افکار ہوں محرومِ ضیا ناممکن

افکار ہوں محرومِ ضیا ناممکن



میرے افکار ہوں محرومِ ضیا
ناممکن

وہ سکھائیں نہ مجھے طرزِ
ادا، ناممکن

سوے طیبہ درِ دل میں نے
کھلا رکھا ہے

میرے گھر آئے نہ طیبہ کی
ہوا، ناممکن

خانۂ دل میں ہیں مہمان
رسولِ عربی

غیر محرم کوئی آجائے بھلا،
ناممکن

صرف ہمت سوئے آں شاہدِ
اعظم کردم

بے خیال ان کے ہو سجدہ بھی
ادا، ناممکن

ان کی توہین اور امیدِ
شفاعت، توبہ

بے وفاؤں کو ملے دادِ وفا
، ناممکن

میرا دل ٹوٹا تو آواز سنی
دنیا نے

کیا نہ سُن پائیں گے وہ دل
کی صدا، ناممکن

سر ہو، سوداے محبت ہو، تیری
چوکھٹ ہو

ایسے میں دل نہ ہو سجدے میں
جھکا ناممکن

حشر میں جب کہ اُٹھے داغِ
محبت لے کر

پھر قمرؔ پائے نہ جنت کی
فضا، ناممکن

قمرالزماںقمراعظمی


 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے