اندھیرے راستوں میں روشنی ہے آپ کا دامن

اندھیرے راستوں میں روشنی ہے آپ کا دامن





 


 

اندھیرے
راستوں میں روشنی ہے آپ کا دامن

فضائے
گم رہی میں رہبری ہے آپ کا دامن


نہ
دولت کی تمنا ہے نہ خواہش عیش و عشرت کی

مرا
ایمان ہے میری خوشی ہے آپ کا دامن


مرے
آقا مجھے کیوں آرزو ہو باغِ رضواں کی

کہ
میرے واسطے جنت یہی ہے آپ کا دامن


معطر
کر رہی ہے بزمِ عالم کی فضائوں کو

صبا
شاید کہ چھو کر آ رہی ہے آپ کا دامن


نہ
آیا ہے نہ آئے گا جہاں میں آپ سا کوئی

جہاں
حسن سے ہے تابندہ وہی ہے آپ کا دامن


مہک
جسم مبارک کی معطر کر گئی دل کو

خزینہ
نکہتوں کا واقعی ہے آپ کا دامن


متاعِ
امن دلبرؔ کو عطا ہو یارسول اللہ

کہ
اک گلزار امن و آشتی ہے آپ کا دامن

شیو
بہادر سنگھ دلبر (بھارت
)


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے