثانی کی وجہ سے ہے نہ کہ بذات خود۔ گویا کہ ثانی کی منظوم یا منثور تخلیقات نے اسکو اوّلیت کا شرف عطا کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
        جب ہم اس موضوع پر اردو ادب میں تحریر کی جانے والی کتابوں پر ایک طأ یرانہ نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں علامہ شبلی نعمانی کی ــ ـ ـ ـ  ’ ’ موازنۂ انیس و دبیر ‘‘  انفر ادی طور پر نظر آتی ہے۔ علامہ نے اس کتاب میں بڑی چابکدستی سےمیر انیسؔ  او ر مرزا دبیرؔ  کے مرثیوں کا موازنہ کیا ہے ۔ مگر کہیں کہیںانکے ہاتھ سے اعتدال کا دامن چھوٹتا ہو ا نظر آتا ہے وہ موازنے کے بجاۓ کڑی تنقید کی راہ پر چل پڑتے ہیں ۔ کہیں تو وہ مرزا دبیرؔ  پر کڑی چو ٹ کرتے ہوے ٔ انکی شاعری میں جملہ خوبیوں کے منکر نظر آتے ہیں۔ اور کہیں انکی شاعری میں بلاغت کے معترف ہیں ۔ جیسا کہ درج ذیل اقتباسات کے مطالعے سے قارین کرام پر خود ہی واضح ہو جاےگا ۔اس طرح انکی اس کتاب میں تناقض کی غمازی بھی نظر آتی ہے۔ ممکن ہے یہ میری کور فہمی یا کم فہمی ہو مگر جس چیز کو میں نے محسوس کیا ہے اسکا اظہار میں نے کر دیا ہے۔ اس سے اگر چہ حقیقت کا اظہار مقصود ہے مگر اپنی اصلاح بھی مطمح نظر ہے۔ چنانچہ وہ میر انیس ؔ اور مرزا دبیرؔ کے موازنے میں فرماتے ہیں۔


          ’’ شاعری کس چیز کا نام ہے ؟ کسی چیز‘ کسی واقعہ‘ کسی حالت‘کسی کیفیت کا‘ اس طرح بیان کیا جاے ٔ  کہ اسکی تصویر آنکھوں کے سامنے پھر جاۓ۔ 
        دریا کی روانی ‘جنگل کی ویرانی‘باغ کی شادابی ‘سبزہ کی لہک ‘پھولوں کی مہک ‘خوشبو کی لپٹ‘نسیم
   کےجھونکے‘ دھوپ کی سختی‘گرمی کی تپش‘جاڑوں کی ٹھنڈ‘صبح کی شگفتگی‘شام کی دل آویزی‘یا رنج و غم‘غیظ                                       و غضب ،جوش و محبت‘ افسوس وحسرت‘  عیش و طرب‘استعجا ب و حیرت‘ان چیزوں کا اس طرح بیان کرنا
                                          ۳ 
 کرنا کہ وہی کیفیت دلوں پر چھا جاۓ اسی کا نا شاعری ہے۔ 
      اس کے ساتھ الفاظ میں فصاحت ‘ سلاست‘روانی‘بندش میں چستی ‘اور چستی کے ساتھ بےتکلفی ‘ دل    آویزی اور بر جستگی ‘لطیف اور نازک تشبیہات اور استعارات ‘اصول بلاغت کے مر ا عات ان تمام اوصاف میں سے کون سی چیز مرزا دبیر ؔمیں پایٔ جاتی ہے۔ فصاحت انکے کلام کو چھو نہیں گیٔ۔بندش میں تعقید اور اغلاق ‘تشبیہات اور استعارات ‘ اکثر دور ازکار ‘ بلاغت نام کو نہیں ‘کسی چیز یاکسی کیفیت یا حالت کی تصویر کھنچنےسے وہ بالکل عاجز ہیں ‘خیال آفر ینی اور مضمون بندی البتہ ہے‘لیکن اکثر جگہ اسکو سنبھال نہیں سکتے۔۲


    اور دوسری جگہ پر تحریر فرماتے ہیں۔
           ’’ یہ وہ چیز ہے جہاں انیسؔ اور دبیرؔ کی شاعری کی سرحدیں‘بالکل الگ ہو جاتی ہیں ‘ مرزا صاحب کی شاعری میں بالفرض گو اور تمام اوصاف پاۓ جاتے ہیں‘لیکن بلاغت کا شایبۂ نہیں پایا جاتا۔۳
    اور آگے چل کر تحریر فرماتے ہیں۔
  ’’ میر انیس ؔ اور مرزا دبیرؔ کے موازنے میں عموماًمیر انیسؔ کی ترجیح ثابت ہوگی لیکن ہر کلّیے میں مستثنا ہوتا ہے۔بعض موقعوں پر مرزا ؔ دبیر صاحب نے جس بلاغت سے مضمون کو ادا کیا ہے‘میر انیسؔ سے نہیں ہوسکا ۔۴
        در حقیقت فصاحت و بلاغت   زبان و ادب کی وہ خوبی ہے جو سبکو عطا نہیں ہوتی اور شاعری کی روح فصاحت و بلاغت ہی ہے۔ یوں تو اللہ تعالیٰ نے سب کے منھ میں زبان دی ہے ۔ مگر زبان و بیان کا سلیقہ  سبکو میسر نہیں۔ زبان و بیان میں وہ خوبی ہو تی ہے کہ وہ اپنے سامنے والے انسان کو اپنی گرفت میں ایسے


                                                  ۴
 ہی لے لیتی ہے جیسے کہ لوگ ’’ زلفوں کے اسیر ہو جایا کرتے ہیں‘‘  یا ’’ اک نگہ میں غلام ہو جایا کرتے ہیں‘‘  ۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے اسی لیے حضرت ہارون علیہ السلام کو اپنا وزیر بنانے کےلیے دعاء کی تھی کہ حضرت ہارون علیہ السلام کو ا للہ تعالیٰ نے زبا ن پر قدرت عطا فرمایٔ تھی ۔ جس سے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پیغام کو اپنی قوم تک اچھی طرح پہنچا سکیں ۔شاید مرزا غالب ؔ دہلوی نے اسی لیے اپنے بارے میں فرمایا تھا ؎
                                    ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے 
                                    کہتے ہیں کہ غالب ؔ کا ہے انداز بیاں اور
            مولانا احمد رضا خاں بریلوی اور مولانا حسن رضا خاں بریلوی دونوں حقیقی بھایٔ ہیں ۔ اور دونوں اپنے وقت کے مستند نعت گو شعرأ میں شمار کۓ جاتے ہیں ۔ اس بات پر دانشوروں کا اتفاق ہے کہ انکی نعت گویٔ مکمل طور پر میزان شریعت پر پوری اترتی ہے۔ یہ دونوں ایسے نعت گو شاعر ہیں جنکا کلام افراط تفریط سے پاک و منزہ ہے۔اور ما بعد کے نعت گو شعرا کے لیے مشعل را ہ بھی ہے۔


         مولانا احمد رضا خاں رضاؔ بریلو ی ۱۰ ؍شوالالمکرم ۱۲۷۲؁ھ  مطابق ۱۴؍جون۱۸۵۶   ؁ء   بز شنبہ بوقت ظہر شہر بریلی میں پیدا ہوۓ۔ اور۲۵؍صفرالمظفر۳۴۰؁۱ھ   ۱۹۲۱؁ء کو شہر بریلی ہی میں محلہ سودا گر ان میں وصال فرمایا ۔ اور مولانا حسن رضا خاں حسنؔ بریلوی ۲۲ ؍ربیع الاوّل  ۱۲۷۶؁ھ  مطابق ۱۹؍اکتوبر۱۸۵۹؁ء کو محلہ سودا گران ‘ بریلی میں پید ا ہوۓ۔ اور ۳؍شوالالمکرم ۱۳۲۶؁ھ کو محلہ سودا گراں میں ہی وصال فرمایا ۔ 
            مولانا احمد رضا خاں رضا ؔ بریلوی کی شاعری کا جب ہم غایرنظر مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں انکی
  شاعری میں عشق مصطفیٰ ﷺکی ایسی جلوہ ساما نیاں نظر آتی ہیں کہ عقل انگشت بدنداں نظر آتی ہے۔
                                               ۵ 
  انکی شاعری مدحت مصطفیٰ ﷺ کا ایسا خزینہ ہے کہ جسکی نظیر اردو شاعری پیش کرنے سے قاصر ہے۔  مولانا احمد رضا ؔ خاں بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک سچے عاشق رسول ﷺ ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے وقت کے ایسے جید عالم دین تھے کہ جنکی ر ا سخ العلمی کا اعتراف اپنے اور غیر سبھی نے کیاہے۔ وہ مصطفیٰ جان رحمت ﷺ کی محبت میں اس قدر ڈوبے ہوے ٔتھے کہ انہوں نے کسی شاعر کو اپنا استاذ بنانا گوارہ ہی نہیں کیا ۔ انہوں نے صاف صاف اعلان فرمایا کہ نعت گویٔ میں اگر کسی کو اپنا استاذ بنایا جا سکتا ہے تو صرف اور صرف حضرت حسّان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ۔ اس لیے کہ حضرت حسّان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وہ ذات ہے کہ جنکی پزیرایٔ کے لیے اللہ کے محبوب ﷺ نے مسجد نبوی شریف میں ممبر بچھایا ا نکی ستایش فرمایٔ ۔ اور دعاؤ ں سے نوازا کہ حسّان جب تک تم میری مدح و ثنا میںلگے رہوگے حضرت جبریل تمھاری مدد میں لگے رہیںگے۔ اسی لیے تو فخر و انبساط کے ساتھ فرماتے ہیں ؎
                                                   رہبر میں رہ نعت کی گر حاجت ہو 
                                                   نقش قدم حضرت حساّں بس ہے
          نیز فرماتے ہیں کہ نعت گویٔ کے آداب قران سے بہتر کون بتا سکتا ہے جو جان شر یعت ہے۔ قران نعت گویٔ کی رہ نماییٔ کے لیۓ کافی ہے چنانچہ فرماتے ہیں ؎
                                                  قران سے میں نے نعت گویٔ سیکھی
                                                   یعنی  رہے  احکام شریعت  ملحوظ
               استاز ذمن مولانا حسن رضا خاں حسنؔبریلوی کی شخصیت و شاعری مطالعہ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ فصیح الملک بلبل ہند مرزا داغ ؔ دہلو ی کے ارشد تلامذہ میں سے تھے ۔ انہوں نے شعر گویٔ کا آغاز
  اولاًغزل گویٔ سے کیا ۔ لیکن جب انکے بڑے بھایٔ مولانا احمد رضا ؔ خاں بریلوی علیہ الرحمہ نے انکو اسکی
                                            ۶
   بےثباتی کا احساس دلایا تو وہ غزل گویٔ سے منحرف ہو کر نعت گویٔ کی جانب متوجہ ہو گۓ اور پھر آخری دم تک مصطفیٰ جان رحمت ﷺ کی مدح و ثنا میں رطب الّسان رہے۔  
         غزل گویٔ کے زمانے میں انہو ں نے فصیح الملک ،بلبل ہند مرزا داغؔ دہلوی کے سا منے زانوے ادب تہ کیا۔ اس لیۓکہ انکو اردو ادب کی محبوب ترین صنف ، صنف غزل سے گہر ا شغف تھا ۔وہ اس صنف میں مقام پیدا کرنا چاہتے تھے ۔ جس گھڑی انہوں نے آغاز سخن فرمایا اس وقت مرزا داغؔ دہلوی کی سخن وری کا شہرہ عام تھا ۔داغؔ کی شعریت کی دھوم پورے ہندوستان میں مچی ہوی ٔ  تھی۔ اسی لیۓ انہو ں نےبھی وقت کی نزاکتوں کا احساس کرتے ہوۓ مرزا داغ ؔ دہلوی سے ہی مشورۂ سخن لینا بہتر سمجھا ۔ اور پھر داغؔ  کی شاگردی اختیار کر لی ۔ کچھ ہی دنوں کی مشق و مزاولت کے بعد استا ٖ ذ داغؔ دہلوی کے رنگ میں غزلیں کہنا شروع کردیں ۔اور سخن وری میں اس مقام پر پہونچ گۓ کہ انکی بعض غزلوں کو دیکھ کر یا پڑھکر داغؔ دہلوی کی غزل کا گمان ہونے لگا ۔ مگر افسوس اس بات کا ہے کہ اردو ادب کی تاریخ کے مرتبین نے انکے ساتھ انصاف نہیں کیا ۔ اور ادب میں انکو جو مقام و مرتبہ ملنا چاہیۓ تھا وہ آج تک نہیں مل سکا ۔ ایسا لوگوں نے کیوں کیا؟ بات سمجھنے میں نہیں آتی۔اور اگر کچھ مصنفین نے انکا ذکر کیا بھی ہے تو بس ایسے ہی سر سری طور پر جس کا کویٔ خاص مطلب نہیں نکلتا ۔ جیسا کہ مشہور مورّخ مولانا عبد السلام ندوی صاحب نے اپنی کتاب ’’ شعرالہند‘‘ جلد اوّل ‘ دارلمصنفین شبلی اکیڈمی‘ آعظم گڈھ ایڈیشن ۲۰۰۹؁ء کے صفحہ ۳۲۳تا ۳۲۶ پر ذکر کیا ہے ۔ مگر یہ ذ کر صرف انکے منتخب اشعار پر ہی مبنی ہے۔ اوراپنی اسی تصنیف ’’ شعرالہند ‘‘ جلد اول کے صفحہ ۳۲۰ پر ہی بڑے سلیقے سے معذرت کے ساتھ رقم طراز ہیں؎ 


