مے الفت سے تیری دل ہوا مست رقم میرا الٰہی حمد میں بیخود رواں ہو اب قلم میرا

مے الفت سے تیری دل ہوا مست رقم میرا الٰہی حمد میں بیخود رواں ہو اب قلم میرا

حکیم اجمل خاں شیداؔ دہلوی


مے الفت سے تیری دل ہوا مست رقم میرا
الٰہی حمد میں بیخود رواں ہو اب قلم میرا


وہاں بخشش سے تو کردے سبک تو دم میں دم آئے
یہاں تو بار عصیاں سے گھٹا جاتا ہے دم میرا


مجھے بھیجا تھا طاعت کے لئے لیکن میں حیراں ہوں
بڑھا کرتا ہے راہ معصیت میں کیوں قدم میرا


اگر بخشے تورحمت ہے نہ بخشے تو عدالت ہے
تیری تیغ قضا پر ہے سرِ تسلیم خم میرا


کئے ہیں عیب گو چھپ کر مگر تجھ پر عیاں ہیں
الٰہی کھل نہ جائے حشر میں سارا بھرم میرا


تیرا ہی آسرا ہے اور تیرا ہی سہارا ہے
سوا تیرے یہاں کوئی نہیں تیری قسم تیرا


دل شیداؔ مرا کرتا ہے تیرے نام کی جپنی
ہوا ہے وسط میں ہندوستاں کے گوجنم میرا

Post a comment

0 Comments