اردو مرثیے میں نعت نگاری

اردو مرثیے میں نعت نگاری

پروفیسر قیصر نجفی۔ کراچی


اردو مرثیے میں نعت نگاری


مرثیہ اصنافِ سخن میں ایک ایسی صنف ہے، جسے جملہ اصنافِ سخن کا ملخص کہا جائے تو مناسب ہوگا۔ دوسرے لفظوں میں یہ بات یوں بھی کہی جاسکتی ہے کہ مرثیہ اپنے کینوس پر اتنا وسعت نشان ہے کہ جملہ اصنافِ سخن کی صوری و معنوی حسن کاری بہ آسانی کرلیتا ہے۔ خصوصاً حمد و نعت اور منقبت کے لیے مرثیے کے دامن میں بڑی گنجائش موجود ہے۔ حمد کی طرح نعت سے بھی مرثیے کو فطری مناسبت ہے۔ مرثیہ اُس مردِ حق کے کردار و سیرت کے بیان سے متصف ہے، جس کے لیے سرکارِ رسالتﷺ کا فرمان ہے:
حسین و منی و انا من الحسینی۔
حضرت امام حسین آغوشِ محمدﷺ کے پروردہ تھے اور اپنے عہد میں سرکار کی نیابت فرما رہے تھے۔ ان کا قول و فعل حضورﷺ کا قول و فعل ہے۔ مرثیے سے نعت کا تعلق وہی ہے جو خوش بو کا پھول سے ہوتا ہے۔ سرکار ختمی مرتبتﷺ ممدوحِ رب ہیں۔ مرثیہ نگاروں نے نعتِ رسول مقبولﷺ کو مرثیے کا ایک لازمہ تصور کرکے ثنائے رسولﷺ کی اس روایت کی پاسداری کی ہے جس کی بنیاد خدائے بزرگ و برتر نے اپنے کلام پاک میں رکھی ہے۔ میرانیسؔ کہ شاعر اعظم و سرتاج مرثیہ گویانِ پاک و ہند ہیں، اپنے مرثیوں میں عالمانہ وقار سے نعت کا التزام کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں:

فخرِ ملک و اشرفِ آدم ہے محمد
اکلیل سرِ عرشِ معظم ہے محمد
حقاً کہ خداوند دوعالم ہے محمد
آخر ہے مگر سب سے مقدم ہے محمد
ایسا کوئی محرم نہیں اسرار احد کا
حال اس سے ہے پوشیدہ ازل کا نہ ابد کا
بے سایہ جو مشہور وہ سلطانِ عرب ہے
پیش عقلا وجہ یہ ہے اور سبب ہے
ہے کون عدیل اس کی کہ وہ سایۂ رب ہے
دنیا میں کسی سایہ کا سایہ کہو کب ہے
ہے دوسری یہ وجہ کہ وہ جانِ جہاں ہے
بے سایہ ہے جاں، جاں کی طرح سایہ نہاں ہے
آدم ہے وجودِ شہ لولاک سے آدم
عالم سب اُسی شاہ کی ہستی سے ہے عالم
سر رشتۂ مہر اُس کا اگر ہوتا نہ محکم
تو ہوتے نہ اصنادِ عناصر کبھی باہم
کیا کیا کہوں کیا کیا ہیں عنایتِ محمد
ہے باعثِ ایجاد جہاں ذاتِ محمد
مستند روایت ہے کہ ایک بارحضورﷺ سے کسی نے پوچھا کہ اللہ نے سب سے پہلے کس چیز کو خلق کیا۔ آپ نے فرمایا، ’’اللہ نے سب سے پہلے میرا نور خلق کیا۔‘‘ میرانیسؔ نے سرکارﷺ کی اس حدیث کی ایک مرثیہ میں بڑی بالغ نظری سے تفسیر بیان کی ہے:
پہلے کیا جس چیز کو اللہ نے پیدا
لکھا ہے کہ وہ نورِ جنابِ نبوی تھا
دس سو برس اُس دن سے وہ نورِ شہِ والا
استادہ رہا رو بروئے خالقِ یکتا
گہ حمد و ثنا گہ صفتِ قدرتِ حق تھی
اُس نور پہ ہر دم نظرِ رحمتِ حق تھی
اُس نور سے فرماتا تھا یہ حضرت معبود
ہے خلق سے تو میری مراد اور مری مقصود
عزت کی قسم اپنی جو تو ہوتا نہ موجود
تو رہتی بنا عالم ایجاد کی نابود
پیدا کبھی کرتا نہ زمیں کو نہ فلک کو
دوزخ کو، نہ جنت کو، نہ آدم نہ ملک کو

اللہ تعالیٰ نے نبی اکرمﷺ کی ذات و وجود کا تعارف اپنے کلام میں ان لفظوں میں کرایا ہے۔ وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین۔ اس آیت کی تفہیم اگر تفکر سے کی جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ پروردگارِ عالم نے اپنے اس فرمان میں حضورﷺ کے کردار، سیرت اور اُسوۂ حسنہ کی روح کی نشان دہی فرمائی ہے بلکہ اہلِ دنیا کو یہ باور کرایا ہے کہ محمدﷺ کے قول و فعل سے کسی ذی روح کو گزند پہنچنا بعید از قیاس ہے، کیوںکہ وہ سر تا پا مجسم رحمت ہیں اور جہانِ امکان میں ان کا ورد اللہ کی رحمتِ کثیر کے ارتکاز کی ایک صورت ہے۔ اردو مرثیے میں مرزا دبیر نے اس نہایت اہم موضوع پر بڑے جوشِ عقیدت سے اظہار کیا ہے:
آفاق بہرہ ور ہوا حضرت کی ذات سے
آگاہ ذات نے کیا حق کی صفات سے
تصدیق حکم رب کی ہوئی بات بات سے
رفتار نے لگا دیا راہِ نجات سے
سیکھے طریقے قربِ خدا کے حضور سے
گم راہ آئے راہ پہ نزدیک و دُور سے
مصرف میں اک عبا کو شب و روز لاتے تھے
آدھی تو اوڑھتے تھے اور آدھی بچھاتے تھے
سائل کو اپنا قوت خوشی سے کھلاتے تھے
اُمت کے بھوکے رہنے کا خود رنج کھاتے تھے
ناداروں کا قلق سے افاقہ پسند تھا
اپنا اور اپنی آل کا فاقہ پسند تھا
لوحِ جبیں پہ سنگ لگا بد دعا نہ کی
بیگانوں کے گلے سے زباں آشنا نہ کی
اور عین عارضے میں نظر جز خدا نہ کی
بخشی شفا مریضوں کو اپنی دوا نہ کی
شکرانہ عافیت پہ، تحمل بلا پہ تھا
ہر حال میں نبی کو توکل خدا پہ تھا

یہ ایک تاریخی صداقت ہے کہ حضورﷺ کے بدن پاک کا سایہ نہیں ھتا۔ اس غیرمعمولی اہمیت کے حامل موضوع پر کم و بیش ہر نعت گو شاعر نے طبع آزمائی کی ہے۔ مگر جس فن کارانہ مہارت، فلسفیانہ اسلوب اور منطقیانہ استدلال سے میرانیسؔ اور مرزا دبیرؔ نے طبع آزمائی کی ہے۔ وہ منفرد نوعیت کی ہے۔ انھوںنے اپنے اعجازِ قلم سے حضورﷺ کے بے سایہ ہونے کو ایک ایسی فضیلت سے ثابت کیا ہے، جو کسی انسان تو کیا کسی نبی کو بھی نصیب نہیں ہوئی:
سر تا قدم لطیف تھا پیکر مثالِ جاں
اس وجہ سے نہ سایہ بدن کا ہوا عیاں
قالب میں سایہ ہوتا ہے ہر روح میں کہاں
سایہ انھیں کا ہے یہ زمینوں پہ آسماں
معراج میں جو واردِ چرخِ فہم ہوئے
سائے کی طرح راہ سے جبریل گم ہوئے
انداز ایک سائے کا ہر جا نیا ہوا
ظلمت میں خضر کے لیے آبِ بقا ہوا
جنت میں چشمِ حورکا وہ طوطیا ہوا
اوجِ ہوا میں شاہوں کی خاطر ہما ہوا
بالعکس یہ مقولے ہیں اہلِ شعور میں
اندھیرا جو سایہ ہو خالق کے نور میں
سایہ بدن کا پاسِ ادب سے جدا ہوا
محبوب سے ہمیشہ وصالِ خدا رہا
یہ عاشقِ خدا بھی خدا پر فدا رہا
سائے سے اپنے دورِ رسول ہدا رہا
دیکھو یہ باغ نظم جو رغبت ہو سیر کی
پرچھائیں تک نہیں یہاں مضمونِ غیر کی

اس امر مںی کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ حضورﷺ وجۂ وجودِ کائنات ہیں۔ یہ بات یوں بھی حقیقت ہے کہ یہ فرمانِ ربی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا آںحضرتﷺ کو باعثِ تخلیقِ دوجہاں قرار دینا اس ازلیو ابدی سچائی کا بالواسطہ اعلان ہے کہ بعدِ خدا دونوں جہان سرکارﷺ کے قبضہ و تصرف میں ہیں۔ اس حوالے سے ایک اشارے سے سورج کا پلٹنا اور چاند کا دو ٹکڑے ہوجانا ایسی دو شہادتیں ہیں جن سے صرفِ نظر نہیں کیا جاسکتا۔ صبا اکبر آبادی نے جن کے مرثیوں کی نمایاں خوبی تاریخی صداقت ہے، حضورﷺ کے بنائے کائنات ہونے کی صداقت میں اپنی معجزبیانی کا رنگ بھر کے تاریخ کو حسن آفرین بنا دیا ہے۔ مراجعت مہر اور شق القمر کے معجزات کی تعبیر کرتے ہوئے انھوںنے جس فنی چابک دستی کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابلِ رشک ہے:
آدم نہیں، ہبوط ہے آدم کا یادگار
باقی نہیں ہیں نوح، مگر نام برقرار
موسیٰ کہاں ہیں؟ ذکر ہے موسیٰ کا بار بار
عیسیٰ کی زندگی کی ہے شاہد ہنوز دار
فیضِ محمد عربی فیض عام ہے
ہے جس کے بس میں وقت، محمد کا نام ہے
منشائے احمدی ہے یہ رفتارِ کائنات
ان کی نظر سے گرمیٔ بازارِ کائنات
اُن کا کھلی کتاب ہیں اسرارِ کائنات
آقائے وقت، مالک و مختار کائنات
ان کی نگاہ محتسبِ صبح و شام ہے
وقت ان کی بارگاہ کا ادنیٰ غلام ہے
وہ اصل کائنات ہیں،جوکچھ ہے وہ فروع
اُن سے قیام و قاعدہ و سجدہ و رکوع
چاہیں اگر تو قصۂ ہستی ہو پھر شروع
کردیں غروب ہوتے ہوئے مہر کو طلوع
انکار کس کو حکمِ رسالت پناہ سے
شق القمر بھی دیکھ چکے ہیں نگاہ سے
کہہ دیں اگر وہ شام تو ہوجائے صبح، شام
نصف النہار میں ہو ستاروں کا اژدہام
نکلے بجائے مہر فلک پر مہِ تمام
ارشاد ہو تو شام کرے صبح کو سلام
ان کا مطیع سلسلۂ کائنات ہے
آزاد چھوڑ رکھا ہے یہ اور بات ہے
سرکارِ عصر، مالکِ کُل، آسماں سریر
ان کی کوئی مثال نہ ان کی کوئی نظیر
ان کا ارادہ نظمِ دوعالم سے باج گیر
ذرّاتِ راہ مہرِ منور، مہِ منیر
بے جان ان کے حکم سے لب کھولنے لگیں
آواز دیں تو سنگ و خذف بولنے لگیں

نعت نویسی کا ایک اہم پہلو حضورﷺ کے سراپا کا بیان ہے۔ تاریخ میں بیان کردہ شکل و شمائل کو اشعار کے آئینوں میں منعکس کرنا شاید سہل ہو، مگر قرآن کی روشنی میں جسد مبارک کی تصویرکاری کارِ محال ہے۔ قرآن میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے محبوب کو جیسے جیسے القابات و خطابات سے نوازا ہے اور جیسی جیسی تمثالوں سے مصور کیا ہے اُسے شعری پیکر میں ڈھالنا بلاشبہ ایک بڑا کام ہے اور نسیم امروہوی یہ بڑا کام کر گزرے ہیں:
مطلوبِ خدا، نورِ خدا مہرِ رسالت
جو جنس میں سرمایۂ نقاشِ مشیت
وحدت کا ورق، کلمۂ حق، آیۂ رحمت
قران بھی دیکھا کرے وہ نور کی صورت
بعد اُن کے جو ارسال و رُسل چھوڑ دیا ہے
گویا یدِ قدرت نے قلم توڑ دیا ہے
جو نورِ ازل، طورِ ابد ہیں وہ محمد
بندوں میں جو رحمت کی سند ہیں وہ محمد
جو منزل تنزیلِ صمد ہیں وہ محمد
جو عالمِ تخلیق کی حد ہیں وہ محمد
مر کر بھی جو باقی ہو وہ فانی نہیں کوئی
خالق کا شریک، آپ کا ثانی نہیں کوئی
رُخ سورۂ والشمس تو انکھیں وضحاہا
دل منزلِ مزمل و مدثر و طاہا
کیا چاہیے اب اور خود اللہ نے چاہا
پھر لطف یہ ہے چاہ سے چاہت کو نباہا
واللہ دوعالم میں دو ہائی ہے انھی کی
اللہ کے بندوں میں خدائی ہے انھی کی
ماتھا ہے کہ تقدیرِ الٰہی کا خزینہ
سجدے کا نشان تاجِ شفاعت کا نگینہ
رحمت کا ہے طوفاں کہ جبیں کا ہے پسینہ
ماتھے پہ شکن نوحِ غریباں کا سفینہ
ابرو کے اشارے سے بلا سب کی ٹلے گی
دیکھو یہی کشتی ہے جو کوثر پہ چلے گی
وہ زلف جو ایماں کے لیے حبلِ متیں ہے
کاکل ہے کہ اک آیت قرآن مبیں ہے
آغوش میں گیسو کی یہ رخسار حسیں ہے
یا صبح شب قدر کے دامن میں مکیں ہے
یہ آنکھ نہیں ابروئے پرتاب کے نیچے
ہے عینِ خدا کعبے کی محراب کے نیچے
پائے شہِ دیں حاملِ ایوانِ رسالت
سر صدر نشینِ حرمِ شانِ رسالت
دل نفسِ تو نفس جانِ رسالت
حسن نمکیں ذائقہ خوانِ رسالت
ایک ایک خط و خال ملاحت سے بھرا ہے
رنگِ رُخِ یوسف بھی ہے پھیکا، یہ مزا ہے

سیّد وحیدالحسن ہاشمی نے حمدِ خدا کی طرح نعتِ رسولِ مقبولﷺ میں بھی کئی مقامات پر استفہامی لہجہ اختیار کیا ہے اور بیان السطور ان سوالات کے دلائل و براہین سے شافی و کافی جوابات دیے ہیں جو پیغمبرِ اسلامﷺ کی ذات و صفات اور بعثت کے حوالے سے اُٹھاتے جاتے ہیں۔ سوال میں جواب کی جوت جگانا، ایک ایسا فن ہے، جو عصرِحاضر کے شعرائے مرثیہ میں ہاشمی صاحب سے مخصوص ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ وہ کہیں بھی عقیدے کے روزن سے اپنے موقف پر روشنی نہیں ڈ،التے بلکہ عقل و خرد کے نور سے اسے منور کرتے ہیں۔
کہتے ہیں آدمی ہے بہرحال محترم
سب ایک سے ہیں کوئی زیادہ کوئی نہ کم
قسمت لکھی گئی نہ مقدر ہوا رقم
فطرت نے سب کو ایک سے ساماں کیے بہم
جاہل کہو کسی کو نہ اہلِ خبر کہو
ہے آدمی، رسول کہو یا بشر کہو
لیکن یہ ناقدین سے پوچھے کوئی ذرا
قرآن کی رو سے معنیٔ تطہیر پھر ہیں کیا
جب آدمی کی فکر ہے آلودۂ خطا
کیوں اک بشر کو حقِ تصرف دیا گیا
نعرہ برابری کا ہے جب ہر زبان پر
کیوں مصطفی کو حق ہے زمانے کی جانح پر
جب عالمِ شہود کے انساں ہیں ایک سے
پھر اتباعِ حکمِ نبی کیوں کوئی کرے
جب آب و گِل بشر میں ہیں سلسلے
پھر کس طرح رسول سوئے لامکاں گئے
جب بندشیں کوئی نہیں رزقِ حلال پر
صدقہ حرام کیوں ہے محمد کی آل پر
جب آسمان سے کوئی اُترا نہیں بشر
شیریں جب ان میں کچھ ہیں تو کیوں کچھ ہیں تلخ تر
جب آسمان سے کوئی اُترا نہیں بشر
آدم کہاں سے آکے بسے ہیں زمین پر
فطرت نہیں یہ عہد میں جب کائنات کی
کس طرح پھر مسیح نے جھولے میں بات کی

سرکارِ رسالتﷺ کو دعائے مستجابِ خلیل بھی کہاجاتا ہے۔ اللہ جل شانہ نے اپنے خلیل کو ان کے صدق کا یہ صلہ دیا کہ ان کی ذرّیت میں نبوت کا شرف رکھ دیا۔ محمد عربیﷺ انھی کے فرزند تھے جو خاتم النّبیین اور سردارِ انبیا ٹھہرے۔ سیّد آلِ رضا نے اس قرآنی روشنی سے کس طرح اپنے ایوانِ فن کو منور کیاہے، ملاحظہ ہو:
وہ علم و خلق و عدالت کی ہر توانائی
وہ صدرِ قلزم و رحمت وہ اس کی گہرائی
دکھا رہی تھی یہ قول و عمل کی زیبائی
بشر کی شکل میں وحیٔ خدا اُتر آئی
جو آن تھی وہی تصویرِ حق پناہ ہی تھی
ثبوت کے لیے قرآن کی گواہی تھی
اس اہتمام کا حاصل پیامبر آیا
تمام پچھلے پیاموں کی خوبیاں لایا
انھی کو حسبِ ضرورت سجا کے پھیلایا
کمال درسِ شریعت پہ رنگ نو چھایا
یہ احتشام ہے اور لا الٰہ الا اللہ
اب اس کا نام ہے اور لا الٰہ الا اللہ
یہ تھی رواج رسالت پناہ کی وہ آن
جسے سمجھنا بھی ہر ایک کو نہ تھا آسان
مگر سہی تھی وہ طینت کی انفرادی شان
جسے برتنے کی خاطر بنے تھے کچھ انسان
انھیں کے حصے کی تائید حق نمائی تھی
تمام کار رسالت میں ہم نوائی تھی

نعتِ رسولﷺ جس کثرت سے فی زمانہ کہی جارہی ہے، قبل ازیں کبھی نہیں کی گئی، لیکن ایک کمی کل بھی نعت میں موجود تھی، وہ آج بھی پائی جاتی ہے۔ ہم بصد افسوس اس امر کا اعتراف کرتے ہیں کہ کل کی طرح آج بھی بیش تر نعت نگاروں کا کلام اُسوۂ سرکار دوعالمﷺ کے ذکر سے عاری ہے۔ حالاںکہ نعت نگاری کا بنیادی مقصد ہی حضورﷺ کی سیرتِ طیبہ کا بیان ہے۔ اس حوالے سے مولانا حالی کو اوّلیت حاصل ہے۔ جنھوںنے اپنی معرکۃ الآرا نظم ’’مدجزر اسلام‘‘ میں سیّد لولاک حضرت محمدﷺ کے مکارمِ اخلاق طرزِنو میں بیان کیے۔۔۔ علامہ طالب جوہری نے محبوبِ خداﷺ کی سیرت کے مختلف پہلوئوں کو آیاتِ قرآنی کی روشنی میں پیش کرکے اپنی انفرادیت کا احساس دلایا ہے۔ ان کے بعض نعتیہ بند تو قرآنی آیتوں کی تفسیر اور علم القرآن پر ان کی دسترس کی سند ہیں۔ علامہ صاحب کے نعتیہ بند بندش و ترتیبِ الفاظ اور زورِ بیان کا ایسا نمونہ ہیں، جس کی مثال معاصر مرثیہ نگاروں میں خالی خال ملتی ہے۔
جبریل ہو کے خم پئے تسلیم غلامی
تعظیم بجا لاے رسولان گرامی
انفس میں مچلنے لگی بیدار خرامی
آفاق نے دی دینِ محمد کو سلامی
اس شخص نے یوں پرورشِ فکرِ بشر کی
ٹیلوں سے فلک بوس فصیلوں پہ نظر کی
تشکیک کے ہر موڑ سے اذہان کو موڑا
جو بت تھے کمانوں کے انھیں علم سے توڑا
ٹوٹے ہوئے تہذیب کے ہر تار کو جوڑا
جذبوں کو کھنگالا کبھی فکروں کو نچوڑا
ایقان کی تہ جمنے لگی سطحِ گماں پر
کردار سے صیقل ہوئی آئینۂ جاں پر
ظاہر ہوئے ہر رنگ میں آثار نبوت
لیکن تھی دلوں کو ابھی ایقاں کی ضرورت
چل کر شجر آیا پئے تصدیقِ رسالت
یوں ذہن سے کھرچی گئی ظلمت کی کثافت
ہمت شکن اعجاز نے بے جان کو جاں دی
پتھر نے محمد کی ہتھیلی پہ اذاں دی