     ’’ نواب مراز داغ ؔ کے تلامذہ میں بیخود ؔ بدا یونی، بیخود ؔ دہلوی  ،نسیم ؔ بھرت پورری،نوحؔ ناروی،سأیلؔ
  دہلوی حسنؔ بریلوی ، آغا ؔشاعر د دہلوی،بیبکاؔک،حیرتؔ،آزادؔ،رساؔ،فیروزؔشاہ رامپوری،احسنؔمارہ روی
                                             ۷ 
اور اشکؔ وغیر ہ مشور ہیں۔اور ان میں بعض صاحب دیوان بھی ہیں۔ لیکن افسوس ہے کہ میرؔ و جلالؔ کے تلامذ کی طرح ہم کو ان کے دو این دستیاب نہ ہو سکےکہ ہم ان کے متعلق تفصیلی راۓ قآیم کر سکتے۔                    اگر مولانا  محترم نے قدر کوشش کرکے انکے احوال آثار پر بھی روشنی ڈال دی ہوتی تو جب کویٔ  ادب کاطالب علم انکی اس کتاب کا مطالعہ کرتا تو اسے انکے حولے سے مایوسی کا احساس نہیں ہوتا ۔ منتخب اشعار کے مطالعے سے انکی شعر گویٔ کا پہلو تو نمایا ں ہو جاتا ہے ۔ مگر انکی شخصیت کا پہلو تشنہ رہ جاتا ہے۔ میں مولانا محترم کے اس تذکرے کو آدھا ادھورا تذکرہ ہی مانتا ہوں اس لیۓ کہ جس سے کسی کی ذات کا کویٔ پہلو مخفی رہ جاۓ تو وہ اس کا جامع اور مکمل تذکرہ نہیں ہو سکتا۔ جامع اور مکمل تذکرہ تو جبھی ہوسکتا ہے کہ جب اسکی شخصیت کے جمیع پہلوؤں کا احاطہ ہو جاے ٔ  کویٔ بھی پہلو تشنہ نہ رہ جاے ۔اور جب کا کویٔ مطا لعہ کرنے والا یا ادب کا طا لب علم اسکا مطالعہ کرے تو وہ مکمل طور پر مطمین ہو جاۓ۔کسی طرح کی اسے تشنگی نہ محسوس ہو۔ 
            حضرت مولانا احمد رضاؔ خاں بریلوی اور استاذ زمن علامہ حسنؔ رضا خان بریلوی علیھم الرحمہ کی نعتیہ شاعر کے موازنے پر کیٔ بار میں نے قلم اٹھانے کی کوشش کی مگر ہر با ر میں یہ سوچ کر قلم رکھ دیتا تھا کہ کہیں میری یہ فکر ا و ر میرا یہ عمل انکے معتقدین کی نظر میں کسی جرم کا ارتکاب نہ قرار پا جاۓ اور میںان کے عتاب کی نذر نہ ہوجاؤں ۔ جبکہ میری نیت صاف ہے میں خود انکے معتقدین میں سے ہوں ۔ لیکن میں بار بار اس خوف وحراس کی منزل سے گزرا ہوں ۔ میرا ماننا ہے کہ ادب کی ہر اس صنف یا علم و فن کے ہر اس زاوۓ سے انکی شخصیتوں کو پرکھا جانا چاہۓ جس پہلو یا گوشے پر بھی انکی شخصیت کو اہل علم کے سامنے بہ سے بہتر انداز میں پیش کیا جا سکتا ہے۔


      جس وقت میں مولانا احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ ـ’’  نعتیہ شاعری ‘‘ پر کانپور یونیورسٹی ، کان پور سے
                                               ۸
  کانپورسےڈاکٹریٹ کا مقالہ قلم بند کر رہا تھا تو ایک بار دوران گفتگو میرے نگراں محترم پروفیسر سید ابوالحسنات حقّی نے فرمایا تھا کہ مولانا  احمد رضا خاں بریلوی علیہ الرحمہ پر انکے معتقدین سے زیادہ کسی نے ان پر ظلم نہیں کیا؟ میں نے عرض کیا وہ کیسے تو انہوں نے فرمایا کہ ا نکے معتقدین نے ان کی علمی و ادبی شخصیت سے صرف نظرکرکے صرف انکی کرامتوں کی تشہیر کی ۔ جس سے انکی علمی و ادبی حثیت دب کر رہ گی۔ ٔ جبکہ کرامتیں تو علم کا عکس ہیں ۔                                                     
             اس وقت مولانا احمد رضا ؔ خاں بریلوی علیہ الرحمہ کا نعتیہ دیوان ’’ حدأیق بخشش  ‘‘حصّہ اوّل دوم طبع شدہ رضا اکیڈ می ، بمبی ٔ ۲۵؍ صفرالمظفر  ۱۴۱۸؁ھ مطابق یکم جولای  ٔ ۱۹۹۷؁ء اور استاز ذمن علامہ حسنؔ ؔرضاخاں بریلوی علیہ ا لرحمہ کی ’’ کلیاّت حسن ‘‘ جس میں انکے نعتیہ مجمو ء ’’ ذوق نعت ‘‘ کے علاوہ درج ذیل  مجموء کلام ’’ وسا یل بخشش ‘‘  ’’ صمصام حسن ‘‘ ’’ قند فارسی‘‘ ’’ قطعات و اشعار حسن ‘‘  بھی شامل اشاعت ہیں ۔ پیش نظر ہے ۔ کلیات حسنؔ  بھی رضا اکیڈمی، ممبیٔ ہی سے  ۲۰۱۲ ؁ء  میں طبع شدہ ہے ۔  
        مولانا احمد رضا ؔ خاں بریلوی علیہ الرحمہ کے نعتیہ دیوان’’ حدآیق بخشش ‘‘ حصہّ اوّل کی شروعات  حضور سیّد عالم ﷺ کی درج ذیل نعت پاک سے ہوتی ہے۔جس کے چند اشعار ملاحظہ ہوں؎ 
                                                   واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا     
                                                  نہیں سنتا ہی نہیں منگنے والا تیرا
  دھارے چلتے ہیں عطا کے وہ ہے قطرہ تیرا 
تارے کھلتے ہیں سخا کے وہ ہے ذرہ تیرا
                                             فیض  ہے  یا شہ  تسنیم  نرالہ  تیرا 
                                            آپ پیاسوں کے تجسس میں ہے دریا تیرا
                                          ۹ 
  فرش والے تری شوکت کا علو کیا جانیں                                                                                             
خسروا  عرش پہ اڑتا ہے  پھریرا تیرا
                                     میں تو مالک ہی کہونگا کہ ہو مالک کے حبیب 
                                     یعنی  محبوب  و محب  میں  نہیں میرا تیرا 
دل عبث خوف سے پتا سا اڑا جاتا ہے 
پلہ ہلکا ہی سہی بھاری ہے اشارہ تیرا 
                                     ایک میں کیا مرے عصیاں کی حقیقت کتنی 
                                     مجھ سے  سولاکھ کو  کا فی ہے  اشارہ تیرا 
تیرے ٹکڑ وںسے پلے غیر کی ٹھوکر پہ نہ ڈال 
جھڑکیاں کھایں کہاں چھوڑکے صدقہ تیرا 
                                      کس کا منھ تکیے  کہاں جایۓ کس سے کہیے
                                       تیرے ہی قدموں پہ مٹ جاۓ یہ پالا تیرا 
 تیری سرکا میں لاتا ہے رضا ؔاس کو شفیع 
جو مرا  غوث ہے  اور لاڈلا بیٹا تیرا            


