کل رات مجھے خواب اک ایسا نظر آیا

کل رات مجھے خواب اک ایسا نظر آیا

کل رات مجھے خواب اک ایسا نظر آیا
جیسے کہ مجھے گنبدِ خضرا نظرآیا

ہر سمت حدی خوانوں کے نغمے تھے فضا میں
اُونٹوں کی قطاروں کا تماشا نظرآیا

لبیک کی آواز تھی ہر اک کی زباں پر
ہنستا نظر آیا کوئی روتا نظر آیا

ہر گام مچلتی نظر آتی تھیں ضیائیں
خورشید نظر آیا جو ذرہ نظر آیا

کچھ ایسے بھی راہی تھے کہ جو مہر بلب تھے
اُن میں سے ہر اک درد کا پُتلا نظر آیا

کچھ ایسے بھی تھے نعت بلب گرمِ سفر تھے
ان میں سے ہر اک عشق کا نقشا نظر آیا

بہزاد مگر ہاتھوں سے تھامے ہوئے دل کو
بیتاب سا مدہوش سا روتا نظر آیا
(بہزاد لکھنوی)

Post a comment

0 Comments