حضور اکرمﷺ کے صفاتی ناموں میں ایک نام ’’سراج منیر‘‘ ہے اہلِ علم جانتے ہیں کہ رسول کریم کے حوالے سے یہ نام ایک نہایت بلیغ استعارہ ہے۔ بلاشبہ جو نام اللہ کی طرف سے عطا کیا گیا ہو، اس کی معنوی وسعت کا احاطہ کرنا بشری اختیار سے باہر ہے۔ ڈاکٹر ہلال نقوی نے رکارﷺ کے اس صفاتی نام کی اپنے مرثیے ’’چراغ‘‘ میں فکر و نظر کے ایک نئے رُخ سے تعبیر کی ہے جو اردو ادب میں نہ صرف ایک اضافہ ہے بلکہ قرآن فہمی کی ایک روشن مثال بھی ہے:
روشن ہوا چراغ، درِ معرفت کھلا
چمکا بہر ادا، بہ لبِ ربی العلا
ذکرِ رسول میں یہ بڑی عظمتوں کے ساتھ
میزانِ استعارہ و تشبیہ پر تلا
کب ہے جدا یہ ذکرِ رسول قدیر سے
قرآں دمک اُٹھا ہے سراجِ منیر سے
اب مقصد سفر کا تقدس ہے یہ چراغ
منزل نشاں بہ راہِ تجسّس ہے یہ چراغ
سوچو اگر تو ذات رسالت مآب کا
اب کس قدر بلیغ تشخص ہے یہ چراغ
دل کی یہ لَو نہیں ہے دیا ہے اصول کا
فانوس کائنات ہے سینہ رسول کا
اے کاروان بے خبراں، سن بہ غور سن
اس روشنی میں آ، گہرِ اعتراف چن
اس روشنی کی حد میں کھنچے ہیں ازل ابد
لہرا رہی ہے لَو بہ سرِ ارتفاعِ کن
اس نقشِ اوّلیں کا حوالہ ہے یہ چراغ
صبح ربوبیت کا اُجالا ہے یہ چراغ
اس افہام کی جلا ہے یہ تفہیم کا چراغ
اعمال میں کرامت و تکریم کا چراغ
حرفِ یقیں کی گونج میں مینارۂ اذاں
خوش قامتی میں احسنِ تقویم کا چراغ
ربطِ خدا جو ذاتِ محمد کے ساتھ ہے
محرابِ بندگی بھی اسی قد کے ساتھ ہے
ظاہر ہے فیضِ مرحمتِ رافع و رئوف
اس نورِ اوّلیں سے چھلکنے لگے ظروف
سطروں کو یہ چراغ اگر روشنی نہ دے
چمکیں نہ سطحِ فہم پہ قراں کے بھی حروف
کھولے زباں خرد، نہ بساط یقین پر
گونگی رہے مشیتِ یزداں زمین پر
جو فکر ہے، وہ فکر، حدِ دانشِ شعور
جو امر ہے، وہ امر، خلف نامۂ اُمور
جو قول ہے، وہ قول، تجلائے دُر فشاں
جو حرف ہے، وہ حرف، چراغِ حدیثِ طور
اس نور کا جمال جو طاقِ نظر میں ہے
اس روشنی کی لہر ہمیشہ سفر میں ہے