           اور علامہ حسن رضا خاں حسنؔ  بریلوی علیہ الرحمہ کے نعتیہ مجمو ء  ’’ ذوق نعت ‘‘ کا آغاز دو حمد پاک سے ہوا ہے۔ دونوں حمد پاک کے کچھ منتخب اشعار درج کیۓ جارہے ہیں۔جس کے مطالعےسے آپکو محسوس ہوگا کی انکی حمدوں کا معیار کیا ہے؟ میرے اپنے خیال میں آج تک اردو ادب میں اس سے بہتر انداز میں کویٔ حمد نہیں کہی جا سکی ۔ اگرچہ آج تک لوگ حمد پاک لکھ رہے ہیں اور خوب لکھ رھے ہیں۔ 
                                             ۱۰
 مگر عبد و معبود کے ما بین جو رشتہ ٔ ٔ  عظیم  ہے اسکی نازکی اور عظمت پر سبکی نظر نہیں۔ انکے یہاں یہ پیرایہ بے مثل نظر آتا ہے۔ فصاحت و بلاغت کا یہ عا لم ہے کہ جو لفظ جس جگہ پر ہے وہیں نگینےکی طرح جڑا ہوا ہے۔ بندش وچستی ، خیال کی پاکیزگی ، ندرت تخیل وغیرہ اوصاف انتہایٔ عروج پر نظر آتے ہیں۔اور اس 
  حمد پاک کی سب سے بڑی خوبی جو ہے وہ یہ کہ عبد ومعبود کی سچی تصویر ا س میں نمایاں طور ہر دیکھی جا سکتی ہے ۔ ملاحظہ ہو پہلی حمد پاک کے کچھ اشعار؎
                               ہے پاک رتبہ فکر سے اس بے نیاز کا 
                                کچھ دخل عقل کا ہے  نہ  کام امتیاز 
                                      شہ رگ سے کیوں وصال ہے آنکھوں سے کیوں حجاب 
                                      کیا  کام   اس  جگہ   خرد   ہرزہ    تاز   کا
  افلاک و ارض سب ترے فرماں پزیر ہیں 
  حاکم ہے  تو  جہاں کے  نشیب و فراز کا 
                                            ا س بے کسی میں دل کو مرے ٹیک لگ گی
                                             شہرہ سنا  جو رحمت   بے کس نواز  کا  
  تو بے حساب بخش کہ ہیں بے حساب جرم
  دیتا ہوں   واسطہ   تجھے   شاہ حجاز  کا
                                                   بندہ پہ تیرے نفس لیں ہو گیا محیط 
                                                  اللہ کر علاج مری حرص و آز کا 
  کیوں کر نہ میرے کام بنیں غیب سے حسنؔ
                                           ۱۱
  بندہ بھی ہوں تو کیسے بڑے کارساز کا                       
                                             اور دوسری حمد پاک کے اشعار اس طرح ہیں؎                                       
  فکر اسفل ہے میری مرتبہ آعلیٰ تیرا              
  وصف کیا خاک لکھے خاک کا پتلا تیرا                                                                                                                  طور پر ہی نہیں موقوف اجالا تیرا 
                                            کون سے گھر میں نہیں جلوۂ زیبا تیرا 
 ہر جگہ ذکر ہے اے واحدویکتاتیرا              
  کون سی بزم میںروشن نہیں اکّا تیرا 
                                              پھر نمایاں جو سر طور ہو جلوہ تیرا 
                                             آگ لینے کو چلے عاشق شیدا تیرا 
   خیرہ کرتا ہے  نگاہوں کو اجالا  تیرا 
کیجیے کون سی وآنکھوں سے نظارہ تیرا
                                            نۓ انداز کی خلوت ہے یہ اے پردہ نشیں
                                             آنکھیں مشتاق رہیں دل میں ہو جلوہ تیرہ
سات پردوں میں نظر اور نظر میں عالم 
کچھ  سمجھ میں  نہیں آتا یہ معمّا  تیرا
                                             وحشی عشق سے کھلتا ہے تو اے پردۂ یار
                                           کچھ نہ کچھ چاک گریباں سے ہے رشتہ تیرا
                                       ۱۲ 
سچ ہے انسان کو کچھ کھو کے ملا کرتا ہے 
آپ کو کھو کے تجھے پاۓگا جویا تیرا 
                                                    ہیں تیرے نام سے آبادی و صحرا آباد
                                                    شہرمیں ذکر تیرا ، دشت میں چرچا تیرا
  آمد حشر سے اک عید ہے مشتاقوں کی 
  اسی پردے میں تو ہے جلوۂ زیبا تیرا 
                                                    
                                                  طور پر جلوہ  دکھا یا ہے  تمنایٔ  کو 
                                                 کون کہتا ہےکہ اپنوں سے ہے پردہ تیرا 
  کا م دیتی ہیں یہاں دیکھۓ کس کی آنکھیں 
   دیکھنے کو  تو ہے  مشتاق زمانہ  تیرا 
                                                مے کدہ میں ہے ترانہ تو اذاں مسجد میں 
                                                 وصف ہوتا ہے نۓ رنگ سے ہر جا تیرا
  چاک ہو جایںگے دل جیب و گریباں کس کے
  دے  نہ چھپنے کی جگہ  راز  کو پردہ  تیرا 
                                                     بے نوا مفلس و محتاج و گدا کون کہ میں
                                                      صاحب جود و کرم ، وصف ہے کس کا تیرا                                                                                              آفریں اہل محبت کے دلوں کو اے دوست
                                          ۱۳
                                                  ایک کوزے میں لیے بیٹھے ہیں دریا تیرا
  اتنی نسبت بھی مجھے دونوں جہاں میں بس ہے                                            
  تو  میرا مالک و مولیٰ ہے،  میں بندہ تیرا                          
                                      انگلیاں کانوں میں دے دے کے سنا کرتے ہیں 
                                      خلوت دل میں  عجب  شور ہے  برپا  تیرا
  اب جماتا ہے حسن ؔاسکی گلی میں بستر                                                                                           خوب رویوں کا جو محبوب ہے پیرا تیرا 
             یوں تو اردو شاعری کا آغاز ہی حمد و مناجات سے ہو اہے ۔ اور تقریباً اردو کے تمامی شعراۓ کرام نے اپنی توفیق و بساط کے مطابق اپنی بندگی کا ثبوت اپنے رب کریم جلّ و علیٰ کی بارگاہ میں پیش کیا ہے۔ مگر علامہ حسن ؔ رضا بریلوی کی مندرجہ بالا حمد کا یہ شعر؎
                                      انگلیاں کانوں میں دے دے کے سنا کرتے ہیں ۔
                                      خلوت  دل  میں  عجب  شور  ہے  برپا  تیرا 
اپنی نوعیت کا منفردالمثال شعر ہے ۔جو ایک احساس کا پیغام ہے ۔ جسکی معنویت کا اندازہ علامہ اقبال ؔ کے اس شعر کی روشنی میںکیا جا سکتا ہے ،فرماتے ہیں؎  
                                   اوروں کا ہے پیام اور میرا پیام اور ہے 
                                   عشق کے دردمند کا طرز کلام اور ہے 
        ’’ یقیناً عشق کے درد مند کا طرز کلام یہی ہے  ‘‘کہ جس کے پڑھنے کے بعد طبعیت پر وجد کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے ۔ بندۂ مومن ایک لمحے کے لیے ربّ کریم جل ّ مجدہ کو اس قدر در اپنی رگ جاں
                                              ۱۴
 سے قریب ترمحسوس کر نے لگتا ہے کہ اس قربت کو اگر وہ الفاظ میں بیان کرنا چاہے تو وہ بیان نہیں کر سکتا ہے ۔اس لیے کہ الفاظ ایسی تعبیر بیان کرنے سے قاصر ہیں ۔ صرف محسو س کیا جا سکتا ہے۔اور احساس دلایا جا سکتا ہے۔


         جب ہم موازنے کی نظر سے مولانا احمدرضا خاں رضاؔ بریلوی کے نعتیہ دیوان ’’ حدآیق بخشش ‘‘ اور  علامہ حسنؔ رضا بریلوی ’’ کے نعتیہ دیوان ’’ ذوق نعت‘‘  پر ایک نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں تعجب ہوتا ہے کہ  وقت کے اتنے بڑے عالم و امام ہوتے ہوے  ٔمولانا احمد رضا خاں بریلوی علیہ الرحمہ نے اردوزبان  وادب میں حمد باری تعالیٰ کے موضوع پر ایک بھی حمد پاک نہیں تحریر فرمایٔ جبکہ انکے چھوٹے بھایٔ علامہ حسنؔ رضا خاں بریلوی علیہ الرحمہ نے اپنے نعتیہ مجمؤ ’’ ذوق نعت ‘‘ میں دو حمدیں تحریر فرمایٔ ہیں۔ آج بھی یہ سوال بار بارمیرے میرے دل و دماغ کو کریدتا رہتا ہےکہ آخر وہ کون سے عوامل تھے جسکی وجہ سے انہوں نے اردو زبان میں کویٔ حمد نہیں تحریر فرمایٔ۔ 
           علامہ حسن ؔ رضا خاں بریلوی علیہ الرحمہ نے بھی دونوں حمد پاک کے بعد ایک نعت پاک اپنے بڑے بھایٔ مولانا احمد رضا خاں رضا ؔ بریلوی علیہ الرحمہ کی ہی طرز و آہنگ میں تحریر فرمایا ہے جسکا مطلع ہے؎
                                            جن و انساں و ملک کو ہے بھروسا تیرا 
                                             سرورا  مرجع کل ہے  در  والا تیرا 
اوراس نعت پاک کے کچھ منتخب اشعاراس طرح ہیں؎ 
                                       واہ  اے عطر خد ا ساز  مہکنا  تیرا 
                                      خوب رو ملتے ہیں کپڑوں میں پسینہ تیرا
                                              ۱۵     
لا مکاں میں نظر آتا ہے اجالا تیرا 
 دور پہنچایا ترے حسن نے شہرہ تیرا 
                                       یہ نہیں ہے کہ فقط ہے یہ مدینہ تیرا 
                                       تو ہے مختار، دو عالم پہ ہے قبضہ تیرا
کیا کہے وصف کویٔ دشت مدینہ تیرا
  پھول کی جا ن نزاکت میں ہے کانٹا تیرا
                                     کس کے دامن میں چھپے کس کے قدم پہ لوٹے
                                                                             تیرا سگ  جاۓ کہاں  چھوڑ کے ٹکڑا  تیرا
پاوں مجروح ہیں منزل ہے کڑی بوجھ بہت
آہ  اگر ایسے میں  پایا  نہ  سہارا  تیرا
                                                    نیک اچھے ہیں کہ اعمال ہیں انکے اچھے 
                                                    ہم بدوں کے لیے کافی ہے بھروسہ تیرا
خار صحراۓ نبی پاؤںسے کیا کام تجھے 
آ مری جان میرے دل میں ہے رستہ تیرا 
                                                     کیوں نہ ہو ناز مجھے اپنے مقدر پہ کہ ہوں 
                                                     سگ تیر  ا ، بندہ تیرا  ، مانگنے  والا  تیرا 
سوزن گم شدہ ملتی ہے تبسم سے تیرے 
شام کو  صبح  بناتا ہے  اجالا  تیرا


                                           ۱۶
         جب ہم دونوں حضرات کی مذکورہ نعتوں پر موازنے کی نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں دونوں حضرات کی مذکورہ نعتوں میں فصاحت وبلاغت ، مضامین کی سر بلندی، آعلیٰ تخیلات کی ایسی جلوہ باریاں نظر آتی ہیںکہ ۔ عقل حیرت میں پڑ جاتی ہے ۔ اور فرق اعتباری کا بھی فرق اٹھتا ہو ا محسوس ہوتا ہے۔ اسلیےکہ الفاظ کی بندش و چستی کو جس چابک دستی کے ساتھ دونوں حضرات نے با ندھا ہے نعتیہ ادب میں وہ انہیں کو میسرہے ۔ جسکو میں تمثیلاً عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اگر دونوں حضرات کی ان دونوں نعتوں کو آپس میں خلط
  ملط کر دیا جاۓ اور کسی ماہر فن یا ادب شناس سے یہ کہا جاۓ کہ دونوں حضرات کی نعتوں کو الگ الگ
  کر دیجیے تو شاید کہ کوی بھی ماہر فن یا سخن شناس دونوں حضرات کی نعتوں کو الگ الگ نہ کر سکےاس لیےکہ
  دونوں حضرات کے یہاں طرز ادا کی نیرنگی بالکل ایک جیسی ہے ۔
       مولانا احمد رضا ؔخاں بریلوی علیہ ا لرحمہ اور علامہ حسن ؔ رضا خاں بریلوی علیہ الرحمہ نے نعت گویٔ میں تقریباًایک ہی روش اختیار کی ہے ۔ دونوں کی فکری تب و تاب اور ہمہ ہنگی کا یہ عالم ہے کہ نقش دویٔ کے پردے مفقو دنظر آتے ہیں۔ جب ہم دونوں حضرات کے نعتیہ دواین کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ واضح طور پر پاتے ہیں کہ اگرمولانا احمد رضا ؔ بریلوی علیہ الرحمہ نے نعت پاک کے بعد تین منقبتیں حضور سیّدنا غوث آعظم شیخ عبدالقادر جیلانی بغدادی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان میں تحریر فرما یٔ ہیں تو علامہ حسنؔ رضا خاں بریلوی علیہ الرحمہ نے بھی نعت پاک کے بعد ایک منقبت حضرت سیّدنا خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی اجمیری ر ضی اللہ تعالیٰ کی شان میں تحریر فرمای ٔہے۔ 
      اگر مولانا احمد رضا ؔ خاں بریلوی علیہ الرحمہ اپنی نعت کے مقطع میں تحریر فرماتےہیں ؎


                                                        تیری سرکار میں لاتا ہے رضا ؔ اسکو شفیع
                                                        جو مر ا غوث ہے  اور لاڈلا  بیٹا تیرا
                                              ۱۷          
تو علامہ حسن ؔ رضا خاں بریلوی علیہ الرحمہ بھی اپنی نعت کے مقظع میں تحریر فرماتے ہیں؎
                                                      اب حسن  ؔمنقبت  خواجہ اجمیر سنا 
                                                      طبع پر جوش ہے رکتا نہیں خامہ تیرا
  اگر چہ دونوں حضرات نے اور بھی منقبتیں تحریر فرمایٔ ہیں ۔مگر ایک نعت پاک کےبعدمولانا احمد رضا ؔ خاں بریلوی علیہ الرحمہ کا حضور سیّدنا غوث آعظم شیخ عبدالقادر جیلانی بغدادی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور 
  علامہ حسن ؔ رضا بریلوی علیہ الرحمہ کا حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان میں
  منقبت کا تحریر فرمانا عموماً دواین اور مجمؤ کلام کی ترتیب و تہذیب کی روش کے خلاف ہے۔ جب ہم دیگر شعرأ کرام  کے نعتیہ دواین اور مجمؤ کلام کا مطالعہ کرتے ہیں توہمیں اولاً حمداس کے بعد نعت اور پھر منقبت کا ذکر ملتا ہے۔ مگر ان دونوں حضرات نے اپنے اپنے نعتیہ مجموء کلام کی ترتیب وتہذیب عمومی طور پر مرتب ہونے والے نعتیہ مجموؤں کی روش سے ہٹ کر کی ہے۔اس نیٔ روش یا جدّت کا کیا مطلب ہے ؟ اگر بالفرض یہ کہا جاۓ کہ ان دونوں حضرات کو اپنے اپنے ممدوحین سے غایت درجہ الفت و محبت تھی۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر ان حضرات نے نعت کے بعد منقبتیں کیوں تحریر فرمأیں ؟ اس جدّت اور نیٔ روش کا مقصد کیا ہے؟ 


