اک قبا سارے زمانے سے جدا پہنی ہے

اک قبا سارے زمانے سے جدا پہنی ہے




اک قبا سارے زمانے سے جدا پہنی ہے
کہکشاں آپ کے قدموں سے اُٹھا پہنی ہے

اک ترا حکم سنا اور ترے حُب داروں نے
خرقۂِ زیست اُتارا ہے قضا پہنی ہے

کتنا خوش بخت ہے بچہ یہ کسی بدو کا
تیری گلیوں میں پھرا، تیری فضا پہنی ہے

نطق بیمار کو صحت ہے درودوں سے ملی
لفظ نے نعت کے صدقے میں شفا پہنی ہے

کی دعا ختم، تو پھر صل علیٰ پڑھتے ہوئے
ہاتھوں یوں جسم پہ پھیرے کہ زرہ پہنی ہے

کردیا بدر سے کشمیر کا رشتہ قائم
موت جس رنگ میں تم نے شہدا پہنی ہے

آخرِ شب کی مناجات میں لگتا ہے ظہیرؔ
میری خلوت نے وہی آب و ہوا پہنی ہے
محمد ثناء اللہ ظہیر (فیصل آباد)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے