اقلیم نعت کا سفیر : فرحت حسین خوشدلؔ
اوجؔ اکبر پوری اکبر پور‘ رہتاس(بہار)۸۲۱۳۱۱
حضور
اکرم ﷺ کی تعریف و توصیف بمصداق ’’بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر‘‘ایمان کا ایک
جزو ہے۔ بلکہ ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک مصطفیٰ جان رحمت ﷺ کا نام
نامی اسم گرامی زبان پر نہ آئے۔’’لا ایمان لمن لا محبۃ لہُ‘‘ سے ظاہر ہے حبِّ
رسول ہر مومن کے ایمان کی نشانی ہے۔ جس کے دل میں سرور کائنات کی محبت نہ ہو اس
میں ایمان نہیں۔گویا حبِّ نبی مدار ایمان و اسلام ہے ۔ ہر مومن کا دل کم و بیش عشق
رسول سے لبریز ہے۔قرون اولیٰ کے مسلمانوں نے حضور والا صفات پر اپنا سب کچھ نثار
کر دیا اور تا حیات اس حدیث مقدّسہ پر عمل پیرا رہے کہ’’تم میں سے کوئی اس وقت تک
مومن نہیںہو سکتا جب تک میں(ذات محمدی) اس کے سامنے اس کی اولاد‘ماں باپ اور دنیا
کے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جائوں‘‘۔یہی نہیں کہ اس عشق و محبت کا اظہار
اعضا و جوارح اور مال و متاع سے کیابلکہ ہر زمانہ میں اپنی تحریر و تقریر
میںسراپائے نبی اور سیرت مصطفی ﷺ کو بقدرِ ظرف لوگوں نے بیان کیا ہے اور کیوں نہ
ہوجب کہ خود خالق کائنات نے قرآن مقدس میں آپ ﷺ کی سیرت پاک اور نعت‘ خاص کر آپ
کی عظمت و بزرگی کو بیان کیا ہے ۔سورہ حجرات کی ابتدائی آیتیں اس کی گواہ ہیں۔ اس
کے علاوہ دوسری جگہ قرآن مقدس میں ہے کہ اللہ اور اس کے فرشتے آپ پر درود و سلام
بھیجتے ہیں اس لیے اے مومنو تم بھی درود و سلام بھیجو۔
شعر
و شاعری کے حوالے سے بھی سیرت مصطفیٰ اور نعت نبی کو حیات طیبہ میں احاطۂ تحریر
میں لایا گیا ۔چنانچہ سب سے پہلی نعت تو وہ ہے جب ہجرت کے مبارک سفر کے موقع پر
آپ کا مدینہ منورہ میں داخلہ ہوا تو نجار کی لڑکیوں (جو آپ کی ننھیالی رشتہ دار
تھیں) نے اپنے مکان کی چھت پر دف بجا بجا کر آپ کی شان میں یہ نعت پڑھی اور آپ
کا استقبال کیا۔
طلع البدر
علینا ٭ من ثنیات
الوداع
وجب
الشکرعلینا ٭
ما دعا للہ
داع
اور
پھر آگے چل کرحمد و نعت نے ایک فن کی صورت اختیار کر لی۔چنانچہ سب سے پہلی منظوم
نعت صحابی رسول حسّان بن ثابتؓ نے لکھی۔
جس میں حضور اکرم ﷺ کے رخسار‘منور زلف و کاکل اور پیکر جمال کو اپنے عاشقانہ انداز
میں بیان کیا۔قصیدہ بردہ عربی کی مشہور کتاب ہے اسی میں یہ نعت موجود ہے۔اس کے
علاوہ تقریباََ ہر زبان میں نعت گو شعراء کی ایک جماعت تیار ہو گئی۔بالخصوص فارسی
میں بہت نعتیں لکھی گئیں۔ایسے شعراء کی تعدار بیشمار ہے۔جامیؔ‘سعدیؔ‘فریدالدین
عطارؔ اور اس قبیل کے کئی شعراء ہیں جنہوں نے نعت لکھی ہے۔
بلغ
العلا بکمالہ ٭ حسنت جمیع
خصالہ
یا
صاحب الجمال و یا سیدالبشر
من
وجہ کل منیر لقب نورالقمر
لا
یمکن الثنائے کما کان حقہ
بعد
از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
مرحبا
سید مکی مدنی العربی
دل
وجاں باد فدایت چہ عجب خوش لقبی
یہ
سب نعت کے مشہور زمانہ اشعار ہیں۔جن کی تفصیل کی گنجائش اس مقالے میں نہیں ۔حقیقت
یہ ہے کہ یہ ایسا موضوع ہے جس پر جتنا کچھ لکھا جائے کم ہے۔لیکن یہ یاد رہے کہ نعت
گوئی سہل اور آسان نہیں۔یہ کانٹوں بھرا راستہ ہے۔ہر لحظہ اور ہر قدم پر آداب
ملحوظ رکھنا پڑتا ہے۔خدا کی شان میں کوئی حرف بے جا ہو جائے تو وہ غفورالرحیم ہے
۔لیکن خود ذات باری تعالیٰ کو یہ گوارہ نہیں کہ اس کے محبوب کی شان میں کوئی حرف
بے جا کا استعمال ہو۔ اس میدان میں خوب سنبھل کر قدم رکھنا پڑتا ہے۔آپ ﷺ نے خود
فرمایا ہے کہ میرے رتبے کو اتنا نہ بڑھائو کہ خدا کی ہمسری کا درجہ حاصل ہو جائے
اور نہ اتنا گھٹا دو کہ اپنے برابر کر دو۔حالانکہ اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ
آپ خدا نہیں ہیںلیکن خدا کے بعد ساری خلقت میں آپ سب سے برتر اور بزرگی والے
ہیں۔اس تمہید کے بعد ہم اقلیم نعت کے ایک ایسے سفیر کا ذکر کرنے جا رہے ہیں جنہیں
فرحت حسین خوشدلؔ کے نام سے اردو دنیا میں جانا جاتا ہے۔جو بھاگلپور کے ہوتے ہوئے
ہزاری باغ جھارکھنڈکو اپنے قدوم میمنت لزوم سے مالا مال کیے ہوئے ہیں۔بقول سعید
ؔرحمانی:’’محمد فرحت حسین خوشدلؔ اسلامی
فکر کے حامل ایک خوش فکر شاعر ہیں۔صالح قدروں کا فروغ ان کا مطمع نظر ہے اور قرآنی ارشادات ان کی
شاعری کی اساس۔حالانکہ غزل اور دیگر اصناف سخن میں بھی انہوں نے اپنی جو لانیٔ فکر
کے جوہر دکھائے ہیں مگر فطری رجحان طبع اور ذہنی مناسبت کی رو سے حمدیہ نعتیہ
شاعری سے جذباتی وابستگی ہے اور اس صنف میں انہوں نے خاص پیش رفت بھی کر لی
ہے۔مجموعہ کی ابتدا انہی کی ایک حمد اور ایک نعت پاک سے کی جا رہی ہے‘‘۔(ایک شاعر
ایک غزل سلسلہ نمبر ۲
صفحہ ۸)
درج
بالا اقتباس اور ِ ان کی نعتوں کے مطالعے کے بعدمیں یہ بات کہنے میں حق بجانب
ہوںکہ خوشدل نعت گوئی کے فن میں یکتائے روزگار نظر آتے ہیںان کی کئی نعت میری نظر
سے گزری ہے۔ الفاظ کی جدت طرازی‘ خیالات کی ہم آہنگی اور جذبات کا اعتدال یہ سب
ان کی نعت میں پایا جاتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ قرآن و حدیث کا مطالعہ بھی
خوب ہے۔موصوف کی نعتوں میں‘ میں نے محسوس کیا ہے کہ ان کی نعت افراط و تفریط سے
پاک ہے۔انہیں سرحدالوہیت اور سرحد رسالت کا خوب خوب عرفان ہے۔وہ نعت لکھتے ہیں تو
لکھتے ہی چلے جاتے ہیں۔لگتا ہے نعت گوئی کے وقت ان پر الہامی کیفیت طاری ہو جاتی
ہے۔خیالات کا دریا ہے جو ان کی نعت میں موجزن نظر آتا ہے۔ایک نعت میں وہ خود
لکھتے ہیں ؎
مری
ہر نعت کا لہجہ نیا اوّل سے آخر تک
۔
مرا
ہر شعر ہے رب کی عطا اوّل سے آخر تک
میں
اپنے دل سے کچھ لکھتا نہیں مدح محمد میں
۔
ثنا
خواں ہوں بحکم کبریا اوّل سے آخر تک
یقینا
دور ہوں گے مسئلے سب عصر حاضر کے
۔
ترے
پیش نظر ہوں مصطفیٰ اوّل سے آخر تک
شفاعت
کی طلب سب کو یقینا حشر میں ہوگی
۔
نبی
کے عشق میں تو ڈوب جا اول سے آخر تک
وہی
ملجا و ماوی ہیں یقینا سن لے اے خوشدلؔ
۔
نبی
کا جو ہوا اس کا خدا اوّل سے آخر تک
موخرالذکر
شعر میں شاعر نے مسلم اُمّہ کو یہ درس دینے کی کوشش کی ہے کہ عصر حاضر کے تمام
مسائل دور ہو سکتے ہیں اگر ہمارے پیش نظر حضور اکرم ﷺ کا اسوہ ٔحسنہ اول سے آخر
تک ہو۔دوسرے شعر میں اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے یہ لکھا ہے کہ رسول ﷺ کی نعت
بحکم کبریا لکھتے ہیں۔شاعر کی تمنا ہے کہ وہ صبح و مساء یاد مصطفے اور نعت نبی میں
وقت کو گزارے اور اس کی شاعری میں صرف پیکر رحمۃللعالمین کا بیان ہو اس لیے وہ کہہ
اٹھتا ہے ؎
دل
میں یادِ خدا لب پہ نعتِ نبی صرف ایسی مجھے شاعری چاہیے
اس
سے زیادہ کی مجھ کو ضرورت نہیںلب پہ دن رات نعتِ نبی چاہیے
قصۂ
مختصر ذکر خیرالبشررحمت حق سے روشن ہوں قلب و جگر
پھر
عطا ہو مجھے روشنی کا سفرمجھ کو عقبیٰ کی بس بہتری چاہیے
شاعری
خاص کر نعت گوئی میں فصاحت اور سلاست کا ایک خاص رچائو کے ساتھ ہونا ضروری ہے۔ اس
نہج سے دیکھتے ہیں تو خوشدلؔ کو بلا شبہ زبان و بیان پر قدرت حاصل ہے اور لب و
لہجہ میں انفرادیت ہے۔میری ذاتی رائے یہ ہے کہ موصوف کی شاعری دماغ کی نہیں دل کی
ہے جو دلوں پر اثر کرتی ہے ۔ان اشعار کو دیکھیں
؎
جب
کبھی تذکرۂ شہرِ پیمبرجاگا
٭
آپ
آئے تو زمانے کا مقدر جاگا
ہو
سکے تو یہ صبح و شام کرو
٭
نعت
گوئی کا اہتمام کرو
جن
کو نسبت نبی سے ہے خوشدلؔ
٭
ان
کا تم دل سے احترام کرو
شاعر
مسلمانوں کے موجودہ حالات کو دیکھ کر بے چین ہو اُٹھتا ہے ۔وہ چاہتا ہے کہ مسلکی
مشاہدات سے اوپر اٹھ کر حبِّ رسول کا جو اصل تقاضہ ہے اسے پورا کیا جائے۔’’اُمَّت
مسلمہ کی فریاد‘‘ کے تحت ایک جگہ رقم طراز ہیں
؎
ہے
ہم کو آپ کے رب کا سہارا محترم آقا
۔
نہیںدنیامیں
کوئی بھی ہمارا محترم آقا
عمل
ہو آپ کے گر اسوۂ حسنہ پہ انساں کا
۔
چمک
جائے مقدر کا ستارا محترم آقا
بٹے
ہیں مسلکوں کے تنگ خیموں میں ابھی تک ہم
۔
خسارہ
ہی خسارہ
ہے ہمارا محترم آقا
خوشدلؔ
صاحب کی شاعری میں ندرت فکر اور مضامین میں جدت انفرادی آہنگ کے ساتھ پائی جاتی
ہے۔فکر کی گہرائی کے ساتھ گیرائی اور زبان و ادب میں میانہ روی کا انوکھا پن بھی
ہے۔
قرطاس
دل پہ جب لکھا نغمہ رسول کا ٭ لفظوں میں میں نے دیکھا سراپا رسول کا
ایمان
کی سلامتی کرتی ہے یہ طلب ٭
ہردم ہو میرے سامنے اسوہ رسول کا
عہد
گزشتہ لوٹ کے آئے گا ہے یقیں ٭
پورا اگر کریں گے تقاضہ
رسول کا
خوشدلؔ
صاحب میں اخلاقی قدریں بھی بڑی گہرائی کے ساتھ ہیں۔کوئی بھی شخص بہت جلد ان کا
گرویدہ ہو جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ قلیل مدت میں انہوں نے بہت جلد اپنا سکہ جما
لیا۔بحیثیت ادیب اور ناقد ان کی شناخت مستحکم ہو چلی ہے۔نعت کے علاوہ تقریباََ ہر
صنف سخن میں اپنا کمال دکھایا ہے۔ بالخصوص نعت گوئی اور حمد نگاری کی روایت کو نیا
لب و لہجہ عطا کر کے اور دل گداز مترنم آواز میں پڑھ کر ادبی دنیا میں اپنی منفرد
پہچان بنائی ہے اور بلند مقام حاصل کیا ہے۔عنقریب ہی موصوف کا مجموعہ حمد و مناجات
و نعت پاک ’’سمعنا و اطعنا‘‘ منظر عام پر آنے والا ہے۔میرے سامنے موصوف کی طویل
غیر مردف نعت ہے جس میں اٹھائیس اشعار ہیں۔اپنی بات اسی پر ختم کرتا ہوں اور دست
بدعا ہوں کہ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔ساتھ ہی گفتار اور کردار دونوں کے غازی بن
کر میدان عمل میں نعت گوئی کے توسط سے ان کی شناخت بنے۔ آمین!

0 تبصرے