میرا
مقصد عظیم مقصد ہے
جستجوئے
درِ احمد ہے
چھو
نہ سکی فصیلِ طیبہ کو
آسماں
کی جو آخری سرحد ہے
خوب
ہوں گے ذلیل محشر میں
جن
کو نامِ رسول سے کد ہے
جن
کے دل میں نہیں ہے عشقِ نبی
وہ
ہیں بد ان کی عاقبت بد ہے
رب
کہے گا نبی کے کہنے سے
ہرخطاکار
کی خطا رد ہے
لب
پہ وردِ درود تھا کل تو
آج
روشنن ہمارا مرقد ہے
جب
سے چوما درِ نبی میکشؔ
زیرِ
لب روز سنگِ اسود ہے
میکش
ؔاجمیری

0 تبصرے