ربّ العزت نے حضور سرورِ کائناتﷺ کے سر مبارک پر اپنی محبوبیت کا تاج بھی رکھا ہے۔ یہ وہ رُتبہ و اعزاز ہے، جو پوری انسانیت میں بجز سرکارﷺ کسی کو نصیب نہیں ہوا۔ اپنے حبیبﷺ سے اُس ذاتِ والا صفات کی محبت کا یہ عالم تھا کہ شبِ اسرا نہیں اس قدر اپنے قریب کرلیا کہ سوائے خالق و مخلوق کے فاصلے کے دونوں کے درمیان اور کوئی فاصلہ باقی نہ رہا۔ قوسین کی دُوری تو کوئی دُوری ہی نہیں تھی۔ محب و محبوب کے اس وصال کو شاہد نقوی نے خوب صورت منطقی استدلال کے ساتھ اپنے اور ہمارے عقیدے کا جزو بنایا ہے اور اس تناظر میں پیدا ہونے والے تمام تر وسوسوں اور اوہام کو رد کردیا ہے:
ایک دن فکر نے اک نور اُفق پر دیکھا
چشمِ تخئیل نے معراج کا منظر دیکھا
روح بالیدہ ہوئی، جسمِ پیمبر دیکھا
وہ بلندی تھی جہاں عرش کو جھک کر دیکھا
سطحِ کونین سے آئی ہوئی راہیں ٹھہریں
قاب قوسین کی منزل پہ نگاہیں ٹھہریں
کچھ جب کیف کا عالم تھا نگاہ و دل پر
ہر طرف نور کی خنکی تھی بہ اندازِ سحر
تابشِ جلوہ سے جمتی تھی نہ ہٹتی تھی نظر
نہ قدم آگے ہی بڑھتے تھے نہ رُکتا تھا سفر
فکر پر خواب کا عالم تھا نہ بیداری تھی
مہر بر لب تھا مگر حمدِ خدا جاری تھی
گوشِ دل نے یہ سنی ایک سکوں پاش صدا
تو تو کہتا تھا کہ محدود نہیں ربّ علیٰ
قاب قوسین کے اس فعل کا پھر مطلب کیا
اس طرف جسمِ محمد ہے اُدھر ذاتِ خدا
دونوں نقطوں میں جو قوسین کی یہ دُوری ہے
یہ ارادی ہے کہ طرفین کی مجبوری ہے
آئی آواز یہ شک تجھ کو سزا وار نہیں
تیرے ایماں کی بصیرت ابھی بیدار نہیں
قاب قوسین کا مفہوم تو دُشوار نہیں
اک علامت ہے، یہ رستہ نہیں دیوار نہیں
استعارہ ہے یہ خلاق کا اور خلقت کا
ایک پیرایہ ہے اظہارِ عبودیت کا
میں نہ یہ فاصلہ خود واجب و ممکن رکھا
حق ادا کرنا تھا تسلیم عبودیت کا
شکرِ معبود عمل سے ہوا یہ فرض ادا
یعنی وہ روح عبادت وہ مکمل سجدہ
دیکھ کر میرے قدم کیوں تجھے حیرانی ہے
سوچ امکان کے کس نقطے پہ پیشانی ہے
یہ وہ نقطہ ہے، جو ہے آخری حدِ امکاں
یک سرِ مو نہیں بڑھ سکتا ہے یہ نقطہ یہاں
ہے جبیں پر مری اس نقطئہ آخر کا نشاں
ختم ہوتی ہیں حدیں میری رسالت ہے جہاں
قاب قوسین سے کیوں ہے یہ تحیر دل میں
کیا اُبھرتا نہیں سجدے کا تصور دل میں
شب معبود کہ حاصل ہوئی تنویرِ یقیں
ذہن میں اب کوئی وسواس کوئی وہم نہیں
قاب قوسین اگر کہتا ہے قرآنِ مبیں
صرف اتنا ہے کہ خم ہوسکے بندے کی جبیں
ان کی معراج کہ معبود کی قربت دیکھی
میری معراج کہ معراج کی طلعت دیکھی

حضورﷺ درس گاہِ ایزدی سے فارغ التحصیل تھے۔ آپ کو ’’اُمی‘‘ بھی اسی بنیاد پر کہا گیا ہے۔ کیوںکہ آپ نے زندگی بھر نہ تو کسی انسان کے آگے زانوئے تلمذ تہ کیا اور نہ ہی کسی دنیوی تعلیم گاہ سے اکتسابِ علم کیا۔ آپ کا تمام تر علم جو بلاشبہ ’’کلِ علم‘‘ تھا، وہبی، فطری اور جبلی تھا۔ آپ عالم الکتاب تھے اور علم الکتاب کل بھی تمام علوم کو محیط تھا اور آج بھی ہے۔ اس حوالے سے سردار نقوی کے چند بند ملاحظہ ہوں:
عارفِ کنزِ حقیقت وہ رسول اُمی
جس کو رحمن سے قرآن کی تعلیم ملی
اس نے سمجھایا کہ ہے علم کی معراج یہی
عقل سلیم کرے دل سے اطاعت میری
میں بہ معیارِ عمل ضابطۂ علمی ہوں
عبد و معبود میں اک رابطۂ علمی ہوں
مرکزِ حق سے اگر فکر کا رشتہ ٹوٹا
سچ تو یہ ہے کہ ہوا علم کا دعویٰ جھوٹا
راہِ عرفاں میں جہاں دامن رہبر چھوٹا
رہزنِ شک نے وہیں سارا اثاثہ لوٹا
دولتِ علم گنوا کے جو تہی دست ہوئے
چشمِ قرانی میں چوپایوں سے بھی پست ہوئے
منزلِ حق ہے تعقل کے سفر کی منزل
اس سے پیمانِ وفا فکرِ بشر کی منزل
ہے وہی علم کی ہر راہ گزر کی منزل
وہی سورج ہے تمنائے سحر کی منزل
اس سے کٹ جائے تو کعبہ بھی صنم خانہ ہے
علم پھر علم کہاں جہل کا افاسنہ ہے

قرآن حمدِ رب بھی ہے اور نعتِ رسولﷺ بھی۔ جس طرح یہ کتاب ہدایت کائنات کی پہلی حمد ہے اسی طرح کائنات کی پہلی نعت بھی ہے۔ حمد تو اللہ نے حضورﷺ کے لبِ اعجاز آفریں اور دہنِ شگفتہ و شیریں سے کہلوائی ہے۔ مگر نعت میں اپنا لہجہ استعمال کیا ہے۔ راقم الحروف نے سرکارِ دوعالمﷺ کی مدح سرائی کرتے ہوئے اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کیا ہے:
یہ کائنات کیا ہے فقط نعتِ مصطفیٰ
اللہ نے جسے ورقِ وقت پر لکھا
صبحِ ازل سے مدح و ثنائے رسول کا
گرمِ سفر ہے سینۂ گیتی پہ قافلہ
اس قافلے کی کوئی بھی حدِ سفر نہیں
وہ کون جا ہے اس کی جہاں پر گزر نہیں
ممدوحِ کبریا ہے شہِ انبیا ہے وہ
آئینۂ صفات میں عکسِ خدا ہے وہ
حق آشنا و حق نگر و حق نما ہے وہ
طاہر نفس و پاک تن و مصطفا ہے وہ
اُس کی ثنا کا کون ہے جو حق ادا کرے
ممکن کہاں ثنا کوئی مثلِ خدا کرے
وسعت نشاں ہے اسمِ محمد کا دائرہ
اللہ کی ہے رحمتِ بے حد کا دائرہ
حکم و رضا مرضیٔ ایزد کا دائرہ
انساں کی منفعت کی ہر اک مد کا دائرہ
یہ دائرہ پناہ گہِ کائنات ہے
اس دائرے کا نام فصیلِ حیات ہے
چمکا جبینِ عرش میں اس نام کا نگیں
ہفت آسماں کے ساتھ ہی روشن ہوئی زمیں
از فرش تا بہ عرش تھی ہر ایک شے حسیں
یہ جب کی بات ہے کہ نہ تھے مہرومہ کہیں

معمور نورِ حق سے جو تھے سر بسر حضور
ہر سمت کائنات میں تھے جلوہ گر حضور
جس نام پر خدا کا درود و سلام ہو
کیوں حرزِ جاں ہمارا نہ وہ پاک نام ہو
ورد زباں یہ نام اگر صبح و شام ہو
کوئی بھی نامراد نہ ہو شاد کام ہو
اس نام کے اُجالے ابد تک دکھائی دیں
یہ زیست کے حوالے ابدتک دکھائیںدیں
احمد اگرچہ عرشِ بریں پر تھا اُس کا نام
آیا زمین پر تو محمد سا پایا نام
کس کو ہوا نصیب زمانے میں ایسا نام
خالق نے خود حبیب کا اپنے یہ رکھا نام
یہ نام اصل میں ہے دوعالم میں پہلی نعت
سرکار کی ثنا میں خدا نے یہ لکھی نعت
{٭}

Post a comment

0 Comments