میں مکہ دیکھ آیا ہوں، مدینہ دیکھ آیا ہوں

میں مکہ دیکھ آیا ہوں، مدینہ دیکھ آیا ہوں




میں مکہ دیکھ آیا ہوں، مدینہ دیکھ آیا ہوں
جہاں جنت سی رونق ہے وہ دنیا دیکھ آیا ہوں

اُدھر کعبہ کی عظمت ہے اِدھر سرکار کا روضہ
اِن آنکھوں سے انھیں عالم کا جلوہ دیکھ آیا ہوں

میں کس کس نعمت و رحمت کا آخر تذکرہ چھیڑوں
کوئی حد ہو تو بتلائوں، میں کیا کیا دیکھ آیا ہوں

نکلتی بھینی بھینی سی ہے خوش بو خاکِ طیبہ سے
میں لمسِ پائے احمد کا کرشمہ دیکھ آیا ہوں

لطیف و نرم ہیں یہ احترامِ شاہِ بطحا میں
مدینے کی ہوائوں کا سلیقہ دیکھ آیا ہوں

وہ جس کی بارشِ رحمت سے دنیا فیض پاتی ہے
زہے قسمت وہی رحمت کا دریا دیکھ آیا ہوں

کہیں کی اور اب بھاتی نہیں ہیں رونقیں مجھ کو
کہ میں تو رشکِ جنت دشتِ طیبہ دیکھ آیا ہوں

حضوری کی تمنا تھی سو اب پوری ہوئی اے دِلؔ
درِ شاہِ اُمم پر خود کو بیٹھا دیکھ آیا ہوں
امان خاں دِل (امریکا)



ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے