اب
نعت جو زندگی ہوئی ہے
نعت جو زندگی ہوئی ہے
سانسوں
کی کمی بڑھی ہوئی ہے
کی کمی بڑھی ہوئی ہے
دیکھوں
گا انھیں بروزِ محشر
گا انھیں بروزِ محشر
یہ
سوچ کے جو خوشی ہوئی ہے
سوچ کے جو خوشی ہوئی ہے
میں
آ تو گیا حرم سے واپس
آ تو گیا حرم سے واپس
پر
کیا مری واپسی ہوئی ہے
کیا مری واپسی ہوئی ہے
آئیں
گے ضرور میرے آقا
گے ضرور میرے آقا
خوابوں
پہ نظر لگی ہوئی ہے
پہ نظر لگی ہوئی ہے
اک
لفظ سے بنے ہوئے جہاں میں
لفظ سے بنے ہوئے جہاں میں
اک
نام سے روشنی ہوئی ہے
نام سے روشنی ہوئی ہے
اک
در کا یہ فیض ہے کہ باقی
در کا یہ فیض ہے کہ باقی
ہر
در سے یہ جاں بچی ہوئی ہے
در سے یہ جاں بچی ہوئی ہے
اشکوں
چلے جائو دل میں واپس
چلے جائو دل میں واپس
کاغذ
پہ نعت لکھی ہوئی ہے
پہ نعت لکھی ہوئی ہے
اتنا
ہی نہیں کہ اُن کے در پر
ہی نہیں کہ اُن کے در پر
ناچیز
کی حاضری ہوئی ہے
کی حاضری ہوئی ہے
ماجدؔ
بہ زبانِ بے زبانی
بہ زبانِ بے زبانی
سرکار
سے بات بھی ہوئی ہے
سے بات بھی ہوئی ہے
ماجد
خلیل (کراچی)
خلیل (کراچی)

0 تبصرے