ہے
کنز رسالت کا امیں، مخزنِ اسرار
کنز رسالت کا امیں، مخزنِ اسرار
وہ
باعثِ کن منبع و سرچشمۂ انوار
باعثِ کن منبع و سرچشمۂ انوار
اک
روز تصور میں تھا میں حاضر دربار
روز تصور میں تھا میں حاضر دربار
تھا
وجد میں دل کیف سے یہ روح تھی سرشار
وجد میں دل کیف سے یہ روح تھی سرشار
صورت
ہے کہ ’’فی احسن تقویم‘‘ کی تفسیر
ہے کہ ’’فی احسن تقویم‘‘ کی تفسیر
سیرت
ہے کہ مولا کا بنایا ہوا معیار
ہے کہ مولا کا بنایا ہوا معیار
سریر
بقدم نور ہے ان کا زیبا
بقدم نور ہے ان کا زیبا
اس
نور سے ماخوذ ہے ہر پیکر انوار
نور سے ماخوذ ہے ہر پیکر انوار
جس
وقت ہوا کرتی تھی آیات کی تنزیل
وقت ہوا کرتی تھی آیات کی تنزیل
کچھ
اور چمک جاتی تھی پیشانیٔ ضوبار
اور چمک جاتی تھی پیشانیٔ ضوبار
ہیں
آج بھی وہ ہادیٔ کونین مزکی
آج بھی وہ ہادیٔ کونین مزکی
کرتے
ہیں عطا اہلِ طلب کو دلِ بے وار
ہیں عطا اہلِ طلب کو دلِ بے وار
اپنوں
پہ وہ فرمائیں گے کیا کیا نہ عنایت
پہ وہ فرمائیں گے کیا کیا نہ عنایت
غیروں
کی مدد کے لیے رہتے ہیں جو تیار
کی مدد کے لیے رہتے ہیں جو تیار
ہو
ان کی غلامی پہ مجھے ناز نہ کیوں کر
ان کی غلامی پہ مجھے ناز نہ کیوں کر
نبیوں
کے وہ قائد ہیں رسولوں کے علم دار
کے وہ قائد ہیں رسولوں کے علم دار
کیا
عرض کروں اُمت عاصی کا فسانہ
عرض کروں اُمت عاصی کا فسانہ
خواہش
کا پجاری ہے کوئی بش کا پرستار
کا پجاری ہے کوئی بش کا پرستار
ہر
ایک ثنا خوان کو ہے عشق کا دعویٰ
ایک ثنا خوان کو ہے عشق کا دعویٰ
بھاری
ہے مگر نفس پہ محبوب کا کردار
ہے مگر نفس پہ محبوب کا کردار
شہزادؔ
بھروسا ہے مجھے ان کے کرم پر
بھروسا ہے مجھے ان کے کرم پر
بے
بس کے وہ حامی ہیں وہ بے کس کے مددگار
بس کے وہ حامی ہیں وہ بے کس کے مددگار
شہزاد
مجددی (لاہور)
مجددی (لاہور)

0 تبصرے