نعت نگاری میں احتیاط کے تقاضے
پروفیسر
محمد اکرم رضا
نعت
ایک انتہائی محترم صنفِ سخن بھی ہے اور رحمتِ پروردگار بھی۔ خداے قدوس جب محبانِ
رسولﷺ پر مہربان ہوتا ہے تو انھیں نعت کی توفیق عطا کرتا ہے۔ نعت کی روایت دُرود و
سلام سے عبارت ہے۔ خالقِ کونین نے اصحابِ ایمان کو آقاے دوعالمﷺ پر ہر لحظہ و ہر
آن دُرود و سلام کے گلاب نذر کرنے کا عمل جاری رکھنے کا جو حکم صادر فرمایا ہے،
اسی کی بدولت دُرودوں کی خوش بو میں بس کر جب نعت کا قافلہ چلا تو صدیاں سمٹ کر رہ
گئیں۔ وقت اور زمان و مکان کے تصورات سے ماوریٰ اس کاروانِ نعت کی رفتار میں کبھی
کمی نہیں آئی۔ اس کاروانِ نعت کے ہر خوش بخت مسافر کو توفیقِ نعت خود خدا عطا کر
رہا تھا۔ کیوںکہ جس کی توصیف کا حکم دیا جا رہا ہے وہ خود ربّ عُلیٰ کا محبوب ہے۔
وہ فرشتوں کے قدسی ترانوں کا موضوعِ خاص ہے۔ وہ جملہ انبیا و رُسل کی مناجاتوں کا
اعزاز ہے۔ خداے محمدﷺ نے نعتِ محمدﷺ کی توفیق بخش کر اصحابِ نعت کا رُتبہ اس قدر
بلند کر دیا کہ نعت گو شعرا نعت کہتے ہوئے فخر محسوس کرنے لگے کہ یہ صنفِ سخن تو
وجہِ نجات بن گئی ہے۔ کیوںکہ خدا اور مخلوقِ خدا ثناے رسولﷺ کو ہی معمول بنائے
ہوئے ہیں۔ خدا اس لیے کہ وہ اس تخلیقِ نور پر اپنی رحمتوں کا نزول فرما رہا ہے اور
مخلوقِ خدا اس لیے کہ ثناے رسول کے بہانے انھیں خوشنودیِ حضور کے پردے میں رضاے
الٰہی کی جلوہ گری نظر آرہی ہے۔ یہی توفیقِ خداوندی اعزاز بھی ہے اور سرمایۂ ناز
بھی۔ ایک صاحبِ نظر کے لفظوں میں:
دہد
حق عشقِ احمد بندگانِ چیدۂ خود را
یہ
خاصاں می دہد شہ بادۂ نوشینۂ خود را
جب
شاعر نعت کو توفیقِ خداوندی سمجھ کر، عشق و عقیدت کو زادِ راہ بنا کر اشہبِ قلم کو
صفحۂ قرطاس پر رواں کرتا ہے تو پھر اس کا قلم معجز رقم بن جاتا ہے۔ اس کی فکر کے
آسمان پر نیاز و عقیدت کے ستارے طلوع ہوتے ہیں۔ اس کے بے جان لفظ فقط خود ہی حیاتِ
دوام سے ہم کنار نہیں ہوتے بلکہ شاعر کو بھی نیک نامی اور سربلندی کی خلعت عطا
کرتے ہیں۔ یہی کلام اس قدر مؤثر اور دل آویز ہوجاتا ہے کہ اس کے وجود سیقرطاس و
قلم کو آبرو عطا ہوتی ہے۔ اس کے وجود سے اوراق مہکتے اور اذہان جگمگانے لگتے ہیں۔
جوں جوں شاعر فکرِ نعت میں گم ہوکر تجلیاتِ حضورﷺ کے قلزمِ نور میں گم ہوتا ہے اس
پر نئی صبحیں طلوع ہوتیں اور نئے زمانے اس کا مقدر بنتے ہیں۔ ایسے زمانے جو فردا
اور امروز کے تصور سے بے نیاز ہوکر شامِ ابد تک رسائی کا اہتمام کرتے ہیں۔ ذوقِ
نعت کی پختگی قلم کو عنبر فشانی اور عشق و عقیدت کے بحرِ بے کراں کو مستقبل کی
نامعلوم سرحدوں کی جانب روانی عطا کرتی ہے۔
نعتِ
رسولﷺ روزِ اوّل ہی سے کائناتِ انسانی کی اپنے آقا و مولاﷺ سے قلبی و روحانی
وابستگی کی مظہر بنی ہوتی ہے۔ یہ واحد صنفِ سخن ہے جو شاعر کے کلام کو دوام عطا
کرتی اور مطلعِ ہستی پر آفتابِ ستارہ کی صورت اُبھرتی ہے۔ نعت کی فکر اور ممدوحِ
نعت کی یاد میں بسر ہونے والا ہر لمحہ عبادت، ہر ساعت سعادت اور ہر شعر صحیفۂ
عقیدت کی نورانی آیت ہے۔ خداے کریم نے ازل کی ساعتوں میں ثناے رسول کے جس سلسلے کا
آغاز فرمایا تھا وہ جاری و ساری ہے۔ ماضی ہو یا دورِ حال یا زمانۂ استقبال، ہر
دور نے فکرِ نعت سے شادمانی کشید کرنے کا اہتمام کیا ہے۔
سیّدنا
حسان بن ثابت ص نے نعت نگاری کو نیا اسلوب اور روحانی بانکپن عطا کیا۔ اس کا سبب
یہ تھا کہ ربِ ممدوحِ خدا و ملائکہ پیشِ نظر تھا۔ اب غارِحرا کی خلوتوں سے اُبھرنے
والا چاند مدینہ طیبہ کو مرکزِ نور بنا کر اطراف و اکنافِ عالم کو اپنی تعلیمات سے
یکساں طور پر فیض یاب کر رہا تھا۔اس لیے حسانِ بن ثابت، کعب بن زہیر، عبداللہ بن
رواحہ رضوان اللہ علیہم سمیت اس عظیم دور کے نعت گو شعرا کی نعتوں میں عشق و عقیدت
کا اور ہی والہانہ پن پایا جاتا ہے۔ بعد کے ادوار کے شعرا اُن کے نقشِ قدم پر چلتے
رہے۔ ہر صدی اور ہر عہد میں نعتوں کی کلیاں مہکتی رہیں۔ عشق و عقیدت کے گل ہاے
سدابہار اپنی لازوال خوش بو سے دلوں کو عنبر اور افکار کو معنبر کرتے رہے۔ عربی،اردو،فارسی
ہو یا ہندی ہر زبان اپنا بہترین اثاثہ دربارِ رسالت مآبﷺ میں نذر کرتی رہی۔
عشق
و عقیدت کی یہی میراث صنفِ نعت میں ڈھل کر عہدِ حاضر کا اعزاز بن کر ہم تک پہنچی
ہے۔ یہی وہ صنفِ سخن ہے جو عصرِ حاضر کی نعتیہ شاعری کا سلسلہ دربارِ حضورﷺ تک
قائم کر رہی ہے اور یہ کیسا خوش گوار سدا بہار، لازوال اور دوام پذیر سلسلہ ہے جو
ہر قسم کے انقلابات سے بے نیاز ہوکر گزشتہ چودہ صدیوں میں اپنے مؤثر اور بھرپور
وجود کا اس شان سے احساس دلاتا ہے کہ اس سلسلۂ عالیہ کی ایک بھی کڑی کہیں سے گم
ہوتی یا ٹوٹتی دکھائی نہیں دیتی۔ علامہ محمد اقبالؔ، امام احمد رضا خاں، محسن
کاکوروی، مولانا الطاف حسین حالیؔ، کرامت علی شہیدی کی راہ نمایانہ قیادت عصرِحاضر
کے شعرا کے لیے نعت کے میدان میں آگے بڑھنے کے لیے شمعِ راہ کا کردار ادا کر رہی
ہے۔ میرے ذہن و فکر کے البم پر اس وقت بہت سے ممتاز نعت گو شعراکے اسماے گرامی
اُبھر رہے ہیں جن میں سے ہر ایک حاصلِ انجمن ہے۔ مگر اس وقت ہمارا موضوع نعت کے
حوالے سے احتیاط کے تقاضوں پر بات کرنا ہے۔
نعت
عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لفظی معنی تو تعریف و ستائش کے ہیں مگر تمام لغات میں
اس کے مستعمل معنی توصیف و ثناے حضور ہی درج ہیں۔ بلاشبہ یہ اس لفظ کی خوش قسمتی
ہے کہ یہ ہمیشہ سے صرف اور صرف حضور نبی کریمﷺ کے محامد و محاسن بیان کرنے کے لیے
استعمال ہو رہا ہے۔ حضور محمد مصطفیﷺ سب کے محبوب ہیں۔ خدا خود آپ کی رضا چاہتا
ہے۔ خلقِ خدا ہمہ وقت آپ کی خوش نودی کی متلاشی ہے۔ دُرودوں کے پھول بارگاہِ رسول
میں نذر کیے جارہے ہیں۔ آنسوئوں کی سوغات زبانِ بے زبان سے بہت کچھ کہہ رہی ہوتی
ہے۔ سلاموں کے گجرے روضۂ رسول پر نچھاور ہو رہے ہیں۔ نعتوں کے گلشن مہکاے جا رہے
ہیں۔ عقیدتوں کی شمعوں سے چراغاں کیا جا رہا ہے۔ چاہتوں کی کلیاں مہکائی جا رہی ہیں۔
خطیب، ادیب، مفکر، دانش ور سبھی توصیفِ رسولﷺ میں رطب اللسان ہیں۔ ہر صاحبِ ایمان
اپنے فکر و عمل کو تذکارِ رسول سے آباد رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ کیوںکہ سبھی
جانتے ہیں کہ نعت ہی محبوبِ کبریا کی بارگاہِ ناز میں رسائی کا مؤثر ذریعہ ہے۔
اور یہ سارا اہتمام اسمِ محمدﷺ کی عظمتوں کے حضور سرِعقیدت خم کرنے کے لیے ہورہا
ہے۔ کیوں کہ ’’محمد‘‘ ہی وہ واحد اسم گرامی ہے جس کے معنی ’’سب سے زیادہ تعریف کیا
گیا‘‘ کے ہیں۔ اور پھر اس کی تعریف و توصیف میں کیا کمی رہ سکتی ہے جس کے لیے اس
کا خالق اعلان فرما رہا ہو کہ:
’’بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی (ﷺ) پر دُرود بھیجتے رہتے ہیں،
اے ایمان والو! تم دُرود بھی بھیجو اور سلام بھی جیساکہ حق ہے۔‘‘
(سورۃ الاحزاب:۵۶)
زمانہ
شاہد ہے کہ سعادت جس قدر بڑی ہو، آزمائش بھی اتنی ہی کڑی ہوتی ہے جو صنفِ سخن
افکارِ شاعر کو مہک بار کردے۔ صرف دنیوی سرخ روئی ہی عطا نہ کرے بلکہ ابدی سرفرازی
کی نوید بھی عطا کرے، شاعر کے لیے رضاے مصطفویﷺ کی صورت میں جنت کے در کھول دے۔ اس
سعادت کو پانے کے لیے شعرا کو غیرمعمولی احتیاط کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نعت کہتے
ہوئے ہر لحظہ یہ حقیقت مدنظر ہونی چاہیے کہ مَیں اس کی نعت کہہ رہا ہوں جس کی ثنا
اس کا خالق فرما رہا ہے۔ جس خالق نے محمدﷺ کو بے عیب بنایا ہے اُسے یہ کس طرح
گوارا ہے کہ فقط شعروں کے سنگ ریزے بکھیرنے والا شاعر اس ممدوحِ کائنات کو محض ایک بشر قرار دے کر اس کے لیے فرسودہ تراکیب اور پامال مضامین کا سہارا لیتا رہے۔ غالبؔ نے اس
مقام پر عاجزی کا اظہار کرکے سخن گوئی کا حق ادا کردیا ہے ؎
غالبؔ
ثناے خواجہ یہ یزداں گزاشتیم
کاں
ذاتِ پاک مرتبہ دانِ محمد است
غالبؔ
جیسا مے خوار نعتِ رسولﷺ کرتے ہوئے کس قدر ہوشیار نظر آتا ہے۔ نعت کے حوالے سے
احتیاط و ادب کے تقاضوں کو مدِنظر رکھنے کے لیے امامِ نعت گویاں احمد رضا خاں فاضل
بریلوی کس خوبی سے اپنا مدعا بیان کرتے ہیں:
’’حقیقتاً نعت شریف لکھنا نہایت مشکل کام ہے جس کو لوگ آسان
سمجھتے ہیں۔ اس میں تلوار کی دھار پر چلنا پڑتا ہے۔ اگر بڑھتا ہے تو الوہیت تک
پہنچتا ہے اور کمی کرتا ہے تو تنقیص ہوتی ہے۔ البتہ حمد آسان ہے کہ اس میں راستہ
صاف ہے۔ جتنا چاہے آگے بڑھ سکتا ہے۔ غرض ایک جانب اصلاً کوئی حد نہیں اور نعت شریف
میں دونوں جانب حدبندی ہے۔‘‘
نعت
شریف کہتے ہوئے جب شاعر دونوں جانب کی حدبندی کو حددرجہ ملحوظِ خاطر رکھتا ہے۔
الوہیت کے مقام کے تصور سے لرزتا ہے اور تنقیصِ رسالت کے احساس سے ہی عرق عرق
ہوجاتا ہے تو پھر نعت ہوتی ہے۔ ایسی نعت جو اپنے دوام کی خودکفیل ہوتی ہے اور ادبِ
عالیہ میں اپنا مقام خود منوا لیتی ہے۔ نعت میں عشق کے والہانہ پن اور احتیاط کے
حوالے سے درویش شاعر ساغر صدیقی کی فکری اُڑان ملاحظہ کیجیے:
’’نعت میرے نزدیک تعریفِ رسالت کا وہ طریقہ ہے جس میں الفاظ زبان
سے نہیں بلکہ پلکوں سے ترتیب دیے جاتے ہیں۔ منصور و شمس سے مجھ تک یہ نعمتِ عظمیٰ
کیسے پہنچی، چشمِ عقیدت کے لیے اس کا جواب سرمد کے قطرہ ہاے خون اور شہباز کے نعرہ
ہاے مستانہ ہی دے سکتے ہیں۔ میں نعت کہتے ہوئے اپنے جسم اور روح کو دوزخ کے شعلوں
سے ڈرا لیتا ہوں۔‘‘
نعت
گوئی میں حقیقی احتیاط خود کو دوزخ کے شعلوں سے ڈرا لینے ہی میں مضمر ہے۔ جب شاعر
کے پیش نظر عظمتِ خداوندی اور محبوبیتِ مصطفیٰ پیشِ نظر ہوتی ہے تو احتیاط خودبخود
دامن گیر ہوتی ہے۔ عرفیؔ جیسا قادرالکلام شاعر جب ایوانِ نعت میں داخل ہوتا ہے تو
ممدوحِ نعت کی عظمتوں کے تصور سے ہی لرزیدہ فکر ہوجاتا ہے۔ وہ راہِ نعت میں آگے
بڑھتے ہر گام پر عظمت و شانِ رسولﷺ کے تصور سے کانپ کانپ اُٹھتا ہے۔ وہ اپنی فکرِ
کم مایہ کا سرمایہ سنبھال سنبھال کر بصد احتیاط آگے بڑھتا ہے۔ اس کا اندازِ احتیاط
اپنی جگہ حاصلِ فکر ہے۔
عرفی
مشتاب ایں رہِ نعت است نہ صحرا است
آہستہ
کہ رہ بردمِ تیغ است قدم را
ہشدار
کہ نتواں بیک آہنگ سر و دن
نعتِ
شہِ کونین و مدیح کے و جم را
یہ
ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ نعت صدیوں کے سفر طے کرتی ہوئی آج انتہائی نقطئہ
عروج کو چھو رہی ہے۔ آج کا دَور اپنی تمام تر فکری بے راہ روی اور ذہنی کج روی کے
مظاہروں کے بعد بالآخر نعت کے کوچۂ عافیت ہی میں پناہ ڈھونڈ رہا ہے۔ یہ عصرِحاضر
کی مجبوری نہیں بلکہ کوچۂ نعت کی وسعتِ بے حد اور ثناے حضور کی بے کرانیوں نے
انھیں اپنی جانب متوجہ کرلیا ہے کہ آلامِ روزگار کے ستائے ہوئے حرماں نصیبو! کوچۂ
نعت میں امان ڈھونڈ لو کہ یہاں سکون ہی سکون ہے۔ یہ کوچۂ عافیت، پناہِ بے کساں
ہے۔ یہاں اسمِ محمدﷺ کے انوار لُٹ رہے ہیں۔ وہ پیارے محمدﷺ کہ جن کی توصیف کے لیے
یہ کائنات تخلیق کی گئی:
مدح
اس کی بیاں سے ماورا ہے
جسے
خالقِ محمد کہہ رہا ہے
مدح
میں اس کی اک نقطے کی صورت
زمین
و آسماں کا دائرہ ہے
اب
ایک نظر ہم ربّ کریم کے بابرکت کلام پر دوڑاتے ہیں جس کے متن میں احترامِ بارگاہِ
رسالت کے ستارے طلوع ہورہے ہیں۔ قرآن مجید کے حکمت کدے میں داخل ہوتے ہی محامد و
محاسن مصطفیٰﷺ کی فراوانی نظر آنے لگتی ہے۔ کہیں آپ کو یٰسین کہا جا رہا ہے تو
کہیں طٰہٰ کہہ کر خطاب کیا جا رہا ہے۔ کہیں یاایھا الزمل اور یاایھا المدثر کی
ندائوں سے آپ کو آواز دی جارہی ہے۔ ربّ کریم آپ کے شہر کی قسم کھاتا ہے۔ آپ کی
زلفوں کی شبِ تار اور چہرۂ والشمس کے انوار کا ذکر ہوتا ہے۔ آپ کے صحابہ اور آپ
کی پسندیدہ چیزوں کا ذکرِ جمیل ہورہا ہے۔ ’’ورفعنالک ذکرک‘‘ کی صورت میں آپ کے ذکر
کی سربلندی کا اعلانِ عام ہورہا ہے۔ آپ کے زمانے کی قسم کھا کر آپ کے ہر آنے والے
دن کو گزرے ہوئے دن سے بہتر قرار دیا جارہا ہے، آپ کے نام لیوائوں کو حیاتِ ابدی
کی بشارت دی جا رہی ہے اور آپ کے دشمنوں کو عذابِ الیم سے ڈرایا جارہا ہے۔ حتیٰ کہ
خداے کریم جہاں تمام انبیا و رُسل کو ان کے ناموں سے خطاب کرتا ہے، وہاں آپ کو
القاب کے ذریعے پکارا جا رہا ہے۔ حضرت جامی کے بقول:
یا
آدم است یا پدرِ انبیا خطاب
یا
ایھا النبی خطابِ محمد است
یہی
نہیں بلکہ اصحابِ ایمان کو رسولِ کریمﷺ کو مخاطب کرنے کے آداب سکھائے جارہے ہیں۔
بارگاہِ رسول میں اپنی آوازوں کو پست رکھنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔
یاایھا
الذین آمنو لا ترفعو اصواتکم فوق صوت النبی۔ (الحجرات : ۲)
اے
ایمان والو! تم اپنی آوازوں کو نبی اکرم (ﷺ) کی آواز سے بلند نہ کرو۔
کہیں
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بات کرتے ہوئے عجز و انکسار کو وسیلۂ اظہار بنانے
کا درس دیا جا رہا ہے:
ولا
تجہرو الہ بالقول کجہر بعضکم بعضا۔
تم
اُن کے ساتھ بات کو بلند آہنگ نہ دو جیسا کہ تم ایک دوسرے کے ساتھ بات کرتے ہو۔
کہیں
حجرۂ نبوی کے سامنے حاضر ہوکر بے باکانہ پکارنے سے منع کیا گیا ہے۔
ان
الذین۔۔۔۔من وراء الحجرات۔ (الحجرات : ۴)
بے
شک وہ آپ کو کمروں کے باہر سے پکارتے ہیں۔
کے
بارے میں ’’اکثرھم لایعقلون‘‘ (اُن میں سے بیش تر عقل نہیں رکھتے) کا فیصلہ دیا
جاچکا ہے، اس لیے پکار بے باکانہ نہ ہو۔ اس لیے اسمِِ ذات سے ندا غیرمحمود ہے کہ
خود پروردگارِ عالم نے یوں نہیں پکارا۔
پھر
ارشاد ہوا:
لایجعلو
دعاء الرسول بینکم کدعاء لبعضکم بعضا۔ (النور :۶۳)
تم
لوگ رسول کے پکارنے کو ایسا مت خیال کرو جیساکہ تم ایک دوسرے کو بلاتے ہو۔
سورۂ
الحجرات ہی میں فرمایا جا رہا ہے:
اے
ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول سے سبقت مت کیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔
جوں
جوں ایک صاحبِ نظر قرآن حکیم کی بے کراں تجلیات سے فیض یاب ہوتا ہوا آگے بڑھتا ہے
اس پر سلطانِ دوعالم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی توصیف و ثنا کے اسرار منکشف ہونے
لگتے ہیں۔ وہ یہ سوچ سوچ کر پریشان ہوجاتا ہے کہ ربّ کریم نے اپنے محبوب کی اس
درجہ توصیف کردی ہے تو میں کیا کہہ سکوںگا؟ جب ربّ کریم اطاعتِ رسول کو اپنی اطاعت
اور محبتِ رسول کو اپنی محبت قرار دے رہا ہے۔ جب غزوۂ بدر میں حضور کے ریت کی
مٹھی پھینکنے والے ہاتھ کو ربّ کریم اپنا ہاتھ قرار دے رہا ہو۔ جب گفتارِ مصطفیٰﷺ
کو گفتارِ خداوندی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ حضرت عثمان بن عفان ص کے نام پر مقامِ
حدیبیہ پر حضورﷺ کے صحابہ کرام سے اپنے ہاتھ پر بیعت لینے کو خدا اپنے ہاتھ پر
بیعت قرار دے رہا ہے تو مقاماتِ مصطفیﷺ کی بلندیوں اور رفعتوں کا احساس ہی نعت گو
شاعر سے عقیدت کا خراج لینے لگتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ جس کا مدح خواں خود خدا ہو
اُس کی توصیف میں، مَیں کیا لکھوںگا؟ جب عجز سامانی غالب آنے لگتی ہے تو یہ
احساسیکایک زندگی بخشنے لگتا ہے کہ اے شاعرِ خوش نوا! تو بحثوں میں کیوں اُلجھتا
ہے۔ تیرے لیے تو یہی احساس کافی ہے کہ تو
ممدوحِ خدا کی توصیف رقم کر رہا ہے۔ فقط احتیاط شرط ہے۔ یہ احتیاط احکامِ قرآن کا
تقاضا بھی ہے اور محبوبِ دوعالمﷺ سے محبت کی صلاے عام بھی۔ یہ احتیاط اور احترام
ہی تو محبتِ رسول ہے۔ ڈاکٹر سیّد عبداللہ کے لفظوں میں ’’کوئی وہ شخص عشقِ رسولﷺ
کی شاعری نہیں کرسکتا جو محبت کے کرب و درد، انہماک اور مرکزیتِ توجہ سے باخبر نہ
ہو۔‘‘ حق تو یہ ہے کہ نعت کی دنیا میں محو ہونے والا انسان، کوے حجاز کا رُخ کر ہی
نہیں سکتا۔ کیوںکہ جب حقیقتِ محمدیﷺ قلب و فکر کا احاطہ کرلے تو مجاز کے افسانے
خودبخود قصۂ پارینہ بن جاتے ہیں۔
عشق
اک کفر ہے جب تک ہے وہ محدودِ مجاز
اور
اس حد سے گزر جائے تو ایمان ہوجائے
یہی
احتیاط اور پاسِ شریعت ہے جو نعت کا حسن اور اعزاز بن کر اُبھرتا ہے۔
٭
یوں
تو دور ہی دورِ نعت رہا ہے اور ہر دور کے نعت گو شعرا نے اپنی اپنی زبانوں کو