     مولانا احمد رضا ؔ خاں بریلوی علیہ الرحمہ نے اس دوسری منقبت کا عنوان رکھا ہے ’’ وصل دوم در منقبت آقاۓ اکرم حضور غوث آعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ‘‘ اس کا مطلع ہے ؎ 
                                                واہ  کیا  مرتبہ  اے  غوث ہے   بالا  تیرا 
                                               اونچےاونچوں کے سروں سے ہےقدم آعلیٰ تیرا
اور کچھ منتخب اشعار اس طرح ہیں ؎
                                                  ۱۸
سر بھلا کیا کویٔ جانے کہ ہے کیسا تیرا 
اولیاءملتے ہیں آنکھیںوہ ہے تلوا تیرا 
                                             کیا دبے جس پہ حمایت کا ہو پنجہ تیرا 
                                              شیر کو خطرے مین لاتا نہیں کتّا تیرا 
مصطفیٰ  کےتن  بے سایہ کا  سایہ  دیکھا 
  جس نےدیکھا مری جاں جلوۂ زیبا دیکھا
                                                جان تو جاتے ہی جاۓگی قیامت یہ ہے
                                                کہ یہاں مرنے پہ  ٹھرا ہے  نظارہ تیرا
تجھ سے در در سے سگ اور سگ سے ہے مجھکو نسبت
میری  گردن میں  بھی ہے  دور کا  ڈورا  تیرا 
                                                میری قسمت کی قسم کھأیں سگان بغدا د
                                                ھند میں بھی ہوں تو دیتا رہوں پہرا تیرا 
تیری عزّت کے نثار اے مرے غیرت والے 
آہ   صد آہ  کہ  یوں  خوار ہو  برَِوا  تیرا 
                                               بد سہی،  چور سہی  ،مجرم و ناکارہ سہی 
                                               اے وہ کیسا ہی سہی ، ہے تو کریما تیرا 
مجھکو رسوا بھی اگر کویٔ کہےگا تو یو ں ہی 
کہ وہی نا  ،وہ  رضا ؔ  بندہ رسوا  تیرا 
                                              ۱۹
                                                فخر آقا میں رضاؔ اور بھی اک نظم رفیع 
                                                چل لکھا لأیں ثنا خوانوں میں چہرا تیرا                              
   اور تیسری منقبت کا عنوان ہے ’’ وصل سوم در حسن مفاخرت از سرکار قادریت رضی اللہ تعالیٰ عنہ ‘‘ جسکا مطلع ہے ؎
             تو ہے وہ غوث کہ ہر غوث ہے شیدا تیرا 
            تو ہے وہ غیث کہ ہر غیث ہے پیسا تیرا
  اور کچھ منتخب اشعار اس طرح ہیں؎
                                             سورج اگلوں کے چمکتے تھے چمک کر ڈوبے 
                                              ا فق نور   پہ  ہے  مہر  ہمیشہ  تیرا 
جو ولی قبل تھے  یا بعد ہوۓ  یا ہوںگے
سب ادب رکھتے ہیں دل میں مرے آقا تیرا 
                                             سارے اقطاب جہاں کرتے ہیں کعبہ کا طواف 
                                             کعبہ کرتا  ہے  طواف  در  والا  تیرا 
اور پروانے ہیں جو ہوتے ہیں کعبہ پہ نثار
 شمع  اک تو  ہے کہ پروانہ ہے  کعبہ تیرا
                                             ڈالیاں جھومتی ہیں رقص خوشی جوش پہ ہے 
                                             بلبلیں  جھولتی ہیں  گاتی  ہیں سہرا  تیرا 
مزرع چشت و بخارا و عراق و اجمیر 
                                          ۲۰
کون سی کشت پہ برسا نہیں جھا لا تیرا 
                                             دل اعدا کو رضا ؔ تیز نمک کی دھن ہے
                                             اک ذرا اور چھڑکتا رہے خامہ تیرا
  اور چوتھی منقبت کا عنوان ہے ’’ وصل چہارم در منافخت اعدا ٔو استعانت از آقا رضی اللہ تعالیٰ عنہ ‘‘  جس کا 
مطلع ہے؎
          الاماں قہر ہے اے غوث وہ تیکھا تیرا
          مر کے بھی چین سے سوتا نہیں مارا تیرا  
                                              اس پہ یہ قہر کہ اب چند مخالف تیرے 
                                              چاہتے ہیں کہ گھٹا دیں کہیں پایہ تیرا 
عقل ہوتی توخدا سے نہ لڑایٔ لیتے
 یہ گھٹایں ،  اس منظور  بڑھانا  تیرا 
                                               مٹ گۓ مٹتے ہیں مٹ جایںگےاعدا تیرے
                                               نہ  مٹا  ہے  نہ مٹے  گا  کبھی  چرچا   تیرا 
تو گھٹاۓ سے کسی کے نہ گھٹا ہے نہ گھٹے 
جب  بڑھاے  ٔ تجھے  اللہ تعالیٰ  تیرا 
                                                نزع میں ، گور میں ، میزان پہ، سر پل پہ کہیں 
                                                نہ  چھٹے  ہاتھ  سے  دامان  معلیٰ  تیرا 
دھوپ محشر کی وہ جاں سوز قیمات ہے مگر 
                                            ۲۱
مطمیٔن ہوں کہ مرے سر پہ ہے پلاّ تیرا 
                                                   اے رضاؔ چیست غم ار جملہ جہاں دشمن تست 
                                                  کردہ ام   ما من  خود قبلۂ  حاجاتے  را  
 علامہ حسن ؔ رضا خاں بریلوی علیہ الرحمہ نے جو منقبت حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان میں تحریر فرمایا ہے اس کا مطلع ہے؎
                                             خواجہ ٔ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا
                                             کبھی محروم نہیں مانگنے والا تیرا 
  مۓ  سر جوش  در آغوش ہے  شیشیہ تیرا 
  بے خودی چھاۓ نہ کیوں پی کے پیالہ تیرا
                                           کیا مہک ہے کہ معطر ہے دماغ عالم 
                                            تختۂ  گلشن فردوس ہے  روضہ تیرا 
  پھر مجھے اپنا در پاک دکھا دے پیارے
  آنکھیں پر نور ہوں پھر دیکھ کے جلوہ تیرا 
                                         ظل ّ  حق غوث پہ، ہے غوث کا سایہ تجھ پر 
                                         سایہ  گستر  سر خدّام  پہ سایہ  تیرا 
  تجھ کو بغداد سے حاصل ہویٔ وہ شان رفیع
  دنگ رہ جاتے ہیں سب دیکھ کے رتبہ تیرا 
                                           جب سے تونے قدم غوث لیا ہے سر پر
                                                ۲۲
                                               اولیاسر پہ  قدم لیتے ہیں  شاہا تیرا     
  محی دیں غوث ہیں اور خواجہ معین الدین 
  اے حسن  ؔ کیوں نہ ہو  محفوظ عقیدہ تیرا 
       اگر دونوں حضرات کی منقبت نگاری پر ایک نظر ڈالی جاۓ تو بخوبی واضح ہوگا کہ ان حضرات نے اپنے ممدوحین کی مدح سرایٔ میں مناقب کے پہلو کوکتنے احتیاط اور سلیقے سے اپنایا ہے کہ کویٔ بھی شعر                                                                                                                                                
  حمد یا نعت کی حد ود میں داخل نہیں ہوا ہے ۔ در حقیقت یہ حضرات فن کی نذاکتوں اور اسکے اسرار و رموز
  بخوبی واقف تھے ۔ اسی لیے اس منزل سے بڑی چابک دستی کےتھ بے جھجھک گزر گۓ ہیں ۔   
         مولانا احمد رضا خاں بریلوی اور علامہ حسن رضا خاں بریلوی علیھم الرحمہ نے حضور سیدنا غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی بغدادی رضی ا للہ تعالیٰ عنہ اور حضور خواجہ غریب نواز رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی شان میں جو منقبتیں تحریر فرمایٔ ہیں جہاں یہ منقبت نگاری کے اعلیٰ نمونے ہیں وہیں انہوں نے اس طرح کی منقبتیں تحریر فرماکر اپنے بعد کے شعراۓ کرام کو ایک ذہن اور ایک آیڈیا دیا ہے کہ بذرگان دین کی شان میں منقبتیں لکھتے وقت کن کن پہلوؤں کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیۓ ۔ اور انکے شایان شا ن کس طرح کی فکر اور کس طرح کے الفاظ کا استعمال کیا جانا چاہۓ کہ منقبت اپنے حدود و دایرے سے باہر نکلنے پاۓ ۔  
          اسکے بعددونوں حضرات نے نعتیں تحریر فرایٔ ہیں۔ مولانا احمد رضا خاں بریلوی علیہ الرحمہ نے جو نعت تحریر فرمایٔ ہے اسکا مطلع ہے ؎
                                ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمار
                                خاکی  تو وہ آدم  جد ّ اعلیٰ ہے  ہمارا  
         مولانا احمد رضا ؔ خاں بریلوی علیہ الرحمہ نے اس نعت پاک میں لفظ ’’خاک ‘‘ سے ایسے ایسے معانی
                                               ۲۳
 و مفاہیم پیدا کے ٔ کہ ہیں جن کو پڑھ کر طبعیت وجد میں آجاتی ہئے۔ا س سے انکی جودت طبع کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کس قدر پر معنیٰ الفاظ کے ا ستعمال پر قدرت رکھتے تھے ۔ 
            ۲۰۰۰؁ء میں میں نے ایک مضمون ’’ حضرت رضا ؔ بریلوی کی مضمون آفرینی‘‘ کے عنوان سے قلم بند کیا تھا ۔ جو اس وقت سہ ماہی افکار رضا ۔ شمارہ اپریل تا جون ۲۰۰۰؁ء ڈمٹمکر روڈ، ممبیٔ میں اشاعت
  پزیر ہوا تھا ۔ جس میں مولانا احمد رضا خاں بریلوی علیہ الرحمہ کی مذکورہ نعت پاک اور شاعر مشرق علامہ
  اقبال ؔ کی فارسی نعت پاک ؎ 
                    پیش او گیتی جبیں فرسودہ است
                    خویش را خود عبدہ فرمودہ است 


