اب
نعت جو زندگی ہوئی ہے
سانسوں
کی کمی بڑھی ہوئی ہے
دیکھوں
گا انھیں بروزِ محشر
یہ
سوچ کے جو خوشی ہوئی ہے
میں
آ تو گیا حرم سے واپس
پر
کیا مری واپسی ہوئی ہے
آئیں
گے ضرور میرے آقا
خوابوں
پہ نظر لگی ہوئی ہے
اک
لفظ سے بنے ہوئے جہاں میں
اک
نام سے روشنی ہوئی ہے
اک
در کا یہ فیض ہے کہ باقی
ہر
در سے یہ جاں بچی ہوئی ہے
اشکوں
چلے جائو دل میں واپس
کاغذ
پہ نعت لکھی ہوئی ہے
اتنا
ہی نہیں کہ اُن کے در پر
ناچیز
کی حاضری ہوئی ہے
ماجدؔ
بہ زبانِ بے زبانی
سرکار
سے بات بھی ہوئی ہے
ماجد
خلیل (کراچی)

0 تبصرے