وسیلۂ اظہار بنا کر نعت کہی ہے۔ آج وہ ماضی کا نعتیہ سرمایہ دست یاب ہو یا نہ ہو،
یہ حقیقت ہے کہ ہر دور کے ایوان ہاے نعت، نعتوں کے زمزموں سے گونجتے رہے ہیں۔
عصرِحاضر کو یہ افتخار ضرور حاصل ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں سے نعت گو شعرا کی تعداد
میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ اس کے کئی اسباب ہیں۔ ماضی میں نعت پاکیزہ اور درویش
صفت، خدا مست اہل اللہ تک محدود تھی۔ اُن کے نعتیہ کلام کا حسن ہی الگ ہے۔ وہ
نفوسِ قدسی اپنی ستائش اور ذرائعِ ابلاغ کے عدم وجود کی بدولت جو کچھ بھی کہہ گئے
وہ اُن کی اپنی ذات تک محدود رہا۔ وہ عظیم فرزندانِ توحید ستائش اور صلے یا کسی
نوعیت کی ناموری سے بے نیاز تھے۔ اس لیے اُن کے لیے نعت اظہارِ فن کا ذریعہ نہیں
بلکہ فقط اور فقط عبادت تھی۔
موجودہ
دور میں جب ذرائع ابلاغ اور ذرائع اشاعت بہت تیزی سے منصہ شہود پر آئے۔ نعت کو
مذہبی اجتماعات کے علاوہ ہر قسم کے سیاسی، سماجی اور ادبی جلسوں کی زینت بھی سمجھا
جانے لگا۔ وہ اخبارات اور جرائد جو کسی خاص تہوار پر ہی نعت کی اشاعت کا اہتمام
کرتے تھے، اب نعت نمبر نکالنے لگے۔ ریڈیو، ٹیلی ویژن پر نعت کو بزرگ ترین صنفِ سخن
کا درجہ دیا جانے لگا۔ تو وہ کثیر تعداد جو محض حصولِ شہرت کے لیے شاعری کے میدان
میں خامہ فرسائی کر رہی تھی، حالات کے تقاضے کو سمجھتے ہوئے اس جانب متوجہ ہوگئی۔
پھر کیا تھا… اتنی کثرت سے نعت لکھی جانے لگی کہ اصحابِ ذوق اور محبتِ رسولﷺ کو مدعاے
قلب و جان بنانے والوں کو فوراً ادب و احتیاط کے تقاضوں کو جانچنے اور نعت گوئوں
کی راہ نمائی کے لیے اس جانب متوجہہونا پڑا اور بڑی تیزی سے یہ سوال اُبھرنے لگا
کہ نعت گو شعرا کی ایک بڑی تعداد جس تیزی سے نعت کہہ رہی ہے کیا اس کا مقصد محض
قافیہ پیمائی اور اپنے ادبی قد کی نمائش ہے یا اس میں نعت کے حقیقی حسن کی جلوہ
گری نظر آتی ہے۔ جب ادبی پیمانوں سے گزرتے ہوئے عشق و عقیدت کے پیمانوں کا سہارا
لیا گیا تو بہت جلد روحانی کرب کا سامنا کرنا پڑا۔ کیوںکہ یہ شعرا قوافی اور اوزان
سے تو آگاہ ہیں مگر بہت سوں کا کلام نعت کی حقیقی روح سے محروم ہے۔
جب
یہ سوال اُبھرا کہ ان اصحاب کی نعتوں میں ادب و احتیاط کی آب و تاب کیوں نظر نہیں
آتی تو یہ اصحابِ فن ماضی کے عظیم المرتبت نعت گو شعرا کے حوالے سے پیش کرنے لگے۔
وہ اس حقیقت کو بھول گئے کہ وہ ماضی کے جن درویش صفت شعرا کا حوالہ دے رہے ہیں وہ
تو محبتِ رسول کی دولت سے اس درجہ بہرہ ور تھے کہ ان کے ہاں عشق کی فراوانی کے
ساتھ ساتھ کمال درجے کی احتیاط بھی نظر آتی ہے اور پھر وہ نفوسِ قدسی تو فنا فی
الرسول تھے۔ اُن کا محبوب فقط اور فقط ذاتِ رسول تھی۔ وہ ذاتِ رسولﷺ کے آئینے ہی
میں انوارِ خداوندی کی جلوہ گری دیکھتے تھے۔ ان کو بطورِ مثال پیش کرنے سے پہلے ان
جیسا جذبۂ محبتِ رسولﷺ، غیرمعمولی زہد و ریاضت، پاکیزگیِ کردار اور صالحیتِ افکار
کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ وہ لوگ تو تاریخ ساز تھے۔ وہ زمانہ گر تھے۔ وہ لفظوں کے اسیر
نہیں بلکہ کاروانِ عشق و سرمستی کے امیر تھے۔ لیکن ان عظیم نفوس کے مقابلے میں جب
ہم عہدِحاضر کے شبستانِ ہوس میں داخل ہوجاتے ہیں تو شعرا کی ایک بڑی تعداد ایک
جیسی برق رفتاری کے ساتھ غزل بھی کہہ رہی ہے اور نعت بھی لکھ رہی ہے۔ قوافی بھی
ایک جیسے، ردیفیں بھی ایک جیسی، مضامین بھی تھوڑے سے فرق سے ایک جیسے۔ یہ اس حقیقت
سے بے نیاز ہیں کہ جس ترکیب اور خیال کو وہ محبوبِ مجازی کے لیے باندھ آئے ہیں اسی
ترکیب اور بندش کو نعت کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ فقط مدینہ منورہ یا اسمِ محمدﷺ
لگا دینے ہی سے تو نعت نہیں ہوجاتی۔ وہ اس احساس سے بہرہ ور ہیں کہ مجازی تراکیب
کے دوش پر سوار ہوکر محبوبِ خدا کی توصیف کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔
ایسے
نعت گو شعرا کو نعت کہنے سے کون روک سکتا ہے؟ اور کوئی کیوں روکے؟ یہ تو
سرکارِدوعالمﷺ کو عطا کی گئی ’’شانِ و رفعنالک ذکرک‘‘ کا تقاضا ہے اور سبھی جانتے
ہیں کہ:
فقط
اتنا سبب تھا انعقاد بزمِ ہستی کا
کہ
اُن کی شانِ محبوبی دکھائی جانے والی تھی
مگر
انھیں ہر حالت میں یہ ملحوظ رکھنا چاہیے کہ محبوبِ خدا اور محبوبانِ مجازی کی
توصیف کے لیے صرف ادبی تقاضوں ہی کو نہیں دیکھا جاتا ہے، بلکہ ادب و احتیاط لازمی
ہے۔ یہ ادب اور احتیاط ہی تو شاعری کے پلِ صراط سے کامیابی سے گزر جانے کا سلیقہ
سکھاتے ہیں۔ بحمداللہ! ایسے نام ور شعرا بھی بڑی کثرت سینعت کہہ رہے ہیں جو
مقاماتِ مصطفویﷺ کی عظمتوں سے آگاہ ہیں اور جن کی قرآن حکیم اور احادیثِ رسول پر
بڑی گہری نظر ہے۔
نعتیہ
مشاعروں کے انعقاد کی کثرت، نعتیہ دیوانوں کی اشاعت کی کثرت اور جملہ رسائل و
جرائد کے مرتبہ نعت نمبروں کی اشاعت کی کثرت اپنی جگہ محمود و مستحسن سہی مگر
دیکھنا تو یہ ہے کہ یہ کثرت ہمیں نعت کے حقیقی مفاہیم سے دُور تو نہیں لے جارہی۔
اگر تیزی سے نعت کہنے والے نعت کے روحانی لوازم اور احترامِ بارگاہِ حضور سے باخبر
ہیں تو سبحان اللہ۔ ورنہ انھیں سوچنا ہوگا کہ:
شاعر
و نعت کہو یہ بھی تو ملحوظ رہے
جو
بھی کہتے ہو وہ سرکار کے شایان بھی ہے
ہمارے
نعت گو شعرا ادب کے ہر میدان میں نعت گوئی کر رہے ہیں۔ نعتیہ قصائد بھی بڑی تعداد
میں لکھے جارہے ہیں۔ مگر ان نعتیہ قصائد میں تشبیب کا مسئلہ محلِ نظر ہے۔ تشبیب
میں جنیت نوازی، شاعرانہ تعلّی اور فخرِ
مباہات کا ذکر شاعرانہ وقار سمجھا جاتا ہے۔ مگر یہ کسی دنیاوی بادشاہ یا کسی ایک
اقلیم کے سلطان کا قصیدہ نہیں کہ تشبیب کے نام پر جو چاہے لکھ دیا جائے۔ برصغیر کے
عظیم محدث شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نعتیہ قصائد میں ’’تشبیب
بالنساء‘‘ کو ختم ہونا چاہیے ورنہ وہ کیسی نعت ہے جس کی ابتدا ہی غیرموزوں، بے محل
اور نعت کے حقیقی حسن سے خالی ہے۔ یہ تو سلطانِ سلاطین اقالیم دو عالمﷺ کا قصہ ہے۔
یہیں تو خداے کریم کی ہم نوائی کا شرف حاصل ہورہاہے۔ پھر ایسی تشبیب سے نہ تو خدا
کا محبوب خوش ہوسکتا ہے اور نہ ہی خداے کریم اسے اپنے محبوب کی مدحت و توصیف جان
کر اُخروی سرخ روئی کا پیمانہ عطا کرسکتا ہے۔
عصرِحاضر
کی نعتوں میں حسنِ تغزل کے نام پر غزلیہ مضامین کی بھرمار ہونے لگتی ہے۔ صوفیا کے
کلام کو بہانہ بناکر ایسے ایسے مضامین پیش کیے جاتے ہیں جو نعت کے تقدس سے ماورا
ہیں۔ ان صوفیاے کرام نے کوچہ ٔ رسولﷺ کی جاروب کشی کی سعادت اور آپ کی نظرِ کرم
حاصل کرنے کے لیے سب کچھ لکھا تھا۔ اگر قدما میں سے کسی سے کوئی غلطی ہوگئی تو اسے
اپنی کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے بطورِ مثال پیش کرنے سے گریز کیا جائے۔ صوفیاے
کرام کی اکثریت وہ کچھ لکھ گئی ہے جس سے ہر دور کو عشق و عقیدتِ رسول کا عملی
ادراک حاصل ہوتا رہے گا۔ وہ عظیم لوگ مادّی تقاضوں سے ماورا تھے۔ اُن کا کلام فقط
اپنے ذوق کی تسکین کے لیے تھا اور وہ اشاعت کی تمنا سے بے نیاز تھا۔ بہت سا کلام
زمانے کی دست بُرد سے محفوظ نہ رہ سکا مگر جو ہم تک پہنچا ہے وہ اعزازِ شاعری ہے۔
کیا عصرِ حاضر کے شعرا اپنے تمام تر دعاوی کے بعد یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کا کلام
حسان بن ثابت، کعب بن زہیر، رومی و جامی اور معظم الدین سعدی شیرازی کی طرح ہزاروں
سال کی زندگی گزار کر ابدیت سے ہم کنار ہوسکے گا۔
نعت
کہیے! بڑے شوق سے کہتے رہیے۔ مگر خدا را ادب و احترام سے منھ نہ موڑیے کہ ادھر تو
غزلیہ مشاعرے میں اپنی تازہ ترین غزل پر واہ واہ کرا لی اور اُس سے ملتے جلتے
اشعار لکھ کر نعت کی سرخی جما کر داد سمیٹنے کے لیے نعتیہ تقاریب میں بھی چلے آئے۔
آپ غزل بے شک لکھیے، کیوںکہ اکثر اچھے غزل گو شعرا نے ہی میدانِ نعت میں حسنِ تغزل
کے گلاب بکھیرے ہیں۔ مگر یہ ملحوظِ خاطر رہے کہ غزل کے حسنِ تغزل اور نعت کے حسنِ
تغزل میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ایک طرف بوالہوسی ہے تو دوسری طرف عشقِ رسول،
ایک طرف محبوبِ مجازی کے خدوخال ہیں تو دوسری طرف صاحبِ قران کے دل آویز خطوطِ
سیرت و صورت۔ ایک طرف ادبی تقاضے کا اظہار ہے تو دوسری طرف عاجزی و انکساری، ایک
طرف پُرشکوہ الفاظ کی بھرمار ہے تو دوسری طرف محبتِ رسولﷺ سے حیات تازہ پانے والے
مہک بار اور مقدس تصورات کی لطافت انگیزی۔ ایسے عالم میں نعت گو شاعر ذرا بھی
احتیاط سے کام لے تو نعت میں بھی حسنِ تغزل کی ضوباری دکھا سکتا ہے۔ مگر یہ کمالِ
تغزل ایسا لطافت آفریں ہوگا کہ پڑھنے والوں کی آنکھیں بے اختیار اشکوں سے وضو کرنے
لگیںگی۔
ایک
صاحبِ فکر نے اس حوالے سے کیا خوب کہا ہے:
نعتِ
نبی جو کہتا ہے! اے شاعرو تمھیں
سمجھو
کہ ہے گزرنا تمھیں پلِ صراط سے
آنکھیں
بھی باوضو ہوں دلوں میں بھی سوز ہو
اک
حرف بھی کہو تو کہو احتیاط سے
نعت
جیسی پاکیزہ صنفِ سخن میں روایتی غزل کے لیے مستعمل شدہ غزلیہ مضامین عامیانہ سطح
کی تراکیب اور معمولی نوعیت کی تشبیہات اور استعارات سے حتیٰ المقدور دامن بچایا
جائے۔ غزل میں تو شاعر نے اپنے ممدوح کو ہر لحاظ سے ہمہ خوبی دکھانا ہوتا ہے۔ اس
لیے وہ دُور ازکار تشبیہات کا سہارا بھی لیتا ہے کہ اس کا محبوب دوسرے شعرا کے
محبوبوں سے زیادہ دل آویز، حسین و جمیل نظر آئے۔ اپنی بلندپردازی کے لیے وہ کسی
اُصول و ضابطے کا پابندی نہیں ہوتا بلکہ اس کی جملہ ادبی و شعری توانائیاں اپنے
محبوب کو ہر لحاظ سے جانِ محبوبی دکھانے کے لیے صرف ہوتی ہیں۔۔۔ مگر نعت میں
معاملہ برعکس ہے۔ یہاں تو اُس کی توصیف ہو رہی ہے جسے اُس کے خالق نے پہلے ہی سے
ہمہ صفت موصوف بنایا ہے۔ جس میں کسی کمی یا خامی کا وجود تو کجا شائبہ تک نہیں ہے۔
تصور یہ ہونا چاہیے کہ ہم ایسے ہمہ صفت محبوبِ خدا کی توصیف کرکے اپنے ادبی کمالات
کے ظہور میں ایک دوسرے پر بازی نہیں لے جارہے بلکہ ہم تو اس ہمہ صفت موصوف کی ثناگوئی
کرکے اپنی عاقبت سنوار رہے ہیں۔ ورنہ جناب محمد(ﷺ) اور خداے محمد(ﷺ) ہماری توصیف
اور حمد ونعت کے محتاج نہیں۔ البتہ ہماری تمام تر نام وری (اگر میسر ہے تو)
احترامِ بارگاہِ رسالت مآبﷺ ہی میں مضمر ہے اس لیے عامیانہ قسم کی تشبیہات اور
استعارات سے گریز کرکے مقاماتِ محمدﷺکی سربلندی کو وظیفۂ حیات بناکرہی نعت کے
قافلے میں صدی خراقی کافریضہ ادا کیاجاسکتا ہے۔
اس
ضمن میں ایک تاریخی واقعے کا تذکرہ ایمان و یقین کے نخل سرسبز کو مزید بہارآفریں
بنانے کے لیے کافی ہے۔ اردو زبان کے معروف شاعر جناب اطہر ہاپوڑی نے ایک نعت لکھ کر
امام احمد رضا خاں بریلوی قدس سرہ (المتوفی ۱۳۴۰ھ) کے پاس بغرضِ
ملاحظہ ارسال کی، جس کا مطلع تھا ؎
کب
ہیں درخت حضرتِ والا کے سامنے
مجنوں
کھڑے ہیں خیمۂ لیلیٰ کے سامنے
امام
احمد رضا خاں اس پر برافروختہ ہوئے اور فرمایا کہ مطلع کا مصرع ثانی منصبِ رسالت
سے فروتر ہے۔ محبوبِ پروردگارﷺ کے گنبدِ خضرا کو خیمۂ لیلیٰ سے تشبیہ دینا بے
ادبی ہے اور مجنوں میاں بیچ میں کہاں سے آگئے۔ یہ تو ذاتِ رسولﷺ کا معاملہ ہے۔
ساتھ ہی قلم برداشتہ یوں اصلاح فرمائی ؎
کب
ہیں درخت حضرتِ والا کے سامنے
قدسی
کھڑے ہیں عرشِ معلی کے سامنے
حضرت
اطہر ہاپوڑی اس اصلاح پر اتنے خوش ہوئے کہ تمام زندگی اس پر ناز کرتے رہے۔ یہ اُن
تمام شعرا کے لیے لمحۂ فکریہ ہے جو تنقیصِ رسالت کے باب میں معمولی سی توجہ دلانے
پر برافروختہ ہوجاتے ہیں اور توجہ دلانے والا اس خوف سے پیچھے ہٹ جاتا ہے کہ ؎
انیس
ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو
لیکن
بات یہاں ان نازک آبگینوں کو ٹھیس لگنے کی نہیں ہے۔ یہاں تو ادب و احتیاط کے
تقاضوں کو بالاے طاق رکھنے پر خداے کریم کی ناراضگی کا خوف ہونا چاہیے۔ دلوں کے
نازک آبگینوں کا کیا ہے، یہ تو شاعرانہ تعلّی کے نام پر صدیوں سے ٹھیس لگنے کے
عادی ہوچکے ہیں۔ یہ تو شعرا کا معمولِ حیات ہے۔ مگر نعت کے میدان میں اس معمولِ
حیات کو ترک کرکے معمولی سی گستاخی سے بھی اجتناب کرنا چاہیے۔ یہاں تو ادب و
احتیاط کا یہ عالم ہونا چاہیے کہ ؎
شان
اُن کی سوچیے اور سوچ میں کھو جایئے
نعت
کا دل میں خیال آئے تو چپ ہوجایئے
بعض
حضرات کو اپنی قادرالکلامی پر بڑا ناز ہوتا ہے۔ وہ مشاعروں اور ادبی تقاریب میں
جھوم جھوم کر نعت پڑھتے ہیں اور جابجا سامعین کی رہنمائی بھی فرماتے ہیں کہ میرے
فلاں فلاں شعر میں ادبی و فنی محاسنملاحظہ فرمایئے۔ سامعین کی واہ واہ اور داد کو
ہی متاعِ عزیز سمجھ بیٹھتے ہیں۔ اپنی قادرالکلامی کا یہ غرور ہی انھیں بے حجابانہ
اور گستاخانہ انداز سے آگے بڑھنے اور سرکارِدوعالمﷺ سے ہم کلامی کے معاملے میں
آداب و احتیاط کو فراموش کرنے کا مذموم جذبہ عطا کرتا ہے۔ انھیں جان لینا چاہیے کہ
نعت میں فقط قادرالکلامی اور بیان ہی سب کچھ نہیں ہے۔ نعت گوئی کے لیے حضور اکرم
کے فضائل، سعادت و کمالات، حسنِ ظاہر و باطن کی اور ذاتِ اقدس سے متعلقہ دیگر علوم
سے واقفیت حاصل کرنا لازمی امر ہے۔ حضور علیہ الصلوٰہ والسلام نے سیّدنا حسان بن
ثابت ص جیسے یگانہ روزگار شاعر کو حکم دیا کہ حضرت صدیق اکبر صکے پاس جائیں اور
ممدوحِ نعتﷺ کے نسب نامے کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ ص
بھی شاعرِ دربارِ رسالت ہیں لیکن ایک بار اُن کے اشعار حضورﷺ کی بارگاہِ قدس میں
پسندیدگی کے حق دارانہ ٹھہر پائے، حضورﷺ خود بعض نعت گو شعرا کو ٹوکتے اور اصلاح
فرماتے رہے تو ان جلیل القدر ہستیوں کے مقابلے میں کہ جن کی خاکِ پا ہمارے لیے
سرمۂ چشمِ بصیرت ہے، ہم کس قطار و شمار میں ہیں؟ ہماری اوقات ہی کیا ہے؟ ہماری
اوقات تو فقط نسبتِ حضور ہی سے وابستہ ہے اور یہی نسبت اگر پریشانیِ خاطر یا حضور
علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ میں ناپسندیدگی کا باعث بن جائے تو ہماری
جادوبیانی اور قادرالکلامی یا قدرتِ زبان و بیاں کس گنتی میں ہے؟ ہمیں جان لینا
چاہیے کہ نعت کیسی ہی ہو حضورﷺ کی رضا حاصل کیے بغیر قرطاس و قلم کی زینت بن ہی
نہیں سکتی۔ ہمیں ہر لحظہ یہ امر ملحوظ رکھنا چاہیے ؎
آنکھوں
میں نور دل میں بصیرت ہے آپ سے
مَیں
خود تو کچھ نہیں مری قیمت ہے آپ سے
ربّ
کریم نے اپنے محبوبﷺ کو افصح العرب بنایا، اسی لیے تو آپ اُمّی لقب مگر داناے کُل
ہوکر اچھے نعتیہ اشعار کی داد دیتے اور اظہارِ پسندیدگی بھی فرماتے تھے۔ عاصی
کرنالی ایک نئے زاویے سے اظہارِ خیال کرتے ہیں:
کبھی
کبھی ہمارے مطالعے سے یہ ’’آشوب‘‘ بھی گزرتا ہے کہ ہم حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام
کی توصیف میں افراط و تفریط کا شکار ہوجاتے ہیں۔ کبھی تو کسرِ شان کا یہ انداز کہ
انھیں اپنے جیسا بشر سمجھتے ہیں یا غزل کے مضامین کا اُن کو مورد قرار دیتے ہیں
اور کبھی ازراہِ مبالغہ انھیں اللہ کی مخصوص صفات اور اختیارات کا حامل قرار دیتے
ہیں۔ اللہ کے پردے میں وحدت کے سوا کچھ نہیں۔ اس لیے سب کچھ حضور ہی سے مانگنا ہے۔
کیا نعت کے ایسے مضامین قرآن و سُنّت کے مزاج کے مطابق اور دانش و معرفت کے اصول و
اطلاق سے مناسبت رکھتے ہیں؟
(’’نعت رنگ‘‘ اپریل ۱۹۹۵ء)
حضورﷺ
کے مقام و مرتبہ کی کوئی حد نہیں۔ آپ کے علوم و معارف کی کوئی انتہا نہیں۔ اس
عالمِ ممکنات میں جتنے بھی غزالی، رومی، سعدی، احمد رضا خاں اور علامہ اقبال جنم
لیتے رہیںگے، سب کی صلاحیتیں حضورﷺ کی نگاہِ لطف کی محتاج نہیں۔ ضمائر کے استعمال
میں واحد غائب کے لیے وہ اور واحد حاضر کے لیے تُو کا استعمال مناسب ہے یا
نامناسب۔ اردو شاعری زیادہ تر فارسی اور عربی کی متبع ہے۔ فارسی میں توُ سے ایک
شخص مراد ہوتا ہے جب کہ شما اور ایشاں میں وحدت نہیں اجتماع ہے۔ اردو زبان میں بہت
سے شعرا نے بہت سے مقامات پر اسی روش کی تقلید کی ہے:
اے
خاصۂ خاصان رُسل وقتِ دعا ہے
اُمت
پہ تری آکے عجب وقت پڑا ہے
(حالیؔ)
یا
اقبالؔ کی شاعری ؎
لوح
بھی توُ قلم بھی توُ ترا وجود الکتاب
گنبدِ
آبگینہ رنگ ترے محیط
لیکن
اس کے باوجود اقبالؔ کے ہاں آپ کا استعمال بھی ملتا ہے۔ توُ کا صیغہ استعمال کرنے
والے بیش تر شعرا کے ہاں آپ کا خطاب بھی ملتا ہے۔ اس بحث میں اُلجھے بغیر یہ سمجھ
لینا چاہیے کہ توُ یا آپ کا استعمال شاعر کے بیان کردہ مضمون بحر اور قافیے کا
محتاج ہوتا ہے۔ بات حسنِ نیت کی ہے۔ کوشش یہی کرنی چاہیے کہ اگر اوزان اور بحور
اجازت دیں تو تعظیمی ضمائر ضرور کا استعمال کرنا چاہیے، مثلاً:
ہر
نبوت کے لیے وقت پہ جانا ٹھہرا
آپ
آئے تو نہ جانے کے لیے آپ آئے
(عاصی کرنالی)
دانشؔ
میں خوفِ مرگ سے مطلق ہوں بے نیاز
مَیں
جانتا ہوں موت ہے سُنّت حضور کی
(احسان دانش)
جس
کے لبوں پہ ذکرِ نبی کی مٹھاس ہے
اس
کو ہوائے گلشنِ فردوس راس ہے
مرہونِ
لطفِ سرورِ ہر دوجہاں ہوں
میری
زبانِ حال یہ حرفِ سپاس ہے
(راجارشیدمحمود)
اگرچہ
غزل کا پیرہن تمام مضامین کے یے موزوں ہے اور غزل کا پیرہن ہر قدِ زیبا پر سجتا ہے
مگرجیساکہ ہم پہلے بھی عرض کرچکے ہیں کہ نعتِ رسولﷺ میں غزل کے مروّجہ اسالیب کے
استعمال پر اصرار کرنا کسی لحاظ سے بھی موزوں اور مناسب نہیں ہے۔ غزل تو ہمیں
اوزان، قوافی اور بحور دیتی ہے۔ ہمیں مجبور تو نہیں کرتی کہ ہم وہ تمام احکامِ سخن
نعت گوئی پر صادر کریں جو غزل کے حوالے سے دنیاوی اور مجازی محبوبوں کے نام پر
استعمال ہوتے رہے ہیں۔ اگر اس پر اصرار کیا جائے گا تو نعت اپنے حقیقی روحانی اور
ایمانی حسن کھو کر فقط خوب صورت شاعری کا نمونہ رہ جائے۔ یہ ایک ایسے پھول کی
مانند ہوگی جس کی رنگت تو کمال کی ہے، مگر خوش بو سے محروم رہے۔ معروف نقاد ڈاکٹر
فرمان فتح پوری رقم طراز ہیں:
نعت
کا موضوع اس امر کا متقاضی تھا کہ جدید ہئیتوں میں زیادہ سے زیادہ برتا جاتا۔ لیکن
ایسا نہیں ہوا۔ اور ہمارے شعراے قدیم ہئیتوں خصوصاً غزل کی ہیئت کو اپنائے ہوئے
ہیں۔ اس مسئلے پر بطورِ خاص غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ خطرہ یہ ہے کہ اردو نعت
گوئی کی صنف غزل میں بند ہوکر محض جلسے جلوس میں ترنم سے پڑھنے اور محافل میں ترنم
ریزی کا سرمایہ بن کر نہ رہ جائے۔
(بحوالہ ’’نعت رنگ‘‘، ۱۔۲، ص۱۲۶)
ڈاکٹر
فرمان فتح پوری کا مقصود غزل کی ہیئت میں نعت کہنے پر تنقید نہیں بلکہ وہ بھی اس
خیال کے ہم نوا ہیں کہ غزل کے قالب کو ہی حاصلِ شاعری سمجھ کر نعت کو اس تک محدود
نہ کردیا جائے۔
احمد
ندیم قاسمی کے بقول:
نعت
عشقِ رسول کے بغیر کہی ہی نہیں جاسکتی۔ رسماً کہی جائے تو اس کا کھوکھلاپن جلد ہی
کھل جائے گا۔
محمد
عبداللہ قریشی بھی کچھ ایسے ہی جذبے کی ترجمانی کرتے ہیں:
نعت
گو جب تک عشقِ رسول میں ڈوب کر توحید و رسالت اور عبودیت کے نازک رشتوں میں کامل
ہم آہنگی پیدا نہ کرے، جذباتِ عالیہ، سوز و گداز، رفعتِ بیان اور حسنِ ذوق سے آشنا
نہ ہو اس وقت تک وہ نعت گوئی کے منصب سے عہدہ برآ نہیں ہوسکتا۔
شاہ
احمد رضا خاں کے اس شعر سے مندرجہ بالا حقائق کو نئی تب و تاب ملتی ہے ؎
لیکن
رضاؔ نے ختم سخن اس پہ کردیا
خالق
کا بندہ خلق کا مولا کہوں تجھے
ممتاز
نعت گو شاعر اور متعدد نعتیہ دواوین کے خالق راجا رشید محمود، مدیر ’’نعت‘‘ فرماتے
ہیں:
نعت
الفاظ کا حسن اور تشبیہات کا شکوہ ہی نہیں بلکہ اس کے متن سے سلطانِدوعالمﷺ کی
سرفرازی، آپ کے محاسنِ قدسیہ اور فکر و عمل کی خوش بو آنی چاہیے۔ اس کے پہلو بہ
پہلو شاعر کا جذبۂ نیاز و عقیدت بھی وسیلۂ اظہار بننا چاہیے۔ ورنہ نعت محض لفظوں
کی ساحری بن جائے گی۔
یوں
تو مدح کرنے کے لیے درجنوں حوالے ہیں مگر مندرجہ بالا چند اقتباسات سے ہمارا مقصد
یہ ہے کہ نعت کی حقیقی روح ادب و احترامِ رسولﷺ ہے۔ اگر یہ نہیں تو پھر روشنی سے
محروم چراغوں کو پیش کرنے اور خوش بو سے محروم پھولوں کی نمائش سے کیا حاصل۔
مختصر
یہ کہ:
٭ نعت ربّ کریم کی توفیقِ خاص ہے۔ نعت گو کو ہر لمحہ یہ احساس
ہونا چاہیے کہ یہ توفیقِ نعت اس کائنات کا سب سے بڑا اعزاز ہے۔ نعت میں ربّ کریم
کی ہم نوائی سے بڑھ کر مردِ مومن اور کیا آرزو کرسکتا ہے۔ اگر یہ توفیق مقدر کا
حصہ بن جائے تو ہر ساعت ہر آن یہی فکر پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ جو ذاتِ عظیم یہ
توفیق ارزاں کر رہی ہے، وہ معمولی کوتاہی سے ناراض بھی ہوسکتی ہے اور احترام و
عقیدتِ رسول کے تقاضوں کو بجا لانے پر ہر نعمتِ عظمیٰ شاعر کا مقدر بھی سنوار سکتی
ہے۔
٭ نعت کا عظیم معیار قرآنِ حکیم ہے۔ نعت گو شعرا کو قرآنِ حکیم،
اقوالِ رسول، احادیثِ نبوی، صحابہ کے جذبۂ عقیدت کے ساتھ، عظیم نعت گو شعرا کے
کلام کا باقاعدہ مطالعہ کرنا چاہیے۔ قرآن کے دارالحکمت میں داخل ہوتے ہی ہر سورت
اور ہر آیت شوکت و شانِ رسول کے ساتھ ساتھ احترامِ رسولﷺ پر زور دیتی نظر آئے گی۔
مبارک ہیں وہ نفوسِ قدسیہ جو قرآن سے نعت گوئی سیکھتے ہیں۔ امام احمد رضا خاں
فرماتے ہیں۔
ہوں
اپنے کلام سے نہایت محظوظ
بیجا
سے ہے المنتہ للہ محفوظ
قرآن
سے مَیں نے نعت گوئی سیکھی
یعنی
رہے احکامِ شریعت ملحوظ
(حدائقِ بخشش)
٭ نبی مکرمﷺ کے اوصاف لامتناہی ہیں۔ آپ اس کائنات کی سب سے عظیم
ہستی ہیں۔ فکرِ عاجز آپ کے محامد و محاسن اور کمالاتِ عالیہ کا احاطہ نہیں کرسکتی۔
آپ کی صورت کی جلوہ ریزیاں، چہرۂ انور کی طلعت باریاں، معجزات اور کمالات کی
کثرت، رحمت و شفقت، پتھر کھا کر دعائیں دینا، جان کے دشمنوں کو رحمت کی قبائیں
بخشنا، غارِحرا سے لے کر سفرِ معراج تک اور مدینے کے عام شہری سے لے کرمقتدرِاعلیٰ
تک، آپ کی حیاتِ طیبہ کا ایک ایک لمحہ انوار و فیوض لٹا رہا ہے۔ جب شاعر مقاماتِ
مصطفیٰﷺ کی لافانی بلندیوں اور آپ کے کمالاتِ قدسیہ کی وسعتوں کا تصور کرلے تو بے
اختیار اپنی عجز سامانی کا احساس ہونے لگتا ہے کہ وہ کہاں مَیں کہاں؟ جوں جوں اس
احساس کی چنگاری بھڑکتی ہے ادب و عقیدت کے آداب عطا ہونے لگتے ہیں۔
٭ نعت میں فقط تخیلات کی بلندی پر زور دیا جائے تو نعت فقط شعری
نمونہ بن جاتی ہے۔ اس میں تخیلات کی بلند پروازی سے زیادہ حقائق کے اِدراک کا
مسئلہ پیشِ نظر ہے۔ اس بارگاہِ عالی میں کمالاتِ مصطفیٰﷺ کے حوالے سے کمالِ تحقیق
اور انتہاے عجز کے ساتھ حاضری دینی چاہیے۔
٭ یہ احساس ہر لحظہ پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ نعت کہتے ہوئے مَیں
خالقِ دوعالم کی سُنّتِ عالیہ ادا کررہا ہوں۔ محمدمصطفیٰﷺ کی ذاتِ گرامی وہ ہستی
ہے کہ جس کے حضور فرشتے بھی دم بخود حاضر ہوتے ہیں۔ اس بارگاہِ اقدس میں بلند آواز
سے کلام کرنا بھی منع ہے۔ اسمِ محمدﷺ کو ادا کرنے سے پہلے زبان کو ہزار مرتبہ مشک
و گلاب سے عطر بیز کرنا پڑتا ہے۔ یہی نام نامی فرشتوں کا وظیفہ اور جملہ انبیا کی
مناجاتوں کی قبولیت کا ذریعہ ہے۔ جب اس حوالے سے شاعر آگے بڑھے گا تو شعری تفاخر
خودبخود عجز و نیاز میں ڈھل جائے گا۔
٭ ممدوحِ نعت کے اوصاف ذہن و فکر کی ہر وسعت سے زیادہ ہیں۔ اس
لیے بہت کچھ لکھے جانے اور کہے جانے کی گنجائش باقی رہتی ہے۔ کیوںکہ درود و سلام
کے حوالے سے حکمِ خداوندی کی حقیقی معنویت روزِ محشر اُجاگر ہوگی جب آپ شفاعت کا تاج
نور زیب سر کیے ہوئے ہوںگے۔ شفاعت طلبی کا احساس شاعر کو بارگاہِ حضور میں پلکوں
سے جاروب کشی کرنے کے آداب سکھا دیتی ہے۔
٭ دورِ حاضر میں نعتیہ محافل اور نعتیہ مجالس کی کثرت ہے۔ محض
نعت خوانوں کی آواز اور ترنم کے پیشِ نظر یا اہلِ محفل سے داد وصول کرنے کے بجائے
نعت کے حقیقی مفاہیم پر زور دینا چاہیے۔ حقیقی داد عوام الناس کی واہ واہ نہیں
بلکہ بارگاہِ خدا اور دربارِ رسالت مآب علیہ الصلوٰۃ والسلام میں قبولیت ہے۔ جب کہ
خوشنودیِ رسولﷺ میں خوشنودیِ خدا ہے تو آپ سے تعلقِ خاطر اور روحانی نسبت کو ادب و
عقیدت کے تقاضوں کو بجا لا کر مضبوط سے مضبوط بنانا چاہیے۔
وفا
کا سوز تو کندن بنا دیتا ہے انساں کو
محبت
جس کو خاکستر کرے گی کیمیا ہوگا
٭ نعت کے لیے ایسا قلم چاہیے جو عقیدت کے گلاب مہکانا جانتا ہو۔
شاعر اپنے دل کے آئینے کو شفاف سے شفاف تر کرے تاکہ انوارِ محمدیﷺ کی جلوہ گری ہوسکے۔
جوں جوں شاعر محمدیت کے رنگ میںرنگا جائے گا اس کے جذبے باوضو اور اس کے محسوسات
نورِتقدیس سے ضوریز ہونے لگیںگے۔ یہی وہ مقام ہے کہ جب ہاتفِ غیبی بھی پکار اُٹھتا
ہے کہ یہی تو نعت ہے۔
٭ نعت کا موضوع عظیم بھی ہے اور نازک بھی۔ یہ عرش سے نازک تر
مقام ہے۔ اس لیے احکامِ قرآنی پیشِ نظر رہنے چاہئیں۔
٭ شاعر کو حضور سرورِ کونینﷺ کی صورتِ عالیہ اور سیرتِ پاکیزۂ
سے مکمل آگاہی ہونی چاہیے تاکہ جب وہ فکرِ نعت میں سرمست ہو تو قلم کی نوک عقیدتِ
حضور کے قلزمِ انوار سے وضو کر رہی ہو۔
٭ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سیرتِ قدسیہ اخلاقِ عالیہ کو
اپنی نعت کا موضوع بناتے ہوئے شاعر کو حضور علیہ الصلوٰہ والسلام کا رُخِ انور
پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔ وہ رُخِ انور کہ جو قرآن سے جمالِ خداوندی کا آئینہ بن کر
اُبھرتا ہے۔ یہ امر پیشِ نظر رکھنا چاہیے کہ محبوبِ خدا کی صورت نے بھی سیرت کا
کام کیا ہے اور بے شمار خوش بخت تو حضورﷺ کا چہرۂ انور دیکھتے ہی دولتِ ایمان سے
مشرف ہوگئے۔ یہیں وہ حسنِ تغزل ہوگا جو مجازی تقاضوں سے ماوریٰ ہوکر ادب و عقیدت
کا ترجمان ہوگا۔
٭ یہ حقیقت بھی پیشِ نظر ہونی چاہیے کہ نعت حضور علیہ الصلوٰۃ
والسلام کی رضا اور عطا کے بغیر لکھی نہیں جاسکتی ؎
نعت
مَیں کیسے لکھوں اُن کی رضا سے پہلے
میرے
ماتھے پہ پسینہ ہے ثنا سے پہلے
جب
نعت رضاے مصطفویﷺ کی بدولت شاعر کی تقدیر سنوار رہی ہے تو کمالِ فن اور حسنِ شعریت
پر غرور کیسا؟ یہاں تو ہر آن تجلیاتِ حضور سے اپنے افکار کو ضوبار، کردار کو
پاکیزہ تر، محسوسات کو مہک ریز اور جذباتِ عقیدت کو عنبر فشاں کرتے رہنا چاہیے۔
الغرض
نعت و ثناے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا کاروانِ نور بصد احترام و عقیدت رواںدواں
ہے ازل اور ابد کی حدود سے سربلند ہوکر۔ عصرِ حاضر میں غیرمعمولی تعداد میں شعرا
کا نعت کی جانب متوجہ ہونا اور نعتیہ کتب اور نعتیہ رسائل و جرائد کا حیرت انگیز
تعداد سے شائع ہونا بذاتِ خود رحمتِ خداوندی کی جلوہ گری ہے۔ ہمیں لغزشوں سے دامن
بچا کر عشق و عقیدت اور احترام و احتیاط کی روشنی میں آگے بڑھتے رہنا چاہیے۔ اے
کاروانِ نعت کے خوش بخت مسافرو! آگے بڑھتے رہو۔ تمھاری نظریں گنبدِ خضریٰ پر جمی
رہنی چاہییں۔ تمھارے دلوں میں عظمتِ حضور کی شمعوں کو روشن رہنا چاہیے۔ ذاتی نمود،
فنی تفاخر، غیرضروری مبالغہ آرائی سے بے نیاز ہوکر فقط اور فقط احترامِ محبوبِ
دوعالمﷺ کے سہارے۔
{٭}

0 تبصرے