  کا موازنہ پیش کرتے ہوۓ یہ واضح کرنے کی اپنی سی کوشش کی تھی کہ مولانا احمد رضا خاں بریلوی اور شاعر مشرق علامہ اقبال ؔ دونوں حضرات شہنشاہ سخن تھے ۔ اوردونوں حضرات نے آقا و مولیٰ ﷺ کی شان اقدس میں نعتیں تحریر فرمایٔ ہیں ۔اور خوب خوب اپنے فکر و فن کامظاہرہ کیا ہے ۔ جیسے مندرجہ بالامطالع کہ دونوں حضرات نے ایک ایک لفظ ’’ لفظ خاک ‘‘  او ر ’’ لفظ عبدہ‘‘  سے خوب خوب مضمون آفرینی کی ہے۔
         مولانا احمد رضا ؔ خاں بریلوی علیہ الرحمہ کی مذکورہ نعت پاک کے چند منتخب اشعار ملاحظہ فرمأیں ؎
                                         اللہ ہمیں خاک کرے اپنی طلب میں 
                                          یہ خاک  تو سرکار سے  تمغا ہے ہمارا
جس خاک پہ رکھتے تھے قدم سید عالم 
اس خاک پہ قرباں دل شیدا ہے ہمارا
                                                ۲۴ 
                                          خم ہو گیٔ پشت فلک اس طعن زمیں سے 
                                          سن ہم ہم پہ مدینہ ہے وہ رتبہ ہے ہمار
اے مدّعیوَ خاک کو تم خاک نہ سمجھے 
اس خاک میں مدفون شہ بطحا ہے ہمارا 
                                       ہے خاک سے تعمیر مزار شہ کونیں
                                       معمور اسی خاک سے قبلہ ہے ہمارا
  ہم خاک اڑایںگے جو وہ خاک نہ پایٔ  
  آباد  رضا  ؔ جس پہ  مدینہ ہے  ہمارا   
اور علامہ حسن ؔ رضا خاں بریلوی علیہ الرحمہ نے جو نعت تحریر فرمایٔ ہے اس  کا مطلع ہے ؎ 
                                     آسما ں گر تیرے تلؤں کا نظارہ کرتا
                                     روز اک چاند تصدق میں اتارا کرتا 
 اس نعت پاک کے کچھ منتخب اشعار اس طرح ہیں؎
                                         چھپ گیا چاند نہ آیٔ ترے دیدار کی تاب 
                                         اور اگر  سامنے رہتا  بھی تو  سجدہ  کرتا
یہ وہی ہیں کہ گرو آپ اور ان پر مچلو 
الٹی باتوں پہ کہو کون نہ سیدھا کرتا 
                                       آہ  کیا خوب تھا  گر حاضر در ہوتا میں 
                                       ان کے سایہ کے تلے چین سے سویا کرتا
                                         ۲۵
  شوق و آداب بہم گرم کشا کش رہتے 
عشق گم کردہ تواں عقل سے الجھا کرتا 
                                             بے خودانہ کبھی سجدہ میں سوۓ در گرتا 
                                              جانب قبلہ کبھی چونک کے پلٹا  کرتا 
کبھی کہتا کہ یہ کیا بزم ہے کیسی ہے بہار
 کبھی  انداز تجاہل سے  میں توبہ کرتا  
                                           کبھی کہتا کہ یہ کیا جوش جنوں ہے ظالم 
                                            کبھی پھر  گر کے تڑپنے کی تمنّا کرتا
   ستھری ستھری وہ فضا  دیکھ میں غرق  گناہ 
اپنی آنکھوں میں خود اس بزم میں کھٹکا کرتا
                                           کھبی رحمت کے تصور میںہنسی آجاتی
                                            پاس آداب کبھی ہو نٹوں کو بخیہ کرتا 
دل اگر رنج معاصی سے بگڑنے لگتا 
عفو کا  ذکر  سنا کر  میں سنبھالا کرتا
                                           یہ مزے خوبی قسمت سے جو پاۓ ہوتے 
                                            سخت  دیو انہ تھا  گر خلد کی  پرو ا  کرتا 
  موت اس دن کا جو پھر نام وطن کا لیتا 
 خاک اس سر پہ جو اس در سے کنارہ کرتا
                                                ۲۶ 
                                          اے حسنؔ قصد مدینہ نہیں رونا ہے یہی 
                                          اور میں آپ سے کس بات کا شکوہ کرتا  
  اس پوری نعت پاک میں علامہ حسن ؔ رضا خاں بریلوی علیہ الرحمہ نے آقا و مولیٰ جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ کے حسن جہاں تاب،انکی کرم فرما یاں ، انکے رخ زیبا ، انکے در دولت پرحاضری کے وقت کی کیفیت ، در اقدس ﷺ کی خاک روبی ، مدینہ طیبہ کی معطر و صاف ستھری فضا، اور در اقدس ﷺ سے واپسی کے دن کو موت اور اس در سے کنارہ کشی کے لمحے کو تبا ہی و بربادی سے ذکر فرمایا ہے۔اور آخر میں اپنے آپکو خود ہی مخاطب کرکے فرماتے ہیں کہ اے حسن ؔ  جب آ پکا خود ہی مدینہ طیبہ کا قصد نہیں ہے تو پھر کس بات کا گلہ و شکوہ ؟ آقا و مولیٰ ﷺ کی نوزشیں تو ہمیشہ دامن پھیلاۓ ہوۓ ہیں ۔
       یہاں پر میں موازناتی حیثیت سے ایک نعت پاک آپکے بڑے بھایٔ حسّان الہند حضرت امام احمد رضا ؔ خاں فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جس میں کچھ اسی ناذ و ادا سےآقا و مولیٰ جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰﷺ کی نوزشوں اور کرم فرمایوں کا ذکر کیا گیا ہے ۔ملاحظہ ہو؎
                                                      کس کے جلوہ کی جھلک ہے یہ اجالا کیا ہے 
                                                         ہرطرف دیدہ ٔ حیرت زدہ تکتا کیاہے 
مانگ من مانتی منھ مانگی مر ا دیں لے گا 
نہ یہاں’’ نا‘‘ ہے نہ منگتا سے یہ کہنا ’’کیاہے‘‘
                                                     پند کڑوی لگے ناصح سے ترش ہواۓنفس
                                                     زہر عصیاں میں ستمگر تجھے میٹھا کیا ہے
ہم ہیں انکے، وہ ہیں تیرے، تو ہوۓ ہم تیرے 
                                                                                              ۲۷
اس سے بڑھکر تری سمت اور وسیلہ کیا ہے
                                                   انکی امّت میں بنایاانھیں رحمت بھیجا 
                                                   یوں نہ فرما کہ ترا رحم میں دعویٰ کیا ہے 
صدقہ پیارے کی حیا کا کہ نہ لے مجھ سے حساب 
 بخش  بے پوچھے  لجاے  ٔ کو لجانا  کیا ہے 
                                                 زاہد انکا میں گنہگار وہ میرے شافع
                                                 اتنی نسبت مجھے کیا کم ہے تو سمجھا کیا ہے
 بے بسی ہو جو مجھے پر سش اعمال کے وقت 
 دوستو  کیا کہوں  اس وقت تمنّا کیا ہے 
                                                 کاش فریاد مری سن کے یہ فرمایں حضور 
                                                  ہاں کویٔ دیکھو یہ کیا شور ہے غوغا کیا ہے
کون آفت زدہ ہے کس پہ بلا ٹوٹی ہے
کس مصیبت میں گرفتار ہے صدمہ کیا ہے
                                                  کس سے  کہتا ہے کہ  للہ خبر لیجیۓ مری
                                                 کیوں ہے بیتاب یہ بے چینی کا رونا کیا ہے 
اسکی بے چینی سے ہےخا طر اقدس پہ ملال
  بے کسی کیسی ہے  پوچھو کویٔ گزرا کیا ہے
                                                یوں ملآک کریں معروض کہ اک مجرم ہے   
                                              ۲۸
اس سے پرسش ہے بتا تونے کیا ،کیا کیاہے
                                                سامنا قہر کا ہے دفتر اعمال ہیں پیش 
                                                 ڈر رہا ہے کہ خدا حکم سناتا کیا ہے 
ّأپ سے کرتا ہے فریاد کہ یا شاہ رسل 
بندہ بیکس ہے شہا رحم میں وقفہ کیا ہے
                                                اب کویٔ دم میں  گرفتار بلا  ہوتا ہوں 
                                               آپ آجایں ےتو کیا خوف ہے کھٹکا کیا ہے
 سن کے یہ عرض مری بحر کرم جوش میں آۓ
یوں ملآٔیک کو  ہو، ارشاد  ٹھرنا کیا ہے
                                              کس کو تم مورد آفات کیا چاہتے ہو 
                                               ہم بھی تو آکے ذرا دیکھیںتماشا کیا ہے
انکی آواز پہ کر اٹھّوں میں بے ساختہ شور
اور تڑپ کر یہ کہوں اب مجھے پروا کیاہے
                                                 لو وہ آیا  مرا حامی  مرا غم خوار  آیا    
                                                آگیٔ جاں تن بے جاں میں یہ آنا کیا ہے
پھر مجھے دامن اقدس میں چھپا لیں سرور
اور فرمایں  ہٹو  اس پہ تقاضا  کیا ہے
                                              بندہ آزادشدہ ہے یہ ہمارے در کا 
                                             ۲۹
کیسا لیتے ہو حساب اس پہ تمھارا کیا ہے
                                                 چھوڑ کر مجھکو فرشتے کہیں محکوم ہیں ہم 
                                                 حکم والا کی  نہ تعمیل ہو  زہرہ کیا ہے
یہ سماں دیکھ کے محشر میں اٹھے شور کہ واہ
چشم بد دور ہو کیا شان ہے رتبہ کیاہے 
                                                 صدقے اس رحم کے اس سایۂ دامن پہ نثار                                  اپنےبندے کو مصیبت سے بچایا کیا ہے 
اے رضا ؔ جان عنادل ترے نغموں کے نثار
بلبل  باغ مدینہ  ترا  کہنا  کیا  ہے 
         اس نعت پاک کا آغاز مصطفیٰ جان رحمت ﷺ کی جلوہ تابانیوں سے کیا گیاہے۔ ایسی روشنی یا ایسا اجالا جو تحیّر آمیز بھی ہے اور دل و نگاہ کو سرور عطا فرمانے والا بھی، وہ روشنی یا نور کویٔ اور نہیں بلکہ آقا و مولیٰ جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ کا نور پاک ہے ۔ آگے وہ فرماتے ہیںکہ ان کی ذات پاک سے جو بھی مانگنا ہے مانگ لو ،یہ وہ ذات پاک ہے کہ تم جو بھی مانگو گے یہ تمھیں اس قدر عطا فرمایںگے کہ تمھارا من ہی  اس سےبھر جاےگا۔ اور یہاں کسی تکلف کی ضرورت نہیں ہے یہاں تو مانگنے والے کو منھ مانگی مرادیں ملتی ہیں۔ یہی وہ دربار ہے جہاں نہ تو ’’ نا‘‘ ہے اور نہ ہی ’’ کیا ہے‘‘ اور چوتھے شعر میں ربّ کریم  کی بارگاہ میں وہ کس طرح  اپنے آپکوپیش کرتے ہیں کہ طبعیت رشک کرنے لگتی ہے جبکہ وہ اسی بات کو براہ راست بھی عرض کر سکتے تھے کہ میرے کریم میں تیرا بندہ ہوں ۔ مگر براہ راست نہ فرماکر آقا و مولیٰ ﷺ کی  نسبت سے فرماتے ہیں؎


                                               ۳۰
         ہم ہیں انکے وہ ہیں تیرے تو ہوۓ ہم تیرے
          اس سے بڑھکر تری سمت اور وسیلہ کیا ہے         
  در حقیقت اس نعت پاک میں امام احمد رضا ؔ خاں فاضل بریلوی علیہ الرحمہ نے ایک انوکھے انداز میں آقا و مولیٰ جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰﷺ کی مدح سرایٔ کی ہے۔ اس نعت پاک میں انہوں نے ایک امتی کی حیثیت سے میدان محشر میں پیش آنے والے حالات کی جو منظر کشی کی ہے۔ اس سے ہر امتی کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ کل میدان محشر میںاس کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو ۔ میں یہاں یہ عرض کرنا چاہونگا کہ دونوں حضرات نے نعت گویٔ میں جو تفنن پیدا کیا ہے اور آقا و مولیٰ ﷺکی نعت پاک کی رقم طرازی میں جو زور کمال دکھایا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے ۔اگر علامہ حسن ؔ رضا بریلوی کے یہاں جوش و وارفتگی سر مستی ہے۔ تو حضرت امام احمد رضا ؔ فاضل بریلوی علیھم الرحمہ کے یہاں زبان کا چٹخارہ پن اور ندرت بیان بھی کم نہیں ہے۔    
   




ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے