میرا
مقصد عظیم مقصد ہے
مقصد عظیم مقصد ہے
جستجوئے
درِ احمد ہے
درِ احمد ہے
چھو
نہ سکی فصیلِ طیبہ کو
نہ سکی فصیلِ طیبہ کو
آسماں
کی جو آخری سرحد ہے
کی جو آخری سرحد ہے
خوب
ہوں گے ذلیل محشر میں
ہوں گے ذلیل محشر میں
جن
کو نامِ رسول سے کد ہے
کو نامِ رسول سے کد ہے
جن
کے دل میں نہیں ہے عشقِ نبی
کے دل میں نہیں ہے عشقِ نبی
وہ
ہیں بد ان کی عاقبت بد ہے
ہیں بد ان کی عاقبت بد ہے
رب
کہے گا نبی کے کہنے سے
کہے گا نبی کے کہنے سے
ہرخطاکار
کی خطا رد ہے
کی خطا رد ہے
لب
پہ وردِ درود تھا کل تو
پہ وردِ درود تھا کل تو
آج
روشنن ہمارا مرقد ہے
روشنن ہمارا مرقد ہے
جب
سے چوما درِ نبی میکشؔ
سے چوما درِ نبی میکشؔ
زیرِ
لب روز سنگِ اسود ہے
لب روز سنگِ اسود ہے
میکش
ؔاجمیری
ؔاجمیری

0 تبصرے