اس مبارک ماں پہ صدقے کیوں نہ ہوں سب اہلِ دیں (منقبت بحضور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا)

اس مبارک ماں پہ صدقے کیوں نہ ہوں سب اہلِ دیں (منقبت بحضور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا)

اس مبارک ماں پہ صدقے کیوں نہ ہوں سب اہلِ دیں (منقبت بحضور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا)
از مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ


اس مبارک ماں پہ صدقے کیوں نہ ہوں سب اہلِ دیں
جو ہو ام المؤمنیں بنتِ امیر المؤمنیں

جن کا پہلو ہو نبی کی آخری آرام گاہ
جن کے حجرے میں قیامت تک نبی ہوں جاگزیں

آستاں ان کا فرشتوں کی زیارت گاہ ہے
کیونکہ اس میں جلوہ فرما ہیں امام المرسلیں

آپ کے دولت کدہ میں دولتِ دارین ہے
اس زمین پر پھر نہ کیوں قربان ہو عرش بریں

کیا مبارک نام ہے کیسا پیارا ہے لقب
عائشہ محبوبۂ محبوبِ ربّ العالمیں

آپ صدیقہ پدر صدیق اور شوہر نبی
میکہ وسسرال اعلیٰ آپ خود ہیں بہتریں

کیوں نہ ہو رتبہ تمہارا اہل ایماں میں بڑا
سب تو ہیں مؤمن مگر ہیں آپ ام المؤمنیں

دی گواہی آپ کی عفت کی سورہ نور نے
مدح کرتا ہے تیری عصمت کی قرآنِ مبیں

ان کے بستر میں وحی آئے رسول اللہ پر
اور سلامِ خادمانہ بھی کریں رُوح الامیں

آپ کا علم وفقہ تحقیق قرآن وحدیث
دیکھ کر حیران ہیں سارے صحابہ تابعیں

ناز برداری تمہاری کیوں نہ فرماوے خدا
نازنینِ حق نبی ہیں تم نبی کی نازنیں

آیۂ تطہیر میں ہے ان کی پاکی کا بیاں
ہیں یہ بی بی طاہرہ شوہر امام الطاہریں

سالکِ خستہ تمہارا گو ہے نالائق مگر
ماں بُرے بیٹے کو اپنے سے جدا کرتی نہیں

(دیوانِ سالک)

Post a comment

0 Comments