رطب اللسان رہتے ہیں مدحت میں شاہ کی

رطب اللسان رہتے ہیں مدحت میں شاہ کی



رطب
اللسان رہتے ہیں مدحت میں شاہ کی

مصروفیت
ہے اب یہی شام و پگاہ کی


اُترا
دلوں میں نورِ یقیں آپ کے طفیل

ذہنوں
سے دُھول صاف ہوئی اشتباہ کی


نیکی
کی لذتوں سے ہمیں آشنا کیا

نفرت
دلوں میں آپ نے ڈالی گناہ کی


قطرے
کو بحر کردیا ذرّے کو آفتاب

جس
پر نگاہ پڑ گئی اس خوش نگاہ کی


کنکر
پکار اُٹھے کہ محمد رسول ہیں

حاجت
صداقتوں کو ہوئی جب گواہ کی


میں
لب کشا نہیں ہوں کہ یہ جانتا ہوں میں

سنتے
ہیں وہ صدائیں سکوتِ نگاہ کی


اس
منزلت پہ شکر کے آنسو ہیں آنکھ میں

’’میں اور بارگاہِ رسالت پناہ کی‘‘


قدموں
میں مجھ کو اپنے بٹھا لیجیے حضور

مجھ
کو طلب ہے صرف اسی عز و جاہ کی


کاش
اے صبیحؔ ان کی اطاعت میں ہو بسر

عمر
عزیز میں نے ابھی تک تباہ کی

صبیح
رحمانی (کراچی
)

 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے